تیمم کا بیان

(۶۲) جب وضو یا غسل کے لئے پانی نہ ملے، یا پانی کے استعمال سے بیمار ہو جانے یا مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو تیمم کرنا جائز ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(المائدہ: ۶)
”اور اگر تم بیمار ہو جاؤ، یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی طبعی حاجت سے فارغ ہو کر آئے یا تم جماع کر کے آؤ اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو، (وہ یوں کہ) چہرہ اور ہاتھوں پر مٹی مل لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں حرج میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا، بلکہ وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے نیز اس طرح اپنی نعمت کی تکمیل چاہتا ہے۔ تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو۔”
(۶۳) تیمم کا طریقہ
تیمم کی نیت کر کے دونوں ہاتھ مٹی پر مار کر انہیں جھاڑ دے اور دونوں ہاتھوں کو منہپر اس طرح پھیرے کہ کوئی جگہ باقی نہ رہ جائے۔ پھر دوسری مرتبہ دونوں ہاتھ مٹی پر مار کر بائیں ہاتھ کی چاروں انگلیاں دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے سروں کے نیچے رکھ کر کھینچتا ہوا کہنی تک لے جائے پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی دائیں ہاتھ کے اوپر کی طرف کہنی سے انگلیوں تک کھینچتا ہوا لائے، اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے اندر کی جانب کو دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی پشت پر پھیرے۔ پھر اسی طرح دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی پشت پر پھیرے پھر انگلیوں کا خلال کرے، اگر انگوٹھی پہنی ہو تو اس کے نیچے بھی ہاتھ پھیرنا ضروری ہے کیونکہ اگر بال برابر جگہ بھی یونہی چھوٹ گئی تو تیمم صحیح نہ ہوگا۔
عن جابر رضی اللہ عنہ قال جاء رجل فقال اصابتنی جنابة وإنی تمعكت فی التراب فقال صلی اللہ علیہ وسلم اضرب، وضرب بیدیہ الارض فمسح وجہہ ثم ضرب بیدیہ فمسح بہما إلى المرفقین۔ قال البیہقی اسنادہ صحیح۔ (بیہقی: کیف التیمم)
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا کہنے لگا مجھے غسلِ جنابت کی حاجت ہو گئی (تو پانی نہ ہونے کے سبب بطورِ تیمم) مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہاتھ مار، اور خود دونوں ہاتھ زمین پر مار کر چہرہ کا مسح کیا۔ پھر دونوں ہاتھ مار کر کہنیوں سمیت ہاتھوں کا مسح کیا۔”