Ghusl Ka Masnoon Tariqa | Sunnat Ke Mutabiq Ghusl Ka Mukammal Tariqa | غسل کا مسنون طریقہ

Table of Contents

​۲۳۔ غسل کا مسنون طریقہ:

Ghusl Ka Masnoon Tariqa | Sunnat Ke Mutabiq Ghusl Ka Mukammal Tariqa | غسل کا مسنون طریقہ
Ghusl Ka Masnoon Tariqa | Sunnat Ke Mutabiq Ghusl Ka Mukammal Tariqa | غسل کا مسنون طریقہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو ابتداءً ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے مقامِ مخصوص کو دھوتے پھر وضو فرماتے، جیسے نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے بالوں کو جڑوں تک پہنچاتے۔ جب بال تر ہو جاتے تو پھر تین چلو پانی لیتے پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے پھر پاؤں دھوتے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے، پھر انگلیوں سے بالوں کو جڑوں تک پانی پہنچاتے جب جلد تر ہو جاتی تو پھر جسم پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔
(مسلم: صفة غسل الجنابة۔ بخاری: تخليل الشعر)
​(۲۴) فرائضِ غسل:
۱۔ کلی کرنا۔
۲۔ ناک میں پانی ڈالنا۔
۳۔ سارے جسم پر ایک دفعہ پانی بہانا کہ ذرا سی جگہ بھی خشک نہ رہے۔
​ارشادِ باری ہے:
وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا۔۔۔۔ (المائدہ۔۶)
“اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب اہتمام سے طہارت حاصل کرو۔”
​ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے غسلجنابت میں بال برابر جگہ بغیر دھوئے چھوڑ دی تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا۔ (ابوداؤد: الغسل من الجنابة)
​(۲۵) جن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے وہ یہ ہیں:
۱۔ جماع
۲۔ خروجِ منی
۳۔ حیض
۴۔ نفاس
​(۲۶) جماع:
جماع سے غسل واجب ہو جاتا ہے چاہے انزال ہو یا نہ ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
اذا جلس بين شعبها الاربعة ثم جهدها فقد وجب الغسل وفي رواية لمسلم وإن لم ينزل۔
(مسلم: بيان أن الغسل۔ بخاری: اذا التقى الختانان)
“جب کوئی چار اعضاء کے درمیان بھیٹے اور کوشش کرے تو اس پر غسل واجب ہو گیا چاہے انزال نہ ہو۔”
​(۲۷) خروجِ منی:
شہوت کی حالت میں تیزی کے ساتھ منی نکلنے سے 1 غسل واجب ہو جاتا ہےاس میں نیند اور بیداری کی دونوں حالتیں برابر ہیں۔ نیز مرد و عورت کا بھی ایک ہی حکم ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مذی نکلے تو وضو کافی ہے اور منی نکلے تو غسل کرنا ہو گا۔
(حسن صحیح، ترمذی: ما جاء فی المنی والمذی)
​حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفتِ حیا حق بیان کرنے میں مانع نہیں ہوتی۔ تو کیا جب عورت کو احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں غسل واجب ہوگا۔ جب وہ احتلام کے آثار دیکھے۔
(بخاری: اذا احتلمت۔ مسلم: وجوب الغسل على المرأة)
​احتلام کی تین صورتیں:
​(۲۸) (الف) واضح رہے کہ احتلام کے بعد خواب یاد ہو اور منی کے آثار بھی ہوں تو غسل واجب ہوگا اور اگر خواب یاد ہو منی کے آثار نہ ہوں تو غسل واجب نہ ہوگا اور اگر خواب یاد نہ ہو صرف منی کے آثار ہوں تو بھی غسل واجب ہوگا۔
(ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کی بابت دریافت کیا جو کپڑوں کو بھیگا ہوا پائے، لیکن اس کو خواب یاد نہ ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر غسل لازم ہے۔ نیز پوچھا کہ جس شخص نے خواب دیکھا ہو لیکن کپڑا خشک ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ہے۔ (ترمذی: فيمن يستيقظ فيرى)
​(۲۹) (الف) احادیث نبویہ کی روشنی میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ منی ایک ناپاک مادہ ہے۔ اگر کپڑے کو لگ جائے تو اس کا ازالہ ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی

۔
(ب) عن عمرو بن ميمون قال سألت سليمان بن يسار عن المنى يصيب ثوب الرجل أيغسله ام يغسل الثوب؟ فقال أخبرتني عائشة رضى الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغسل المنى ثم يخرج إلى الصلوة في ذلك الثوب وأنا انظر إلى اثر الغسل فيه۔ (مسلم: باب حكم المنى)
وفى رواية قالت عائشة رضى الله عنها كنت اغسله منثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيخرج إلى الصلوة واثر الغسل فى ثوبه بقع الماء۔ (بخاری: باب غسل المنى وفركه)
حضرت عمرو بن میمون نے حضرت سلیمان بن یسار سے پوچھا کہ اگر منی کپڑے میں لگ جائے تو صرف ناپاک جگہ کو دھوئے یا کہ پورے کپڑے کو؟ حضرت سلیمان نے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی کو دھوتے پھر اسی کپڑے میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور کپڑے پر دھونے کا نشان مجھے نظر آ رہا ہوتا۔
ایک دوسری روایت میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھوتی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور کپڑے پر دھونے کا نشان ہوتا۔

https://youtu.be/vnDL4Atysk0?si=PDj9XEvrMVpn3oHU

​(ج) اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم اور جمہور فقہاء رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے کہ منی ناپاک ہے۔ حتیٰ کہ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ (فالصواب أن المنى نجس ويجوز تطهيره بأحدى الأمور۔) صحیح بات یہ ہے کہ منی ناپاک ہے اور کسی ایک طریقے سے اس کو پاک کرنا جائز ہے۔ (نیل الاوطار ص ۶۷)
علامہ مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کلام الشوکانی هذا حسن جید کہ شوکانی کی بات بہتر ہے اور وزنی ہے۔ (تحفۃ الاحوذی۔ ج۱۔ ص ۳۷۵)
​* (۳۰) ازالہ منی کا طریقہ:*
اگر منی کسی ایسے کپڑے پر خشک ہو جائے کہ کھرچنے سے مکمل زائل ہو جائے تو صرف کھرچنا ہی کافی ہے اور اگر کپڑا گیلا ہو تو اس کو دھونا ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مسلک ہے اس سلسلہ میں جتنی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اس سے ان سب پر عمل ہو جائے گا۔
​قالت عائشہ رضی اللہ عنہا وانى لأحكه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم يابساً بظفری۔ (مسلم: باب حکم المنی)
“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے خشک منی کو کھرچ دیا کرتی تھی۔

“​قالت عائشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغسل المنى ثم يخرج إلى الصلوة۔
(مسلم: باب حكم المنى)
“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی کو دھو کر پھر نماز کے لئے جاتے۔”
​اور ایک دوسری روایت میں ان دونوں حالتوں کی وضاحت ہے۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت كنت أفرك من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان يابساً وأغسله اذا كان رطباً۔ (دار قطنی)
“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر منی اگر خشک ہوتی تو میں کھرچ دیتی اور اگر تر ہوتی تو میں دھو دیتی۔”
​واضح رہے کہ کھرچ کر زائل کرنے سے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ منی پاک ہے کیونکہ علامہ مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
من قال بطهارة المنى مستدلاً برواية افرك اجيب بأن ذلك لا يدل على طهارة انما يدل على كيفية التطهير۔
(ملخص تحفة الاحوذی)
“کہ کھرچنے والی روایت منی کی پاکی پر دلالت نہیں کرتی، بلکہ یہ تو خود اس کو پاک کرنے کی ایک کیفیت ہے۔”
​(۳۱) جب عورت ماہانہ ایام سے فارغ ہو تو غسل کرے اور پھر سے نمازیں شروع کر دے اس پر ایامِ حیض کی نمازوں کی قضا واجب نہیں۔
ولا تقربوهن حتى يطهرن فإذا تطهرن فأتوهن من حيث أمركم الله (البقرة – ۲۲۲)
“اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان سے قربت نہ کرو، پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس آؤ جس جگہ اللہ نے تمہیں اجازت”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی بیماری تھی۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض کا نہیں۔ البتہ جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو جب ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھو۔ (بخاری: اقبال الحیض)
​(۳۲) ماہانہ ایام میں شرعی پابندیاں:
حائضہ عورت اپنے ماہانہ ایام میں نماز روزہ چھوڑ دے۔ پاک ہونے کے بعد روزہ کی قضا کرے نماز کی قضا نہیں ہے۔ نیز اس حالت میں قرآن پاک پڑھنا۔ اس کو ہاتھ لگانا، مسجد میں داخل ہونا۔ طوافِ کعبہ کرنا منع ہے اور خاوند سے ہمبستری بھی جائز نہیں۔
حضرت معاذہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ “کیا سبب ہے کہ حائضہ عورت روزہ قضا کرتی ہے نماز نہیں۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: “کیا تم حروریہ ہو”؟ میں نے عرض کیا نہیں لیکن مسئلہ کی وضاحت چاہتی ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ “جب ہماری یہ حالت ہوتی تو بس ہمیں روزہ کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا نماز کی قضا کا نہیں۔” (مسلم: وجوب قضاء الصوم لا الصلوۃ)
​(۳۳) مستحاضہ عورت کا مسئلہ:
جس عورت کے ایام دس سے متجاوز ہو جائیں تو اس کو چاہئے کہ وہ دس دن کے بعد غسل کر کے نماز شروع کر دے۔ پھر ہر نماز کے لئے وضو کر لیا کرے۔ بار بار غسل کی ضرورت نہیں۔
​عن عائشة رضى الله عنها قالت جاء ت فاطمة ابنة ابى حبيش إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم إنى امرأة استحاض فلا اطهر أفادع الصلوة؟ قال لا انما ذلك عرق وليست بالحيضة فإذا أقبلت الحيضة فدعى الصلوة وإذا أدبرت فاغسلى عنكالدم وصلى قال أبو معاوية في حديثه وقال توضاء لكل صلوة حتى يجيء ذالك الوقت۔ (ترمذی باب المستحاضہ)
وفي البخاري ثم توضاء لكل صلوة حتى يجيء ذالك الوقت
(بخاری: باب غسل الدم)
​حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ “فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مستحاضہ عورت ہوں کبھی اس سے پاک نہیں ہوتی کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “نہیں چونکہ یہ رگ کا خون ہے حیض کا نہیں، لہذا صرف ایامِ حیض میں نماز چھوڑو بعد ازاں غسل کر کے نماز شروع کر دو اور ہر نماز کے لئے وضو کر لیا کرو۔”
​(۳۴) نفاس:
وضع حمل کے بعد جتنے دن خون آئے وہ نفاس کے ایام شمار ہوں گے۔ اس دوران عورت پر ایامِ حیض والی پابندیاں عائد رہیں گی۔ واضح رہے کہ نفاس کی کم از کم مدت کا تعین مشکل ہے۔ لہذا جو نہی خون آنا بند ہو جائے تو غسل کر کے نماز وغیرہ شروع کر دے۔ البتہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ جب کہ چالیس دن تک خون آتا رہے۔ اگر اس کے بعد بھی خون آئے تو وہ نفاس کا نہیں بلکہ کسی اور عارضہ کی وجہ سے ہے۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عہد نبوی میں نفاس والی عورتیں چالیس دن تک شرعی پابندیوں سے مستثنیٰ رہتیں اور ہم اپنے چہروں پر زرد بوٹی ملا کرتی تھیں۔
(ترمذی: کم تمکث النفساء)
​امت کا اجماع:
تمام صحابہ رضی اللہ عنہم حضرات تابعین رحمہم اللہ اور ان کے بعد تمام علماء کا اجماع ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن کی نماز چھوڑ دیں گی۔ البتہ جو عورت اس مدت سے پہلے ہی طہر محسوس کرے وہ غسل کر کے نماز شروع کر دے۔ (ترمذی: باب کم تمکث النفساء)

 

 

 

  1. Ghusl Ka Masnoon Tariqa | Sunnat Ke Mutabiq Ghusl Ka Mukammal Tariqa
  2. Ghusl Ka Sahi Aur Masnoon Tariqa | Har Musalman Ke Liye Zaroori Maloomat
  3. Farz Ghusl Ka Masnoon Tariqa | Ghusl Ka Pura Sunnati Method
  4. Ghusl Ka Masnoon Tariqa Step By Step | Sunnat Ke Mutabiq Ghusl Kaise Karein?
  5. Janabat Ka Ghusl Kaise Karein? | Masnoon Tariqa Roman Urdu
  6. Ghusl Mein Farz Aur Sunnat Kya Hain? | Masnoon Ghusl Ka Asan Tariqa
  7. Ghusl Kab Farz Hota Hai? | Masnoon Tariqa Aur Ahkam
  8. Sunnat Ke Mutabiq Ghusl Ka Tariqa | Mukammal Rehnumai Roman Urdu

Leave a Comment