Asar Ka Masnoon Waqt Kya Hai? Mukammal Maloomat\عصر کا مسنون وقت

عصر کا مسنون وقت

عصر کا مسنون وقت
عصر کا مسنون وقت

​(99) (الف) جب ہر چیز کا سایہ (اصل سایہ کے علاوہ) دو گنا ہو جائے تو عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور غروبِ آفتاب تک رہتا ہے، لیکن جب آفتاب بہت نیچے اور زرد ہو جائے تو اس وقت نماز مکروہ ہوتی ہے۔
​(ب) عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً. (ابوداؤد: وقت صلاة العصر)
​”حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے تو آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ عصر کی نماز کو مؤخر فرماتے۔ جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا۔”
​(ج) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ… الحديث (موطا امام مالک: وقوت الصلاة)
​”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تیرا سایہ تیرے برابر ہو جائے تو ظہر کی نماز پڑھ اور سایہ دو گنا ہو جائے تو عصر کی نماز پڑھ۔”
​(د) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ. (مسلم: استحباب التبكير بالعصر)
​”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز پڑھ چکتے، پھر…”​جانے والا جب وہاں پہنچتا تو سورج ابھی اونچا ہی ہوتا۔”
​{ مغرب کا مسنون وقت }
​(67) آفتاب غروب ہوتے ہی نمازِ مغرب کی ادائیگی مسنون ہے اور بلا عذر تاخیر مکروہ ہے۔
​عن سلمة رضی الله عنه قال: كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم المغرب إذا توارت بالحجاب.
(بخاری: وقت المغرب)
​”حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورج چھپتے ہی ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔”
{ عشاء کا مسنون وقت }
​(68) تقریباً ایک تہائی رات تک مستحب وقت ہے، اس وقت میں رہتے ہوئے جس قدر زیادہ تاخیر ہو وہ مسنون ہے۔
​حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اگر مجھے امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ضرور حکم دیتا کہ نمازِ عشاء کو رات کے ایک تہائی یا نصف حصہ تک مؤخر کیا کریں۔” (حسن صحیح، ترمذی: تاخیر صلوة العشاء)
{ فجر کا مسنون وقت }
​(69) فجر کا وقت صبحِ صادق سے شروع ہو کر طلوعِ آفتاب تک رہتا ہے۔ اگر اس وقت کے دو حصے کیے جائیں تو اصطلاحِ شریعت میں پہلا نصف غَلس اور دوسرا اسفار کہلاتا ہے۔ اکثر و بیشتر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسفار میں نماز پڑھتے تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اسفار میں نماز پڑھنے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔
​عن رافع بن خديج قال قال رسول الله صلى الله عليه…​وسلم : أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر.
(حسن صحیح ترمذی: ما جاء في الإسفار بالفجر)
​”حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی نماز کو خوب روشنی ہونے پر (اسفار میں) پڑھو / اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔”
​نواب صدیق حسن خان اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
“پس بدرستیکہ اسفار بہ فجر بزرگ تر است برای فرد و ثواب شمار زیرا کہ ثواب نماز بقدر ثواب جماعت است: جماعت در اسفار زیادہ می باشد از تغلیس غالباً۔” (مسک الختام – ج 1، ص 443)
​یہ صحیح ہے کہ فجر کی نماز اسفار کی حالت میں پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ چونکہ نماز کا ثواب جماعت کے ثواب کی مناسبت سے ہوتا ہے اور اسفار میں نماز پڑھنے سے عموماً شرکائے جماعت کی تعداد تغلیس میں نماز پڑھنے کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
​{ (ب) اسلاف امت کا عمل }
​وقد رأى غير واحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين الإسفار بصلاة الفجر.
(ترمذی: باب ما جاء في الإسفار بالفجر)
​”اور اسی پر جمہور حضراتِ صحابہ کا عمل تھا اور اکثر صحابہ اور تابعین نمازِ فجر کو اسفار میں پڑھنے کے قائل تھے۔”

Leave a Comment