Azan Ka Bayan | Azan Kaise Di Jati Hai? | Azan Dene Ka Sahih Aur Masnoon Tariqa\​اذان کا بیان

 

​اذان کا بیان

 

​اذان کا بیان
​اذان کا بیان

​(۷۱) اذان کی فضیلت و اہمیت
​حضرت طلحہ کے چچا کہتے ہیں میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع دی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ “اذان دینے والوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے لمبی ہوں گی۔” (مسلم: باب فضل الاذان)
​(۷۲) تاریخ اذان
​ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع کے لئے کون سا طریقہ عمل میں لایا جائے؟ اس دور کے وسائل کے مطابق بعض نے یہ رائے دی کہ جب نماز کا وقت آئے تو پہاڑ کی چوٹی پر آگ جلا دی جائے- یہ دیکھ کر ہم سب جمع ہو جایا کریں گے۔ بعض نے کہا کہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر یا گلیوں میں گھوم کر کوئی شخص بلند آواز سے نماز کا اعلان کرے، بعض نے ناقوس کی آواز پر جمع ہونے کا مشورہ دیا۔
​ایک رات حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کو خواب میں اذان کا منظر دکھایا گیا۔ انہوں نے آ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ کو پسند فرمایا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اسی نہج پر اذان دینے کا حکم دیا۔​قرآنی تصدیق: قرآن کریم میں اذان کے اس طریقے کی تصدیق کی گئی ہے (سورۃ المائدہ: 58 کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو بعض لوگ اس کا مذاق بناتے ہیں کیونکہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے)۔
​کلماتِ اذان:
​الٰہی تعیین: اذان کے کلمات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اور رسول اللہ ﷺ کے پسندیدہ ہیں۔
​حرمین شریفین کی سنت: آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں یہی اذان حرمین شریفین کی فضاؤں میں گونجتی رہی۔
​اسلاف کا عمل: صحابہ، تابعین اور اسلاف امت نے اسی اذان کو بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے اپنائ رکھا۔
​حاشیے کا مضمون (مفہوم):
​اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ اذان وہی مسنون اور منقول ہونی چاہیے جو عہدِ نبوی میں شائع تھی۔
​بعض گروہوں کی طرف سے اذان میں اضافی کلمات شامل کرنے پر بحث کی گئی ہے اور یہ وضاحت کی گئی ہے کہ حدیث کے ذخیرے میں ایسے اضافی کلمات کا ثبوت نہیں ملتا۔
​تاریخی حوالے کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ادوارِ خلافت میں بھی یہی مسنون اذان برقرار رہی۔​صاحب مجالس فرماتے ہیں:
قد غیرت هذه السنة في هذا الزمان في اكثر البلدان لأن أهلها يؤذنون بأنواع النغمات والإلحان…. ثم إنهم لحرصهم على التغني لم يكتفوا بكلمات الأذان بل زادوا عليها بعض الكلمات من الصلوة والتسليم على النبي صلى الله عليه وسلم وإن كان مشروعا بنص الكتاب والسنة وكان من أكبر العبادات وأجلها لكن اتخاذها عادة في الأذان على المنارة لم يكن مشروعاً إذ لم يفعلها أحد من الصحابة والتابعين ولا غيرهم من أئمة الدين وليس لأحد أن يضع العبادات إلا في مواضعها التي وضعها فيها الشرع ومضى عليها السلف ألا ترى أن قراءة القرآن مع كونها من أعظم العبادات لا يجوز للمكلف أن يقرأها في الركوع ولا في السجود ولا في القعدة لأن كلا منها ليس محلاً. (مجالس الأبرار – ص ۳۰۷)
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ:
لہٰذا ایسے الفاظ جو خیر القرون میں نہیں یقیناً سیاسی یا مذہبی گروہ بندی کا نتیجہ ہیں اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ مشہور شیعہ محقق شیخ طوسی نے کتاب “الاستبصار” کے باب عدد الفصول في الأذان والإقامة (کلمات اذان واقامت) کی حدیث نمبر ۲، ۳، ۴، ۵ میں کلمات اذان واقامت کا ذکر کیا ہے لیکن مندرجہ بالا کلمات شہادت کا ذکر نہیں۔
​(محمد بن حسن طوسی: الاستبصار – ج ۱ – ص ۳۰۵)
​بلکہ شیعہ کے رئیس المحدثین ابو جعفر محمد علی الصدوق المتوفی ۳۸۱ھ نے “من لا يحضره الفقيه” باب الأذان والإقامة کی حدیث نمبر ۳۵ میں پوری اذان درج کی ہے، جس میں “حی علی الفلاح” کے بعد صرف “حی علی خیر العمل” کا اضافہ ہے اس کے بعد وہ لکھتے ہیں:
​قال مصنف هذا الكتاب: هذا هو الأذان الصحيح لا يزاد فيه ولا ينقص منه، والمفوضة لعنهم الله قد وضعوا أخباراً وزادوا في الأذان “محمد وآل محمد خير البرية” مرتين وفي بعض رواياتهم بعد “أشهد أن محمداً رسول الله” “أشهد أن علياً ولي الله” مرتين ومنهم من روى بدل ذلك “أشهد أن علياً أمير المؤمنين حقاً” مرتين. ولا شك في أن علياً ولي الله وأنه أمير المؤمنين حقاً وأن محمداً وآله صلوات الله عليهم خير البرية ولكن ليس ذلك في اصل الأذان.
​ابو جعفر الصدوق: فقيه من لا يحضره الفقيه – ج ۱ – ص ۱۸۸۔
​باقی اگلے صفحہ پرنمازِ پیغمبر ﷺ
​”آج کل اکثر مقامات پر مسنون اذان میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ اولاً تو یوں کہ مؤذن لوگ اذان کے کلمات کو گا گا کر مختلف لہجوں میں ادا کرتے ہیں۔ پھر جب راگ و رنگ کے دلدادہ طبقہ کے ذوق کی تکمیل نہ ہوئی تو انہوں نے اذان کے موجودہ کلمات کو نا کافی سمجھا اور درود شریف کا اضافہ کر لیا (اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہند و پاک میں اذان سے قبل یہ اضافہ لاؤڈ سپیکر کے بعد کی پیداوار ہے) گو کہ درود شریف کا پڑھنا قرآن و سنت کی رو سے مستحسن اور بہت بڑی عبادت ہے، لیکن اسے اذان کا جزو بنا لینا جائز نہیں۔ اس لئے کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم، حضرات تابعین رحمہم اللہ اور دیگر ائمہ و فقہاء امت میں سے کسی نے بھی ایسا نہیں کیا۔ شریعتِ اسلامیہ نے عبادات کو جس مقام و جس کیفیت پر رکھا ہے، خصوصاً جس پر اسلاف امت کا عمل جاری ہے اس میں تبدیلی کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ اس مسئلہ کی توضیح کے لئے یہ مثال کافی ہے کہ ”تلاوتِ کلامِ پاک باوجود یہ کہ بہت بڑی عبادت ہے، لیکن کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ رکوع، سجدہ یا قعدہ میں قرآن پڑھے کیونکہ ان میں سے کوئی جگہ بھی تلاوت کا محل نہیں ہے۔“
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ — اس کتاب کا مصنف کہتا ہے کہ یہی وہ صحیح اذان ہے جس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے اللہ تعالیٰ شیعہ کے فرقہ مفوضہ پر لعنت بھیجے کہ انہوں نے احادیث گھڑی ہیں اور اذان میں محمد و آل محمد خیر البرية کا اضافہ کیا ہے اور بعض میں انہوں نے اشھد ان محمدا رسول اللہ کے بعد اشہد أن علياً ولی الله کا جملہ دو دفعہ بڑھا لیا ہے۔ جب کہ بعض نے اشھد ان علیاً امیر المؤمنین حقاً کا جملہ دو دفعہ بڑھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علی اللہ کے ولی ہیں اور وہ برحق امیر المؤمنین ہیں اور محمد ﷺ اور ان کی آل مخلوق میں بہتر ہیں، لیکن یہ کلمات اذان کا حصہ بالکل نہیں۔
​الغرض سابقہ تحقیق سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ شہادتِ علی کے مروجہ کلمات اذان کا حصہ نہیں بلکہ شیعہ محدث نے تو ایسا کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔
​اب اہل تشیع کی اذان کے ردِ عمل میں اگر کوئی شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تعریف و منقبت کے طور پر اذان میں اضافہ کرے تو یقیناً یہ اضافہ بھی بدعت اور غیر مسنون شمار ہوگا باقی اگلے صفحہ پرد) صاحبِ مجالس کا یہ اصول بڑا وزنی اور واضح ہے کہ جن عبادات کی کیفیت و حیثیت متعین ہے ان میں حذف یا زیادت کا اختیار کسی کو نہیں۔ اس کی ایک اور واضح مثال یہ ہے کہ جو شخص نمازِ ظہر کے پہلے قعدہ میں تشہد کے بعد عمداً درود شریف پڑھے گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر بھول کر پڑھے تو سجدہ سہو کرنا ہو گا۔
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ:
چونکہ اسلام نے سنت و بدعت کا جو معیار قائم کیا ہے وہ مسلک و مشرب اور شخصیات کی جکڑ بندیوں سے بالاتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی سنی بھی اسلامی عبادات میں اضافہ کرے گا تو یہ اضافہ بدعت اور خلافِ سنت ہی ہو گا۔
​اذان سے پہلے درود
​پاک و ہند میں بعض مبتدعین نے اذان سے قبل درود شریف کا اضافہ کیا۔
​۱- جائزہ از روئے قرآن
​ارشادِ باری ہے:
​إن الله ومَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب آیت نمبر ۵۶)
​اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی ان پر درود و سلام پڑھا کرو۔
​یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور کون ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بڑھ کر اس کے مفہوم و مراد سے واقف ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسبِ عادت یہ آیت بھی حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو سمجھائی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کی تعلیمات کے مطابق اس پر عمل کیا۔ اگر اس آیت کے مفہوم میں اذان سے قبل درود شریف پڑھنا بھی ہوتا تو یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلاتے اور حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم ضرور اس پر عمل پیرا ہوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں اذان سے قبل درود شریف نہ پڑھا گیا۔
​آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم قرآنی مفاہیم سے بخوبی واقف تھے۔ جن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما جیسے سید المفسرین بھی موجود تھے۔ اس کے باوجود حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اذان سے قبل درود شریف نہ پڑھا۔ معلوم ہوا کہ اذان سے قبل درود شریف قرآنی نقطہ نظر سے صحیح نہیں۔
​اب اگر اس دور میں کوئی شخص اس درود کو آیت کے مفہوم میں داخل کرے تو بارگاہِ الٰہی کی گستاخی ہوگی، کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذان کے جو کلمات عطا ہوئے—ان میں ایک چیز کی کمی تھی جسے اب پورا کیا گیا۔ نیز اس سے بارگاہِ رسالت کی گستاخی ہوگی کہ یا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت کا مکمل مفہوم معلوم نہ تھا یا معلوم تھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نہیں بتلایا۔
​باقی اگلے صفحہ پرچونکہ قعدہ اولیٰ میں درود شریف نہیں قعدہ ثانیہ میں ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ شریعتِ اسلامیہ نے جہاں درود شریف متعین کیا ہے اس کو وہاں سے ہٹانا جائز نہیں اور جہاں متعین نہیں وہاں بڑھانا جائز نہیں۔
​مصحح و محقق علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں اس بات کی تصریح کی ہے، ملاحظہ ہو:
​أو تأخير القيام إلى الثالثة بسبب الزيادة على التشهد ساهياً ولو بحرف من الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم۔
(فتح القدیر – ج ۱ – ص ۵۰۲)
​اگر تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہونے میں تاخیر ہو گئی اور بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ:
نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں جو اذان دی جاتی تھی وہ قدرے قابلِ اصلاح تھی اور درود شریف کے اضافے کی متقاضی تھی۔
​نیز اس سے شانِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں گستاخی ہوگی کہ یا تو وہ قرآنی مراد سے ناواقف تھے یا واقف ہونے کے باوجود انہوں نے اس محبوب عمل کو چھوڑ رکھے۔
​۲- جائزہ ازروئے سنت
​(الف) مسنون اذان کی تمام تفصیلات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دی تھیں۔ مؤذن کا انتخاب، اذان کے دوران جواب، اذان کے بعد کی دعا وغیرہ۔
​اگر اذان سے قبل درود شریف مسنون و مستحب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو یہ بھی بتا دیتے، لیکن ذخیرہ احادیث میں کہیں بھی اس کا پتہ نہیں ملتا۔
​اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ ہمیں بھی وہی اذان پسند ہو جو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھی۔ ہم وہی مسنون اذان دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں حرمین شریفین و دیگر مساجد کی مقدس فضاؤں میں گونجتی رہی۔
​(ب) عشق و محبت کے زبانی داعی نہیں بلکہ کردار و عمل کے غازی اپنے تن من دھن کو قربان کر دینے والے سچے محب اور عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ اگر اذان میں یہ اضافہ کسی درجہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا سبب ہوتا تو سب سے پہلے یہ کام حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کرتے۔ خصوصاً بارگاہِ رسالت کے مؤذنین جن میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ، باقی اگلے صفحہ پرمسنون اذان کے کلمات
​(۷۳) الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، اشهد أن لا إله إلا الله، اشهد أن لا إله إلا الله، اشهد أن محمداً رسول الله، اشهد أن محمداً رسول الله، حي على الصلوة، حي على الصلوة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله اكبر، الله اكبر، لا إله إلا الله۔
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، سلمۃ بن اکوع رضی اللہ عنہ، حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ چونکہ وہ بارگاہِ رسالت کے مزاج آشنا تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ سچی محبت کے تقاضوں کو پورا کیا کہ وہی مسنون اذان دیتے رہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھی۔ الغرض اذان میں اس اضافہ کو محبت کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔
​(ج) اذان میں اس قسم کا اضافہ تو بڑی دور کی بات ہے، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دلدادہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم تو عام مسنون اوراد و اذکار میں بھی ذرہ بھر آمیزش کو برداشت نہ کرتے تھے گو کہ وہ آمیزش بظاہر کتنی ہی دل آویز کیوں نہ ہو۔
​ملاحظہ فرمائیں:
​عن نافع أن رجلا عطس إلى جنب ابن عمر فقال الحمد لله والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابن عمر وأنا اقول الحمد لله والسلام على رسول الله وليس هكذا علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا أن نقول الحمد لله على كل حال۔
​حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے چھینک مار کر کہا۔ الحمد لله والسلام على رسول الله، اس پر فوراً ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حمد و سلام کا تو میں بھی قائل ہوں، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا نہیں سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ ہم اس موقع پر صرف الحمد لله کہا کریں۔
​غور طلب امر یہ ہے کہ بذاتِ خود السلام على رسول الله کوئی قابلِ اعتراض جملہ نہیں—جب ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عام مسنون ذکر الحمد لله پر السلام على رسول الله کا اضافہ منظور نہیں تو خود صاحبِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان جیسے اہم معاملہ میں باقی اگلے صفحہ پرحضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ ناقوس بجا کر لوگوں کو نماز کے لئے جمع کیا جائے— تو میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا جو ناقوس اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا: یہ ناقوس بیچو گے؟ اس نے کہا کہ تم اس کو کیا کرو گے؟ میں نے کہا اس سے نماز کے لئے لوگوں کو جمع کریں گے۔ اس نے کہا تمھیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں؟ میں نے کہا ضرور! اس نے کہا اچھا تو پھر تم یہ کہا کرو (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے (۴ دفعہ) میں (صدقِ دل) سے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ (۲ دفعہ) میں (صدقِ دل سے) گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں (۲ دفعہ) نماز کے لئے آؤ (۲ دفعہ) کامیابی کی طرف آؤ (۲ دفعہ) اللہ سب سے بڑا ہے (۲ دفعہ) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ (الحدیث)
(قال الزيلعي هذا ثابث صحيح) (ابوداؤد: باب كيف الأذان)
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ الصلوۃ والسلام علی رسول اللہ کا اضافہ کیونکر منظور ہوگا؟
​علماءِ امت اور علماءِ بریلویہ کا تجزیہ
​گزشتہ سطور سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی، کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں اذان سے پہلے اور بعد یہ اضافہ نہیں تھا، اس طرح خلافتِ راشدہ، خلافتِ بنی امیہ، خلافتِ عباسیہ اور پھر قریب زمانہ میں خلافتِ عثمانیہ تک اذان اپنی اصلی حالت میں باقی رہی۔ اس دوران آٹھویں صدی میں بعض لوگوں نے اذان میں اضافہ کیا تو علماءِ امت نے ان کو سختی سے روک دیا اور اس کے بدعت ہونے کا فتویٰ دیا، ملاحظہ ہو۔ علامہ ابنِ حجر مکی ہیتھی لکھتے ہیں:
​وردت احاديث أخر بنحو تلك الاحاديث السابقة ولم نر فى شئ منها التعرض للصلاة عليه صلى الله عليه وسلم قبل الأذان ولا إلى محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم بعده ولم نر ايضاً فى كلام ائمتنا تعرضاً لذلك ايضاً فحينئذ كل واحد من هذين ليس بسنة فى محله المذكور فيه فمن اتى بواحد منهما فى ذلك معتقدا سنيته فى ذلك المحل المخصوص نهى عنه ومنع منه لانه باقی اگلے صفحہ پر​(۷۵) فجر کی اذان میں حی على الفلاح کے بعد دو دفعہ الصلوۃ خیر من النوم کہنا چاہیے۔
​عن أبي محذورة وفيه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن كان صلوة الصبح قلت الصلوة خیر من النوم، الصلوة خیر من النوم۔ (الحدیث)
(قال العظیم آبادی حدیث صحیح) (ابوداؤد: کیف الأذان)
​پچھلے صفحہ کا باقی حاشیہ
​تشريع بغير دليل ومن شرع بلا دليل يزجر عن ذلك وينهى عنه۔ (الفتاویٰ الکبریٰ الفقهية، ج ۱، ص ۱۳۱)
​اس قسم کی اور احادیث بھی ہیں، لیکن کسی بھی حدیث میں اذان سے قبل درود شریف اور اذان کے بعد محمد رسول اللہ کہنے کا ذکر نہیں، نیز ہمارے ائمہ کے کلام میں بھی اس مسئلہ کا نشان نہیں ملتا۔ اس طرح یہ دونوں چیزیں اذان میں مسنون نہیں ہیں، لہذا جو شخص بھی اس مقام پر یہ عمل سنت سمجھ کر کرے گا اسے روکا جائے گا۔ چونکہ یہ بلا دلیل ایک مسئلہ کو شریعت کی طرف منسوب کرنا ہے اور ایسا کرنے والے کو سختی کے ساتھ روک دیا جائے گا۔
​علامہ مفتی محمد حسین نعیمی لکھتے ہیں: اذان کے کلمات مقرر ہیں۔ اس میں کمی بیشی کرنا یا ان کے آگے پیچھے درود شریف یا قرآن کریم کی آیات بلا فصل ملانا بدعت ہے اور عبادت میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ اذان کے ساتھ اول درود شریف کو لازم قرار دینا یا اہل سنت کا شعار بنانا بھی بدعت ہے او عبادتِ معہودہ میں تحریف کرنے کی کوشش ہے۔ (ملخص) فتاویٰ مفتی محمد حسین نعیمی، جامعہ نعیمیہ، لاہور
​انوار الصوفیہ میں ہے: قرونِ اولیٰ میں بلکہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے کہیں بھی اذان سے پہلے بلند آواز سے تسمیہ یا صلوٰۃ و سلام پڑھنا مشروع نہیں ہے۔ دراصل یہ زوائد وہابیوں دیوبندیوں کی ضد سے یا نعت خواں قسم کے مؤذنین نے پیدا کیے ہیں، یہ رسم جو اسلام میں معہود نہیں تھی جہلاء پڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور علماء کرام خاموش ہیں، پتہ نہیں کیا وجہ ہے؟ (ملخص انوار الصوفیہ تر (جمانِ آستانہ علی پور شریف) جنوری ۱۹۷۸ء۔ دارالعلوم حزب الاحناف کا فتویٰ: فجر ہونے سے پہلے لاؤڈ سپیکر پر بلند آواز سے درود شریف پڑھنا جائز نہیں۔ فتاویٰ دارالعلوم حزب الاحناف، لاہور۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۷۸ء
​الغرض اذان سے پہلے یا بعد درود شریف وغیرہ کا اضافہ قرآن و سنت و اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں ہے اور خود بریلوی مکتبِ فکر کے علماء نے بھی اس کو بدعت اور ناجائز قرار دیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تمام بریلوی حضرات گروہی رجحانات کو بالائے طاق رکھ کر ان حقیقت پسندانہ تعلیمات پر عمل کریں۔حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صبح کی نماز کا وقت ہو تو دو دفعہ الصلوۃ خیر من النوم کہا کرو۔”
​حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسنون یہ ہے کہ فجر کی اذان میں مؤذن جب حی على الفلاح کہہ لے تو الصلوۃ خیر من النوم کہے۔
(قال البيهقي اسناده صحيح) (بيهقی: التثویب فی اذان الصبح)
​اذان کا جواب دینا
​(۷۶) اذان کے آداب کا تقاضا ہے کہ اس دوران ادھر ادھر کی بات چیت نہ کرے بلکہ کلماتِ اذان پر غور کرے اور مؤذن کے ساتھ ساتھ یہ کلمات دہراتا جائے۔
​حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جب تم اذان سنو تو وہی کلمات دہراؤ جو مؤذن کہتا ہے۔”
(مسلم: استحباب القول مثل قول المؤذن ۔ بخاری: ما يقول اذا سمع المنادی)
​اذان کے بعد دعا
​(۷۷) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھے۔ اس کے لئے میری شفاعت حلال ہو گئی۔
(بخاری: الدعاء عند النداء)
​دعا یہ ہے:
​اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِي وَعَدتَّهُ

🔥 High SEO Titles

  1. Azan Ka Bayan | Azan Kaise Di Jati Hai? | Azan Dene Ka Sahih Aur Masnoon Tariqa
  2. Azan Ka Sahih Tariqa Kya Hai? | Azan Ke Alfaaz, Sunnat Aur Fazail
  3. Azan Dene Ka Mukammal Tariqa | Azan Ke Zaroori Masail | Islamic Bayan
  4. Azan Ki Fazilat Aur Ahmiyat | Azan Ka Masnoon Tariqa | Azan Ka Bayan
  5. Azan Kaise Dein? | Azan Ke Alfaaz Aur Masnoon Tariqa | Mukammal Bayan
  6. Azan Ke Ahkam Aur Masail | Azan Ka Sahih Tariqa | Islamic Knowledge
  7. Azan Ka Jawab Kaise Dein? | Azan Se Mutalliq Mukammal Ahkam
  8. Azan Dene Ki Sunnat | Azan Ki Fazilat | Azan Ka Mukammal Bayan
  9. Azan Ka Bayan In Urdu | Azan Ka Sahih Aur Masnoon Tariqa
  10. Azan Ke Bare Mein Mukammal Maloomat | Tariqa, Fazilat Aur Ahkam۔

Leave a Comment