Kya Aap Istinja Sahih Tarike Se Karte Hain? | Adab-e-Istinja | Sunnat Ke Mutabiq آدابِ استنجا

  1. Table of Contents

    آدابِ استنجا

    (۱) بیت الخلاء میں ایسے اوراق وغیرہ نہ لے جائے جن میں اللہ کا نام یا متبرک کلام ہو۔

    (۲) نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ صحرا میں ہو تو ساتھیوں سے دور چلا جائے آبادی میں ہو تو بیت الخلاء استعمال کرے۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لئے اتنی دور نکل جاتے کہ سب کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے۔ (ابو داؤد: كتاب الطهارة)
    (۳) بیت الخلاء میں بایاں پاؤں داخل کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھے۔

  2. |Kya Aap Istinja Sahih Tarike Se Karte Hain? | Adab-e-Istinja | Sunnat Ke Mutabiq آدابِ استنجا
    |Kya Aap Istinja Sahih Tarike Se Karte Hain? | Adab-e-Istinja | Sunnat Ke Mutabiq آدابِ استنجا
  3. بسم الله اللهم إنى اعوذ بك من الخبث والخبائث

    حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء جانے سے پہلے یہ دعا پڑھتے۔
    بخاری: ما يقول عند الخلاء (مسلم: ما يقول اذا اراد الخلاء)
    ”اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں۔ خبیث شیاطین اور خبیث عادات سے۔;بیت الخلاء سے نکلتے وقت دایاں پاؤں پہلے نکال کر کہے۔ غفرانك
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ آپ بیت الخلاء سے نکل کر کہتے:
    ”اے اللہ تیری مغفرت کا طالب ہوں۔“ (ترمذی: ما يقول اذا خرج)
    (۴) غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے۔ ہاں اگر غسل خانہ میں علیحدہ جگہ بنائی ہو تو ہرج نہیں، چونکہ اس میں وساوس کا اندیشہ نہیں رہتا۔
    حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز تم میں سے کوئی بھی حمام میں پیشاب نہ کرے پھر اس میں وضو کرے چونکہ اکثر وساوس کا سبب یہی ہے۔ (ابو داؤد: البول فى المستحم)
    (۵) ٹھہرے ہوئے یا جاری پانی میں پیشاب نہ کرے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم: النهى عن البول فى الماء۔ بخاری: الماء الدائم)
    اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جاری پانی میں پیشاب کرنے سے بھی منع فرمایا۔ (طبرانی)
    (۶) راستہ میں یا سایہ والی جگہ میں پیشاب نہ کرے۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دو جگہوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی ہیں؟ ارشاد فرمایا جو شخص راستہ یا سایہ میں رفع حاجت کرے۔ (مسلم: كراهة التبرز فى الطريق)
    (۷) جانور کے بل میں پیشاب نہ کرے۔ مبادا کہ سوراخ میں موجود جانور کو تکلیف ہو تو وہ اس کو تکلیف دے۔
    حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (ابو داؤد: النهى عن البول فى الجحر)
    (۸) اس حالت میں بات چیت نہ کرے حتیٰ کہ سلام کا جواب بھی نہ دے۔ اگر چھینک آئے تو الحمد للہ دل میں کہے۔

  4. اگر دعا پڑھنا بھول جائے تو بھی دل میں پڑھے۔
    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت میں تھے کہ ایک گزرنے والے نے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب نہ دیا۔ (حسن صحیح، ترمذی: كراهية رد السلام)
    حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب دو آدمی ستر کھولے رفع حاجت کی حالت میں باہم گفتگو کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ (ابو داؤد: كراهية الكلام)
    معلوم ہوا کہ اس حالت میں گفتگو کرنا غضبِ الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، لہٰذا اس بری عادت سے بچنا چاہئے۔
    (۹) اپنے جسم اور کپڑوں کو نجاست سے بچائے رکھے۔ چونکہ اس سے نہ بچنا عذابِ قبر کا باعث ہے۔
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں​پر سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور عذاب کا سبب کوئی بڑی چیز نہیں۔ ان میں سے ایک چغل خور تھا جب کہ دوسرا پیشاب سے نہ بچتا تھا۔ (مسلم: الدليل على نجاسة البول)
    حضرت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تمہیں ہر چیز کی تعلیم دی ہے حتیٰ کہ بول و براز کی بھی۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رفع حاجت میں قبلہ کی طرف منہ یا پشت کرنے سے روکا ہے۔ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے روکا ہے۔ تین ڈھیلوں سے کم استعمال کرنے سے روکا ہے اور لیڈ یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرنے سے روکا ہے۔ (مسلم: الإستطابة)
    (۱۰) قبلہ کا احترام کرے کہ اس حالت میں نہ تو اس طرف منہ کرے نہ پشت۔
    (۱۱) استنجا بائیں ہاتھ سے کرے چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
    دایاں ہاتھ تو صاف ستھرے کاموں کے لئے ہے۔
    حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ رفع حاجت کے وقت اپنے عضو کو دایاں ہاتھ نہ لگائے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا ہی کرے۔ (بخاری: لا يمسك ذكره بيمينه مسلم: حبه للتيامن)
    (۱۲) تین ڈھیلے استعمال کرے یا جن سے صفائی حاصل ہو سکے اور پھر پانی کو مزید نظافت کے لئے استعمال کرے۔
    فيه رجال يحبون ان يتطهروا والله يحب المطهرين (التوبہ۔ ۱۰۸)
    ”اس بستی میں ایسے لوگ ہیں جو نظافت کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب صاف ستھرا رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“
    اس آیت کے نزول کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے پوچھا کہ طہارت کی بابت تمہارا خاص عمل کیا ہے تو انہوں نے کہا ہم ڈھیلے کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں۔​(۱۳) ہڈی اور گوبر لیڈ وغیرہ کو صفائی کے لئے استعمال نہ کرے۔
    (۱۴) بچہ کا پیشاب ناپاک ہے۔
    دودھ پیتے بچہ کا پیشاب ناپاک ہے اور اس پر اسلاف امت کا اجماع منعقد ہو چکا ہے لہٰذا اس کو دھونا ضروری ہے۔
    قال النووی : اعلم أن هذا الخلاف إنما هو في كيفية تطهير الشيء الذى بال عليه الصبى ولا خلاف في نجاسته وقد نقل بعض اصحابنا اجماع العلماء على نجاسة بول الصبى (شرح مسلم للنووى : باب حکم بول طفل الرضيع)
    “علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ جس چیز پر بچہ نے پیشاب کیا ہے اس کو پاک کرنے کی کیفیت میں تو اختلاف واقع ہوا ہے، لیکن اس کے ناپاک ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں اور بعض علماء نے بچہ کے پیشاب کی نجاست پر اجماعِ امت نقل کیا ہے۔”
    (۱۵) اگر بچی کپڑے پر پیشاب کر دے تو اس کو پاک کرنے کے لئے زیادہ اہتمام سے دھونا چاہئے جب کہ بچہ کے پیشاب کو دھونے میں اتنے زیادہ مبالغہ کی ضرورت نہیں۔
    عن على رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم انه قال في الرضيع يغسل بول الجارية وينضح بول الغلامتحته، ثم تقرصه بالماء ثم تنضحه ثم تصلى فيه۔
    (مسلم: باب نجاسة الدم وكيفية غسله) (قال النووى رحمه الله: تنضحه‘ ای تغسله)
    علامہ نوویؒ فرماتے ہیں نضح کے معنی ہے دھونا کہ جب ایک عورت نے حیض کے خون کی بابت پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے دھونے کا حکم دیا۔
    قال ابن حجر والخطابی فی رواية اسماء رضي الله عنها بان معنى النضح الغسل۔
    علامہ ابن حجر اور علامہ خطابی فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء والی روایت میں نضح کے معنی دھونا ہے۔
    ۴۔ ”رش“، بمعنی دھونا۔
    عن اسماء بنت ابى بكر رضى الله عنها ان امرأة سالت النبى صلى الله عليه وسلم عن الثوب يصيبه الدم من الحيضة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حتيه، ثماقرصيه بالماء، ثم رشيه وصلى فيه۔ (ترمذی، ما جاء فی غسل دم الحیض من الثوب)
    قال المبارکفوری رحمه الله: قرص کا معنی ہے انگلیوں سے کپڑے کو ملنا تاکہ وہ خون تحلیل ہوکر نکلنے کے قابل ہو جائے۔
    ثم رشيه اى صبى الماء عليه۔
    پھر اس پر رش کرے یعنی اس پر پانی بہائے۔ (تحفة الاحوذی۔ ج۱۔ص۴۲۴)
    الغرض دودھ پیتے بچے کے پیشاب کو دھونا ضروری ہے اور بعض کا یہ کہنا کہ اس پر چھینٹے مار دینا کافی ہے، صحیح نہیں ہے۔ نیز یہ کہ پیشاب ناپاک ہے اور چھینٹے مارنے سے تو وہ کپڑے میں باقی رہے گا۔ وہ کپڑا جوں کا توں ناپاک رہے گا۔​) اس مسئلہ پر بھی علمائے امت کا اجماع ہے کہ جب بچہ کھانے پینے لگے اس کے پیشاب کو بقیہ نجاستوں کی طرح اچھی طرح دھویا جائے۔
    قال النووى : اما اذا اكل الطعام على جهة التغذية فأنه يجب الغسل بلا خلاف۔ (شرح مسلم)
    ”کہ بچہ جب غذا کے طور پر کھانا کھانے لگ جائے تو اس کے پیشاب کو دھونا ہی واجب ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

Leave a Comment