Tahweel-e-Qibla Ka Waqia Kya Hai? Mushrikeen Aur Munafiqeen Ke Aitraazat Ka Jawab | Surah Baqarah\سَيَقُولُ

پارہ نمبر ۲
سَيَقُولُ
تحویلِ قبلہ اور مشرکین و منافقین کے بے جا اعتراضات:
دوسرے پارے کی ابتدا ہوتی ہے تحویلِ قبلہ کے ذکر سے۔ اصل میں یہودیوں نے حضور ﷺ کے تشریف لانے کے بعد نبی کریم ﷺ تقریباً سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن آپ کی دلی آرزو یہ تھی کہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ ملتِ ابراہیمی کا ایک حسی اور ظاہری شعار تھا، آپ کی قدیمی آرزو کی تکمیل یوں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تحویلِ قبلہ کا حکم نازل فرما دیا۔
تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہونے کے بعد یہود، مشرکوں اور منافقوں نے بھی بے جا اعتراضات اٹھائے۔ لیکن اس معاملے میں یہود پیش پیش تھے۔ وہ بظاہر بڑے تعجب سے لیکن حقیقت میں عناد کی بنا پر کہتے تھے: ’’انہیں کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا جس کی طرف رخ کرکے یہ پہلے عبادت کیا کرتے تھے؟‘‘
اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا: ’’آپ فرما دیجیے کہ ساری سمتیں خواہ مشرق ہوں یا مغرب اللہ ہی کی ہیں۔‘‘
پس اسے اختیار ہے جس سمت کو چاہے قبلہ مقرر فرما دے، گویا یوں کہا گیا کہ ساری جہات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، کسی بھی جہت کو دوسری جہت پر اپنی ذات کے اعتبار سے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جہت خود قبلہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ وہ اللہ کے حکم سے قبلہ بنتی ہے۔ لہٰذا تحویلِ قبلہ کے بارے میں ان کے اعتراضات کی کوئی حقیقت نہیں، یوں بھی اصل اہمیت کسی جہت کی طرف توجہ کرنے کی نہیں بلکہ اصل اہمیت اللہ کی طرف توجہ کو حاصل ہے۔
ان آیات کے مطالعہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا حسنِ ادب بھی ظاہر ہے۔
﴿قُلْ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ﴾
(البقرہ: 142)ہوتا ہے کہ آپ شدتِ اشتیاق اور انتظارِ وحی میں بار بار آسمان کی طرف اپنی مبارک نگاہیں اٹھاتے تو تھے مگر تحویلِ قبلہ کا سوال نہیں کرتے تھے کہ شاید اللہ کا فیصلہ اور اس کی رضا عدمِ تحویل ہی میں ہو، شاید اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے تحویلِ قبلہ کا حکم دینے کے فوراً بعد اہلِ ایمان پر اس نعمتِ عظمیٰ کا ذکر فرمایا ہے جو انہیں سراجِ منیر اور بشیر و نذیر حضرت محمد ﷺ کی صورت میں عطا ہوئی۔ مستقبلِ قبلہ کا تعین بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور ہدایت کے لیے عظیم الشان رسول کی بعثت بھی بے مثال احسان ہے۔
(البقرہ: 151)
حقیقی نیکی کا معیار:
تحویلِ قبلہ کی بحث کو سمیٹتے ہوئے آخری اور فیصلہ کن بات جو ارشاد فرمائی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حقیقی نیکی کا معیار مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنا نہیں بلکہ حقیقی نیکی کا معیار یہ ہے کہ عقائد، اعمال، معاملات اور اخلاق سب کا رخ صحیح ہو، اللہ کو راضی کرنے کے لیے صرف چہرے کا رخ ہی نہیں بلکہ دل اور پوری زندگی کا رخ بھی بدلنا ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے:
’’مشرق و مغرب کی طرف منہ کر لینا ہی نیکی نہیں بلکہ حقیقی نیکی تو یہ ہے کہ۔۔۔‘‘
(البقرہ: 177)
اس آیتِ کریمہ کو علماء کرام نے بڑی اہمیت دی ہے اور اس سے کم و بیش سولہ قواعد اخذ کیے ہیں۔ اس آیتِ کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دینِ اسلام محض چند ایک مذہبی رسوم کا نام نہیں ہے جنہیں عبادت خانے اور خانقاہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس دین کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے، یہ ہر جگہ انسان کے ساتھ رہتا ہے گھر میں بھی اور بازار میں بھی، مسجد میں بھی اور مدرسہ میں، سیاست و حکومت میں بھی اور تجارت و معاشرت میں بھی، یہ مسلمان کی ہر جگہ رہنمائی کرتا ہے اور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر قدم اسے دیکھ کر اٹھائے۔
اس آیتِ کریمہ کو ’’آیتِ بِر‘‘ کہا جاتا ہے اور اہیں انہیں “ابواب بر” کہا گیا ہے، گویا پہلے اجمالی طور پر نیکی کے اصول بتانے کے بعد آگے ان کی جزوی تفصیلات اور احکام ذکر کیے گئے ہیں، یہ احکام مسلمان کی معاشی، معاشرتی، تجارتی، ازدواجی اور جہادی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، یہ احکام ہم اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں (ان میں سے دو حکم ایسے ہیں جو آیت بر سے پہلے ذکر ہو چکے ہیں)
① چونکہ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ پر دو بت رکھے ہوئے تھے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے اس لیے قبول اسلام کے بعد صحابہ کرام صفا مروہ کا طواف کرنے سے بچتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ ان کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (۱۵۸)
حرام اشیاء کی تفصیل، قصاص اور اس کی حکمت:
② مشرکین از خود بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام ٹھہرا لیتے تھے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ “(حرام وہ چیزیں نہیں جنہیں تم حرام کہتے ہو) بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو صرف ان چیزوں کو حرام کیا ہے، مردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت اور ہر ایسا جانور جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھا لے تو اسے کچھ بھی گناہ نہیں ہوگا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کھانے سے مقصد حصول لذت نہ ہو اور نہ ہی قدر ضرورت سے تجاوز کرے…… واقعی اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے۔” (۱۷۳) ④
③ شریعت اسلامیہ کی بنیاد عدل پر ہے، اسی لیے مسلمانوں پر قصاص فرض کیا گیا ہے یعنی مقتول کے بدلے قاتل کو بھی قتل کیا جائے گا، چاہے مقتول اور قاتل کے درمیان سماجی، خاندانی، مالی اور جسمانی اعتبار سے کتنا ہی تفاوت کیوں نہ ہو، قصاص میں زندگی ہے، قاتل کی بھی اور مقتول کی بھی، جب قاتل کو اپنے جرم کی سزا ملنے کا یقین ہوگا تو وہ شدت غضب کے باوجود اپنا ہاتھ قتل سے روک لے گا اس کے رک جانے سے مقتول
حاشیہ:
④ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ [البقرۃ: 172]اور قاتل بلکہ ان کا خاندان بھی قتل و قتال سے بچ جائے گا، اسلام نے قتل کی سزا میں رحمت اور عدل دونوں چیزوں کو جمع کر دیا ہے، مقتول کے اولیاء اور ورثاء اگر قصاص کا مطالبہ کریں تو یہ عدل ہوگا اور اگر وہ معاف کر دیں یا دیت لینے پر راضی ہو جائیں تو فضل و احسان اور رحمت ہوگی۔ (۱۷۸-۱۷۹) ⑤
رمضان کے روزے اور چند احکام:
④ ایسا صاحب مال جسے اپنی موت قریب آ جانے کا احساس ہو جائے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال کے بارے میں وصیت کر جائے۔ (۱۸۰)
⑤ ہر عاقل بالغ مسلمان پر روزے فرض ہیں، روزے اگر واقعی تمام آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے رکھے جائیں تو انسان میں تقویٰ پیدا کرنے کے ساتھ انسانی احساسات کو بھی بیدار کرتے ہیں، جس مہینے میں روزے فرض کیے گئے ہیں اسے یہ خصوصیت اور فضیلت بھی حاصل ہے کہ اس میں قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل ہوئی۔
⑥ رمضان کی راتوں میں بیوی کے ساتھ جماع جائز ہے لیکن اعتکاف کی حالت میں جائز نہیں۔ (۱۸۶-۱۸۷)
⑦ کسی بھی باطل اور ناجائز طریقے سے مال کمانا جائز نہیں خواہ وہ جوا ہو یا چوری، غصب اور رشوت ہو یا خرید و فروخت کے ناجائز طریقے۔ (۱۸۸)
⑧ قمری تاریخوں کا استعمال فرض کفایہ بھی ہے اور اسلامی شعار بھی…… کئی عبادات کا مدار ان کی معرفت پر ہے۔ (۱۸۹)
جہاد، احکام حج، مرتد کی سزا اور ام الخبائث:
⑨ مسلمانوں پر جہاد و قتال فرض ہے۔ جہاد کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے چونکہ حق اور باطل، خیر اور شر کے درمیان ٹکراؤ ازل سے ہے، اور ابد تک رہے گا، اس لیے جہاد بھی ہمیشہ سے ہے اور
حاشیہ:
⑤ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ﴾ [البقرۃ: 178]ہمیشہ رہے گا۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جہاد کے لیے ہمیشہ مستعد رہیں اور دشمن کے سامنے کمزوری ظاہر نہ کریں ورنہ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات کے سوا کچھ نہیں۔ (۱۹۰-۱۹۵)
⑩ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن حج بھی ہے، اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا سے مسلمان سال میں ایک بار مساوات کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بلد حرام میں جمع ہوں اور وہاں اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق حج کے مناسک اور اعمال ادا کریں، حج کا احرام چند مخصوص مہینوں میں باندھا جاتا ہے۔ البتہ عمرہ پورے سال میں کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے، حج کے دنوں میں تجارت اور خرید و فروخت جائز ہے، زمانہ جاہلیت میں مشرکوں نے بہت ساری رسوم اور بدعات کا اضافہ کر لیا تھا، جن میں سے ایک یہ تھی کہ قریش، مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور میدان عرفات میں جانا اپنی توہین سمجھتے تھے، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح عرفات جا کر واپس آئیں اور اپنے لیے کوئی الگ تشخص ثابت نہ کریں۔ یونہی مشرکین منیٰ میں جمع ہو کر آباؤ اجداد کے مفاخر بیان کیا کرتے تھے انہیں کہا گیا کہ وہ آباء کی بجائے اللہ کا ذکر کریں۔ (۱۹۶-۲۲۰)
⑪ انفاق فی سبیل اللہ کے ضمن میں بتایا گیا ہے کہ اہمیت، اس بات کو حاصل نہیں کہ کیا خرچ کیا جاتا ہے، اصل اہمیت اس امر کو حاصل ہے کہ کہاں خرچ کیا جاتا ہے (اور کس نیت سے خرچ کیا جاتا ہے) لہٰذا اللہ کے دیے ہوئے جان و مال کو صحیح مصرف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ (۲۱۵)
⑫ جو شخص مرتد ہو جائے اس کے سارے اعمال باطل ہو جاتے ہیں اور وہ جہنم کا حق دار ہو جاتا ہے (اور دنیا میں اس کی سزا یہ ہے کہ اگر وہ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئے تو اسے قتل کر دیا جائے)۔ (۲۱۷)
⑬ شراب اور جوا میں اگرچہ ظاہری اور مادی منافع ہیں لیکن ان میں جسمانی، عقلی، مالی، اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے جو نقصانات ہیں وہ منافع کے مقابلے میں کہیں زیادہہیں، رسول کریم ﷺ نے شراب کو “ام الخبائث” یعنی خباثتوں اور گناہوں کی جڑ قرار دیا ہے۔ (۲۱۹) ⑥
اہل شرک سے نکاح اور چند ازدواجی مسائل:
⑭ بعض اجتماعی بیماریوں کی نشاندہی کے بعد خاندانی مسائل بیان کیے جا رہے ہیں کیونکہ خاندان ہی ایک اچھے معاشرہ کی بنیاد ہے، ان مسائل کی ابتدا ازدواجی تعلقات سے کی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ مشرک مردوں اور عورتوں سے کسی صورت بھی نکاح جائز نہیں۔ ⑦ (۲۲۱) البتہ کتابی عورت کے ساتھ مسلمان مرد کا نکاح ہو سکتا ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ کتابیہ کے ساتھ نکاح کی بجائے کسی مسلمان عورت کے ساتھ نکاح کیا جائے۔ اس حکم قرآنی سے یہ نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ اسلام میں ازدواجی رشتہ کی بنیاد خلق اور دین پر ہے، حسب نسب یا غناء اور حسن و جمال پر نہیں کیونکہ یہ عارضی چیزیں ہیں نہ ہی یہ حقیقی سکون اور راحت کی ضامن ہیں اور نہ ہی سعادت کا سبب بنتی ہیں۔ البتہ ازدواجی زندگی کے سفر میں نیک اور خوف خدا رکھنے والا ساتھی، سفر کے بہت سارے مراحل کو آسان کر دیتا ہے، اسی لیے ہمارے آقا ﷺ نے نیک خاتون کو قیمتی خزانہ سے تعبیر کیا ہے۔ (ترمذی)
⑮ حالت حیض میں بیوی کے ساتھ جماع جائز نہیں کیونکہ حیض کے خون میں ایسی نجاست اور ایسے جراثیم پوشیدہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے میاں اور بیوی دونوں کی صحت خطرہ میں پڑ سکتی ہے، البتہ آپس میں بوس و کنار، اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے کی اجازت ہے۔ جبکہ یہودی اس کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے اور نصاریٰ جماع کرنا بھی برا نہیں سمجھتے تھے۔ گویا کہ اسلام نے دوسرے بہت سارے معاملات کی طرح حیض کے معاملہ
حاشیہ:
⑥ ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾ [البقرۃ: 219]
⑦ ﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾ [البقرۃ: 221]میں بھی افراط و تفریط کی بجائے اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ (۲۲۲-۲۲۳)
⑯ اگر کسی شخص نے قسم کھا لی کہ وہ چار ماہ تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا تو چار ماہ گزرنے پر خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی۔ البتہ اگر اس نے رجوع کر لیا تو نکاح باقی رہے گا لیکن قسم کا کفارہ اس پر لازم ہوگا۔ (۲۲۶-۲۲۷)
طلاق، خلع، عدت اور رضاعت کے احکام:
⑰ سورۃ البقرۃ میں جتنی تفصیل کے ساتھ طلاق، عدت اور رضاعت کے مسائل بیان کیے گئے ہیں اتنی تفصیل کے ساتھ کسی دوسری سورت میں بیان نہیں کیے گئے۔ اس سلسلہ میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ اللہ کی نظر میں طلاق کے قابل نفرت ہونے کے باوجود مخصوص حالات اور مجبوریوں کی بنا پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات میاں بیوی میں سے کوئی ایک ایسا ہوتا ہے جو اپنی بد اخلاقی، بد کرداری اور باغیانہ رویہ کی وجہ سے گھر کو جہنم بنا دیتا ہے، جہاں سکون نام کو نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں طلاق کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا، اسلام نے طلاق کی اجازت دینے کے ساتھ اس میں بہت ساری اصلاحات بھی کی ہیں، زمانہ جاہلیت میں طلاق کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، سو سو طلاقیں دے کر بھی رجوع کر لیا کرتے تھے۔ اسلام تین سے زائد طلاق کی اجازت نہیں دیتا، دو طلاقوں کے بعد تو رجوع کیا جا سکتا ہے مگر تیسری طلاق کے بعد رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ (۲۲۹) ⑧
⑱ شوہر نے مہر کی صورت میں بیوی کو جو کچھ دیا ہوا سے واپس لینے کی اجازت نہیں، البتہ خلع کی صورت میں اجازت ہے، خلع یہ ہے کہ عورت اس شرط پر پورا مہر یا اس کا کچھ حصہ دینے کے لیے آمادہ ہو کہ اسے طلاق دے دی جائے، خلع کے لیے زوجین کی رضامندی ضروری ہے۔ (۲۳۰)
حاشیہ:
⑧ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [البقرۃ: 229]⑲ اگر طلاق یافتہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر لے مگر کسی وجہ سے اس کے ساتھ بھی نباہ نہ ہو سکے تو وہ اس سے طلاق لینے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے، اسے حلالہ کہا جاتا ہے، آج کل حلالہ کے نام پر جو ڈرامہ کیا جاتا ہے اس کے کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر حدیث میں لعنت کی گئی ہے۔ (۲۳۰)
⑳ طلاق کے بعد عورت کو محض اذیت سے دو چار کرنے کے لیے رجوع کرنا جائز نہیں۔ (۲۳۱)
㉑ چونکہ اسلام، عدل اور احسان کا دین ہے جو کہ کسی پر بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔ خواہ بچہ ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، اس لیے اسلام نے دودھ پیتے بچوں کے حقوق بھی بیان کیے ہیں، آج تو پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں مگر اسلام نے اس وقت ماؤں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا حکم دیا تھا جب پوری دنیا جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی اور ماں کے دودھ کی افادیت کسی کو معلوم نہ تھی، اگر بالفرض میاں بیوی میں جدائی واقع ہو جائے تو بھی دودھ پیتے بچے کی پرورش اور اسے دودھ پلانے کا زیادہ حق ماں ہی کو حاصل ہے، طلاق اور جدائی کی سزا اس معصوم کو دینا جائز نہیں۔ (۲۳۳)
㉒ طلاق ہو جائے یا شوہر کی وفات کا سانحہ پیش آ جائے دونوں صورتوں میں عورت پر عدت لازم ہے، عدت طلاق تین حیض جبکہ عدت وفات چار ماہ دس دن ہے۔ (۲۲۸-۲۳۴)
㉓ جو عورت زمانہ عدت میں ہو اس سے نکاح کے بارے میں عہد و پیمان لینا منع ہے۔ البتہ دل میں خواہش رکھنے اور اشارہ کنایہ میں اپنی خواہش کے اظہار کی اجازت ہے۔ (۲۳۵)
دو قصے اور نبی اکرم ﷺ کی نبوت کا ثبوت:
㉔ خاندان اور معاشرہ کی اصلاح اپنی جگہ بے حد اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کے لیے حق اور حق کے انصار و اعوان کی بقا ضروری ہے، جہاد کا مقصد حق اور حق کے علمبرداروں کی بقاہی ہے، اس لیے قرآن کریم میں جہاد پر بڑا زور دیا گیا اور موت کے ڈر سے جہاد سے راہ فرار اختیار کرنے والوں کی شدید مذمت کی گئی ہے، بعض مقامات پر اس حوالے سے امم سابقہ کے قصے بھی بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں دوسرے پارہ کے اختتام پر بھی دو قصے مذکور ہیں۔ پہلا قصہ ایسی قوم کا ہے جو طاعون کی بیماری پھیل جانے کے بعد موت کے ڈر سے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی تھی لیکن یہ فرار انہیں موت سے بچا نہ سکا، اس قصہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی تدبیر انسان کو تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔
دوسرا قصہ بنی اسرائیل اور حضرت طالوت کا ہے جن کی قیادت میں جہادی صفات سے مالا مال تھوڑے سے لشکر نے اپنے سے کئی گناہ بڑے لشکر کو شکست دے دی، یہ قصہ ایسا تھا کہ خود بنی اسرائیل کے بھی صرف خواص ہی کے علم میں تھا، عوام اس سے بے خبر تھے۔ نبی امی ﷺ کی زبان اقدس سے تاریخ کی اس بھولی بسری داستان کا بیان ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا رابطہ اس ذات سے ہے، جس کی نظر سے تاریخ کی کوئی کڑی بھی اوجھل نہیں اور یہ کہ آپ واقعی سچے رسول ہیں اسی لیے اس قصہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے: “یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور بلا شبہ آپ ہمارے رسولوں میں سے ہیں” (اسی آیت پر دوسرے پارہ کا اختتام ہو جاتا ہے)پہلا قصہ ایک ایسی قوم کا ہے جو طاعون کی بیماری پھیل جانے کے بعد موت کے ڈر سے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی تھی، لیکن یہ فرار انہیں موت سے بچا نہ سکا۔ اس قصے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی تدبیر انسان کو تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔
دوسرا قصہ بنی اسرائیل اور حضرت طالوت کا ہے، جن کی قیادت میں جہادی صفات سے مالا مال لشکر نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دے دی۔ یہ قصہ ایسا تھا کہ خود بنی اسرائیل کے بھی صرف خواص ہی کے علم میں تھا، عوام اس سے بے خبر تھے۔
نبی ﷺ کی زبانِ اقدس سے تاریخ کے اس بھولی بسری داستان کا بیان ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا رابطہ اس ذات سے ہے، جس کی نظر سے تاریخ کی کوئی کڑی بھی اوجھل نہیں، اور یہ کہ آپ واقعی سچے رسول ہیں۔
اسی لیے اس قصے کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ:
“یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور بلا شبہ آپ ہمارے رسولوں میں سے ہیں۔”

(اسی آیت پر دوسرے پارے کا اختتام ہوتا ہے۔)

  1. Tahweel-e-Qibla Ka Waqia | Mushrikeen Aur Munafiqeen Ke Beja Aitraazat

  2. Qibla Tabdeel Kyun Hua? | Tahweel-e-Qibla Ki Mukammal Tafseer

  3. Tahweel-e-Qibla Ki Hikmat Kya Hai? | Surah Baqarah Ki Tafseer

  4. Bait-ul-Muqaddas Se Khana Kaaba Tak | Tahweel-e-Qibla Ka Waqia

  5. Mushrikeen Aur Munafiqeen Ke Qibla Par Aitraazat Ka Jawab

  6. Tahweel-e-Qibla Ka Hukm Aur Iski Ahmiyat | Quran Ki Roshni Mein

  7. Qibla Ki Tabdeeli Par Kafiron Ke Aitraazat | Surah Baqarah

  8. Allah Ka Qibla Tabdeel Karne Ka Faisla | Tahweel-e-Qibla Ki Tafseer

  9. Tahweel-e-Qibla Ka Asal Maqsad Kya Tha? | Islami Maloomat

  10. Surah Baqarah Ki Tafseer | Tahweel-e-Qibla Aur Munafiqeen Ke Aitraazat

Best SEO Title:

Tahweel-e-Qibla Ka Waqia Kya Hai? Mushrikeen Aur Munafiqeen Ke Aitraazat Ka Jawab | Surah Baqarah

Leave a Comment