Zohar Ka Masnoon Waqt | Zohar Ki Namaz Ka Sahi Time\ظہر کا مسنون وقت

ظہر کا مسنون وقت

ظہر کا مسنون وقت
ظہر کا مسنون وقت

(الف) نمازوں کے مجموعی اوقات کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے مسنون وقت کو بھی بیان کر دیا جائے
موسم گرم ہو تو زوال آفتاب کے بعد ظہر نماز جلد ادا کرنا مسنون ہے، جبکہ گرمی کے موسم میں آتی تیزی سے گرمی کی شدت کم ہو جائے۔
(ب) آنحضرت ﷺ کا گرمیوں کا عمل
عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال: أذّن مؤذن النبی ﷺ لصلاة الظهر، فقال: أبرد، أبرد، أو قال: انتظر، انتظر، وقال: شدة الحر من فيح جهنم، فإذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلاة حتى رأينا فيء التلول۔
(بخاری: باب إبراد الظهر في شدة الحر)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذن نے ظہر کی اذان دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذرا ٹھنڈا ہونے دو، ذرا ٹھنڈا ہونے دو، یا فرمایا: انتظار کرو، انتظار کرو۔ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے اثرات میں سے ہے۔ لہٰذا جب گرمی کی شدت اختیار کر جائے تو موسم ٹھنڈا ہونے پر نماز پڑھا کرو۔ (یعنی ہم نماز کو مؤخر کرتے رہے) یہاں تک کہ ٹیلوں کے سائے بھی نظر آنے لگے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب گرمی زیادہ ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے اثر سے ہے۔
(مسلم: استحباب الإبراد بالظهر في شدة الحر)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب گرمی زیادہ ہو جائے تو نماز کو مؤخر کر کے پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے اثر سے ہے۔
نیز امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس موضوع کی روایات حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں۔
(ترمذی، باب تأخیر الظہر)
(ج) آنحضرت ﷺ کا سردیوں کا معمول
عن انس رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ صلی الظہر حین زالت الشمس
(وهو أحسن حدیث فی الباب)
(ترمذی: ما جاء في تعجیل الظهر)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب زوال آفتاب ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی۔
عن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ:
إذا کان الحر أبرد بالصلاة، وإذا کان البرد عجل۔
(نسائی: تعجیل الظہر في البرد)
یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اور جب سردی ہو تو نماز جلدی ادا کرو۔
نوٹ: تصویر کے آخری حصے میں ظہر کی نماز کے وقت کے بارے میں فقہی وضاحت بھی درج ہے۔پچھلے فقہاء کا پانی کا حاشیہ
کہ تمام نمازوں کو ابتدائی وقت میں پڑھنا افضل ہے، سوائے ان نمازوں کے جن کی تاخیر دلائل سے ثابت ہے۔ جیسے عشاء کو مؤخر کرنا اور نمازِ ظہر کو گرمی میں کچھ دیر وقت پڑھنا۔
(ب) غیر طاہرہ محدثہ، اذان توجہیہ لکھتے ہیں:
والأفضل الصلاة في أول وقتها إلا صلاة العشاء، والأفضل تأخيرها عند عدم المشقة، والإبراد ۔بصلاة الظهر في شدة الحر۔
(زوال الأبرار، ج ۱، ص …)کہ ابتدائی وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ جب گرمی ہو تو عشاء کو مؤخر کرنا اور گرمی میں نمازِ ظہر کو کچھ دیر مؤخ

کرنا بہتر ہے۔
ChatGPT said:
Zohar Ka Masnoon Waqt | Zohar Ki Namaz Ka Sahi Time
Zohar Ka Masnoon Waqt Kya Hai? Mukammal Rehnumai
Zohar Ki Namaz Ka Masnoon Waqt | Islami Maloomat
Zohar Ka Waqt Kab Shuru Aur Khatam Hota Hai?
Zohar Ki Namaz Ka Behtareen Aur Masnoon Waqt
Zohar Ka Masnoon Time | Namaz-e-Zohar Ka Waqt
Zohar Ka Masnoon Waqt | Zohar Ki Namaz Kab Parhein?

کرنا بہتر ہے

Leave a Comment