طہارت کا بیان
پانی یا مٹی کے ساتھ شریعت کے طریقہ پر صفائی و نظافت کو طہارت کہتے ہیں۔ جیسے: وضو، غسل، تیمم۔
پانی کی اقسام
پانی تین طرح کا ہوتا ہے:
1- عام پانی
2- ناپاک پانی
3- استعمال شدہ پانی
(1) عام پانی اور اس کا حکم
اس سے مراد وہ پانی ہے جس کی رنگت، ذائقہ اور بُو اپنی حالت پر ہو، جیسے سمندر، دریا، نہر، چشمہ، کنویں اور بارش کا پانی۔ یہ پانی پاک ہے اور اس سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔
(الف) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُم بِهِ
(الأنفال: 11)
ترجمہ: “اور وہ تم پر آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں اس کے ذریعے پاک کرے۔”
(الف)
“اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے تم پر پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کر دے۔”
وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا (الفرقان: 48)
“اور ہم نے آسمان سے اتارا پانی، جس سے پاکی حاصل کی جاتی ہے۔”
(ب) ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ (ترمذی)
جب حضور اکرم ﷺ سے سمندر کے پانی کی بابت پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
طہارت کا بیان
(2) ناپاک پانی
اس سے مراد وہ پانی ہے جو اپنی حالت پر نہ ہو، بلکہ اس کا رنگ، ذائقہ یا بو بدل گئی ہو اور اس پر علماء امت کا اجماع ہے۔ علامہ شوکانی کہتے ہیں:
الإجماع على أن المتغير بالنجاسة ريحًا أو لونًا أو طعمًا نجس
(نیل الاوطار، ج 1، ص 35)
“نجاست کی وجہ سے جس پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ بدل جائے اس کے ناپاک ہونے پر امت کا اجماع ہے۔”
نوٹ:
جب پانی زیادہ مقدار میں ہو، جیسے نہر، دریا یا بڑا حوض تو وہاں تبدیلی ہی نجاست کی بنا ٹھہرے گی، لیکن اگر پانی تھوڑی مقدار میں ہو، جیسے بالٹی، مٹکے وغیرہ کا پانی، تو ذرا سی نجاست گرنے سے بھی پاک نہ رہے گا، گو کسی وصف میں تبدیلی نہ ہوئی ہو۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:
إذا استيقظ أحدكم من نومه فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها… (حدیث)
(3) استعمال شدہ پانی
یہ وہ پانی ہے جس نے ایک دفعہ وضو یا غسل کے لئے استعمال کیا گیا ہو۔ یہ بذاتِ خود پاک ہے لیکن اس سے دوبارہ پاکی حاصل نہیں ہوتی، فقہاء کی اصطلاح میں اسے طاہر غیر مطہر کہتے ہیں۔
(ج)
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فِيهِ قَدَحٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُمَا اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پیالے میں پانی منگوایا، اس میں اپنے دستِ مبارک اور چہرہ انور دھویا اور اسی میں کلی کی۔ پھر ان (ابو موسیٰؓ و بلالؓ) سے فرمایا کہ اس میں سے کچھ پی لو اور پانی اپنے چہرہ اور گریبان پر بہالو۔
(د)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا۔
(مسلم، النهي عن الاغتسال)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“کوئی شخص ٹھہرے پانی میں غسلِ جنابت نہ کرے۔”
لوگوں نے پوچھا: ابو ہریرہؓ پھر کیا کرے؟
فرمایا:
“ضرورت کا پانی باہر نکال لے۔”
پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ استعمال شدہ پانی پاک ہے، اس کو پینا یا جسم پر بہانا درست ہے۔ جبکہ دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ استعمال شدہ پانی دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتا، یعنی طاہر تو ہے مگر مطہر نہیں۔
طہارت کا بیان
- Taharat Ka Bayan – Islami Taharat Ke Ahkam Aur Masail
- Taharat Ki Ahmiyat Aur Islami Ahkam
- Taharat Kya Hai? Mukammal Islami Rehnumai
- Taharat Ke Masail Aur Zaroori Ahkam
- Islami Taharat Ka Mukammal Bayan
- Taharat Aur Pakizgi Ke Ahkam Roman Urdu Mein
- Taharat Ka Tareeqa Aur Zaroori Masail
- Taharat Ke Fiqhi Ahkam Aur Rehnumai
- Taharat Ka Bayan: Wuzu, Ghusl Aur Pakizgi Ke Ahkam
- Islam Mein Taharat Ki Ahmiyat Aur Fazilat
Taharat Ka Bayan