پارہ 1

[ترتیبی نمبر: 1] [نزولی نمبر: 5]
پہلا پارہ:
پہلا پارہ سورۂ فاتحہ مکمل اور سورہ بقرہ کے کچھ حصہ پر مشتمل ہے۔
مکی سورت:
اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ سورۂ فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی۔
نزول:
اور اس پر بھی کہ یہ بالکل ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی۔
وجہ تسمیہ:
جب قرآن مجید کھولا جاتا ہے تو سب سے پہلے یہی سورت نظر آتی ہے تو گویا سورۂ فاتحہ قرآن کو کھولنے والی ہے۔ اسی نسبت سے اسے سورۂ فاتحہ کہتے ہیں۔
آیات:
یہ سورۃ سات آیات پر مشتمل ہے۔
ام القرآن:
مختصر ہونے کے باوجود اس میں کتاب مقدس کے اساسی مقاصد اجمالی طور پر آگئے ہیں۔ اسی لیے اسے ام القرآن کہا جاتا ہے۔
اساس القرآن:
اور اساس القرآن بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی قرآن کی بنیاد۔
اگر کوئی لفظ تصویر میں صاف نہ تھا اور میں نے غلط پڑھا ہو تو بتا دیجیے گافاتحہ کی حیثیت:
اس سورۃ کی حیثیت قرآن کے دیباچہ کی بھی ہے۔
اور قرآن کے خلاصہ کی ہے کیونکہ قرآن کریم کی تمام تعلیمات کا خلاصہ اس میں اختصار کے ساتھ آ گیا ہے۔
بنیادی مضامین:
قرآن کریم کے بنیادی مضامین تین ہیں:
① توحید ② رسالت ③ قیامت
توحید:
اس سورۃ کی ابتدائی دو آیتوں اور چوتھی آیت میں توحید کا مضمون ہے۔
قیامت:
تیسری آیت میں قیامت کا ذکر ہے۔
رسالت:
پانچویں اور چھٹی آیت میں نبوت اور رسالت کی طرف اشارہ ہے۔
اللہ کے اسماء و صفات:
یونہی اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات مذکور ہیں۔
دعا کا حکم:
اسی کی عبادت اسی سے استعانت اور استقامت و ہدایت کی دعا کا حکم ہے۔
❶ تذکرہ:
ایک طرف انبیاء اور صلحاء کا تذکرہ ہے۔
❷ بچنے کی تلقین:
تو دوسری طرف ان قوموں کی روش سے بچنے کی تلقین ہے۔ جو اپنی علمی اور عملیکج روی کی وجہ سے اللہ کے غضب اور عذاب کی مستحق ہو گئیں۔
دعویٰ:
یہ دعویٰ بلا خوف تردید کیا جا سکتا ہے کہ:
① سورہ فاتحہ ایک بے مثال دعا،
② معارف کا بیش بہا خزانہ،
③ اور قرآنی علوم کا ایسا شفاف آئینہ ہے کہ جس میں ایک سو تیرہ سورتوں کی جھلک ہم مختصر وقت میں دیکھ سکتے ہیں۔
حکمت:
شاید یہ جھلک بار بار دکھانے کے لیے ہی ہر نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔