وضو کا بیان
(۳۵) وضو کی فضیلت واہمیت
(الف) شریعتِ اسلامیہ کا ہر عمل اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ وضو کی اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وضو کیے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی، بلکہ ایسا کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اور وضو کی فضیلت کے لیے اتنا کافی ہے کہ نمازی کے اعضائے وضو قیامت کے دن چمک رہے ہوں گے۔
(ب) حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی اور خیانت کے مال میں سے صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ (مسلم: وجوب الطهارة)
(ج) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشادِ نبوی نقل کرتے ہیں کہ: “بے وضو کی نماز قبول نہیں ہوتی تا آنکہ وہ وضو کرے۔” (بخاری: لا تقبل صلوٰۃ بغیر طهور)

(د) حضرت نعیم مجمر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد کی چھت پر چڑھا، آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کر کے فرمایا: کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن میری امت اس حال میں بلائی جائے گی کہ اس کے اعضاءِ وضو روشن چمکدار ہوں گے۔ لہٰذا تم میں سے جو بھی اپنی اس چمکدار جگہ کو مزید لمبا کرنا چاہے، کر لے۔ (کہ اعضائے وضو کو مقررہ مقام سے آگے تک دھوئے)۔
(بخاری: فضل الوضوء، مسلم: استحباب إطالة الغرة)۳۶ } فرائضِ وضو
۱۔ پیشانی سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک منہ دھونا۔
۲۔ کہنیوں سمیت ہاتھوں کو دھونا۔
۳۔ سر کا مسح کرنا۔
۴۔ ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا۔
وضو کرتے وقت ان چار فرائض کا اہتمام ضروری ہے ورنہ وضو نہیں ہوگا۔
ارشادِ باری ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (المائده۔٦)
{ سننِ وضو }
(۳۷) تسمیہ: وضو کرنے سے پہلے ”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ“ پڑھنی چاہیے۔
(۳۸) (الف) مسواک کرنا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ”اگر مجھے امت کے مشقت میں پڑ جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ضرور انہیں حکم دیتا کہ ہر نماز کے وقت مسواک کیا کریں۔“ (مسلم: باب السواک)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مسواک منہ کو پاک صاف کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ہے۔ (نسائی: الترغیب فی السواک)
(ب) روزہ کی حالت میں مسواک کرنا سنت ہے۔
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رضي الله عنه قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ
(حسن، ترمذی: ما جاء فی السواک للصائم)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بے شمار دفعہ…رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا۔
(۳۹) تین بار ہاتھ دھونا۔
(جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سنتِ نبویہ کے مطابق وضو کر کے دکھلایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے شروع میں تین مرتبہ ہاتھوں کو دھویا۔ (مسلم: صفة الوضوء))
(۴۰) تین دفعہ کلی کرنا۔ “ثُمَّ مَضْمَضَ” (مسلم)
پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کلی کی۔
(۴۱) تین دفعہ ناک صاف کرنا۔ “وَاسْتَنْثَرَ” (مسلم)
پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ناک صاف کی۔
(۴۲) اعضائے وضو کو تین تین دفعہ دھونا۔
“ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَىٰ إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَىٰ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَىٰ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَىٰ مِثْلَ ذٰلِكَ” (مسلم: صفة الوضوء)
پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چہرہ اور دائیں بائیں ہاتھ کو کہنیوں تک تین تین دفعہ دھویا پھر سر کا مسح کر کے دائیں بائیں پاؤں کو تین دفعہ دھویا۔
(۴۳) داڑھی کا خلال کرنا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔ (حسن صحیح، ترمذی: ما جاء فی تخلیل اللحیۃ)
(۴۴) انگلیوں کا خلال کرنا۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “جب تم وضو کرو تو ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر لیا کرو۔” (حسن صحیح، ترمذی: ما جاء فی تخلیل الأصابع)
{ ۴۵ } دائیں اعضاء کو پہلے دھونا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو، غسل اور دیگر تمام معاملات میں دائیں طرف…سے شروع کرنا پسند فرماتے۔ (بخاری: التيمن في الوضوء، مسلم: حب التيمن)
{ ۴۶ } اعضاء کو مل کر اہتمام سے دھونا
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور اعضاء کو ملتے ہوئے فرمانے لگے ‘اس طرح’ کرنا چاہیے۔
(۴۷) ترتیب سے اور پے در پے وضو کرنا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کا مسلسل عمل اس کی واضح دلیل ہے۔
(۴۸) کانوں کا مسح: سر کا مسح کر لینے کے بعد اسی پانی سے کانوں کا مسح کرنا۔ کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں، چونکہ کان بھی تو سر کا ایک جزو ہیں۔ جیسا کہ عملِ نبوی اور ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے۔
عَنِ الرُّبَيْعِ أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ قَالَتْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً (حسن صحیح۔ ترمذی: ان المسح مرة)
”حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کے اگلے پچھلے حصہ اور کانوں کا مسح ایک ہی دفعہ کرتے۔”
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:
“الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ” (حسن، ترمذی۔ ما جاء أن الأذنين من الرأس)
کہ “کان سر کا حصہ ہیں۔”
{ ۴۹ } گردن کا مسح کرنا
سر اور کانوں کا مسح کر لینے کے بعد اسی پانی سے گردن کا مسح کرنا۔
عَن مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ مَنْ مَسَحَ قَفَاهُ وُقِيَ الْغُلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ قَالَ ابْنُ حَجَرٍ هَذَا وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفاً فَلَهُ حُكْمُ الرَّفْعِ لِأَنَّ هَذَا لَا يُقَالُ مِنْ قِبَلِ الرَّأْيِ۔ (التلخيص الحبير۔ ج ۱۔ ص ۹۲)حضرت موسیٰ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے گردن سمیت سر کا مسح کیا وہ قیامت کے دن گردن میں بیڑیاں پہنانے سے بچ گیا۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ موقوف حدیث مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ چونکہ ظاہر ہے کہ ایسی بات اپنی طرف سے تو نہیں کہی جا سکتی۔”
علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ، ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ، شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کا میلان بھی اس طرف ہے۔ (نیل الاوطار۔ ج ۱۔ ص ۲۰۴)
نواب صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ گردن پر مسح کرنے کو بدعت کہنا غلط ہے۔ نیز یہ کہ تلخیص الحبیر کی مندرجہ بالا روایت اور اس سلسلہ کی دیگر روایات قابلِ استدلال ہیں۔ خصوصاً جب کہ کوئی حدیث ان کے مخالف نہیں ہے۔ (بدور الأهلّة۔
ص ۲۸)
{ ۵۰ } وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھنا
عَنْ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ “أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ” إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ (مسلم: باب الذکر المستحب عقب الوضوء)
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو وضو کرے اور خوب اہتمام سے کرے پھر یہ کلمات کہے:
اشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمداً عبده ورسوله
یقیناً اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے جس میں سے چاہے داخل ہو۔۔”{ ۵۱ } تحیۃ الوضوء
وضو کے بعد دو رکعتیں تحیۃ الوضوء کے طور پر ادا کرنا۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بھی وضو کرے اور خوب اچھی طرح وضو کرے۔ پھر ظاہر و باطن کی مکمل توجہ و انہماک کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرے یقیناً اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔
(مسلم: الذكر المستحب عقب الوضوء)
<center> نواقضِ وضو </center>
(۵۲) پاخانہ یا پیشاب کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
ارشادِ باری ہے:
اوجاء احد منكم من الغائط (سورۃ المائدہ۔٦)
“یا تم میں سے کوئی شخص بول و براز کر کے آئے۔”
(۵۳) ریاح کا خروج بھی ناقضِ وضو ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں نماز کا انتظار کرنے والے شخص کو نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے جب تک کہ وہ بے وضو نہ ہو، ایک عجمی شخص نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حدث سے کیا مراد ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہوا کا خارج ہونا۔ (بخاری: من لم یر الوضوء)
(۵۴) مذی اور ودی کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
اس کے بعد وضو کر لینا کافی ہے غسل کرنا ضروری نہیں (ان کی تفصیل موجباتِ غسل کے دوسرے سبب کے حاشیہ میں گزر گئی)۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذی کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا “مذی سے وضو اور منی سے غسل لازم ہوتا ہے۔”
(ترمذی: ما جاء فی المنی والمذی){ ۵۵ } نیند ناقض ہے
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْراً أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ لٰكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ۔
(حسن صحیح۔ ترمذی: المسح على الخفين)
”حضرت صفوان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تلقین کرتے کہ سفر کی حالت میں تین دن تک موزے اتارنے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر جنابت ہو جائے تو موزے اتار دیں (اور غسل کریں) البتہ پیشاب پاخانہ اور نیند کی وجہ سے موزے اتارنے کی ضرورت نہیں ہے (بلکہ وضو کے وقت مسح کر لینا کافی ہے) اس حدیث میں پیشاب و پاخانہ اور نیند کا ایک ہی حکم بیان ہوا ہے کہ ہر دو کی طرح نیند بھی ناقضِ وضو ہے۔”
کھڑے کھڑے یا بغیر سہارا لگائے یا نماز کی کسی ہیئت پر سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُؤُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ۔ (ابوداؤد: باب الوضوء من النوم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانثار صحابہ نمازِ عشاء کے انتظار میں ہوتے۔ اسی اثناء میں نیند کی وجہ سے ان کے سر جھک جاتے پھر وہ یونہی نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے تھے۔”
(۵۶) قے اور نکسیر ناقضِ وضو ہے۔
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَتَوَضَّأَ (أَصَحُّ شَيْءٍ فِي الْبَابِ)قَالَ التِّرْمِذِيُّ “وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ الْوُضُوءَ مِنَ الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ” (ترمذی: باب الوضوء من القیء والرعاف)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قے آگئی تو آپ نے وضو فرمایا۔”
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اکثر حضراتِ صحابہ اور تابعین کا مسلک یہی ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(ب) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَعَفَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَغْسِلْ عَنْهُ الدَّمَ ثُمَّ لِيُعِدْ وُضُوءَهُ وَلْيَسْتَقْبِلْ صَلَاتَهُ۔ (معجم طبرانی)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اگر نماز میں کسی کو نکسیر آ جائے تو وہ نماز توڑ دے پھر خون دھو کر وضو کرے اور نئے سرے سے نماز پڑھے۔”
اور خود نواب صدیق حسن خاں بھی لکھتے ہیں:
قیئ ورعاف وقلس ناقضِ وضو است وحدیث قاء فتوضأ حسن است (بدور الأهلّة۔ ص ۳۰)
قے، نکسیر اور ابکائی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور حدیث “قاءَ فَتَوَضَّأَ” حسن درجہ کی ہے۔
{ ۵۷ } خونِ استحاضہ ناقضِ وضو ہے
آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک استحاضہ عورت حضرت فاطمہ بنتِ ابی حبیش کو حکم دیا:
“ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ” (بخاری: باب غسل الدم)
“کہ پھر ہر نماز کے لئے مستقل وضو کیا کر۔”
چونکہ استحاضہ کے خون سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور غسل واجب نہیں ہوتا
- Wuzu Ka Tareeqa | Practical Step-by-Step | Complete Wudu Guide in Urdu
- Wuzu Ka Sahi Tareeqa | Practical Demonstration | وضو کا صحیح طریقہ
- Wuzu Ka Tareeqa 2026 | Sunnat Ke Mutabiq Practical Wudu | وضو کا طریقہ
- How to Perform Wudu | Wuzu Ka Mukammal Tareeqa | وضو کا طریقہ (Urdu)
- Wuzu Ka Tareeqa | Practical Wudu Tutorial | Sunnat Ke Mutabiq وضو
- وضو کا صحیح طریقہ | Wuzu Ka Tareeqa Practical | Step-by-Step Urdu Guide