Divorce (TALAQ) in ISLAM | khula ki iddat ki muddat in urdu | [خلع] husband se talaq lene ka wazifa | zalim shohar se talaq lene ka trika

Divorce (TALAQ) in ISLAM | khula ki iddat ki muddat in urdu | [خلع] husband se talaq lene ka wazifa | zalim shohar se talaq lene ka trika
Spread the love

zalim shohar se talaq lene ka trika
آج کا ہمارا موضوع ہے خلع کے متفرق مسائل اور ان کے جوابات
مسئلہ نمبر 1 شوہر اگر ظالم ہو خرچہ وغیرہ بھی نہ دیتا ہوں اور نہ ہی طلاق دیتا ہوں
کیا شریعت کی رو سے عورت کو خلع لینے کا حق حاصل ہے جب کہ شوہر ظالم بھی ہے اور اس کے ساتھ رہتا بھی نہیں کیا نکاح اس کے ساتھ قائم ہے کہ نہیں جواب نکاح تو قائم ہے اور عورت کو چاہیے کہ رشتے داروں اور چوہدری کے ذریعے بڑے لوگوں کے ذریعے شوہر کو خلع دینے پر آمادہ کیا جائے اگر شوہر خلع نہ دے تو عورت عدالت سے رجوع کرے اور اپنا نکاح اور شوہر کا نان نفقہ خرچہ وغیرہ نہ دینا شہادت کے ذریعے ثابت کرے عدالت تحقیقات کے بعد اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ عورت عورت کا دعوی صحیح ہے تو عدالت شوہر کو حکم دے کہ کے شوہر یا تو گھر حسن و خوبی کے ساتھ احسن طریقے سے آباد کرے اور بیوی کو نان نفقہ خرچہ وغیرہ دے یا بیوی کو طلاق دے دے اگر شوہر تیار نہ ہو عدالت کہہ دے کہ ہم نکاح فسخ ہونے کا فیصلہ کر دیں گے اگر عدالت کے کہنے پر بھی وہ شوہر نہ گھر آباد کرے اور نہ ہ طلاق دے تو عدالت خود نکاح فسخ کر دے

مسئلہ نمبر 2 اگر عورت نے بھری مجلس میں دو مرتبہ تین مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ شوہر کو کہا کہ مجھے طلاق دے دو اور شوہر خاموش رہا تو کیا طلاق واقع ہوگی کہ نہیں
جواب اگر شوہر بالکل خاموش رہا اس نے کوئی جواب نہیں دیا عورت کے کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی

مسئلہ نمبر 3 عورت کے طلاق مانگنے سے طلاق کا حکم شریعت کی رو سے ایک شادی شدہ عورت بھری مجلس میں چار پانچ مرتبہ طلاق کا مطالبہ کرے اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے جب کہ دونوں کے حقوق برابر ہیں جواب عورت کے طلاق مانگنے سے طلاق نہیں ہوگی البتہ اگر عورت بغیر کسی شرعی وجہ کے بغیر کسی مجبوری کے طلاق مانگے تو ایسی عورت کو حدیث پاک میں منافق فرمایا گیا ہے اور ایسی عورت پر لعنت کی گئی ہے اور اگر مرد کے ظلم و وغیرہ سے تنگ آکر طلاق کا مطالبہ کرے تو عورت گنہگار نہیں ہوگی بلکہ مرد کے لیے لازم ہوگا کہ اگر وہ شریفانہ بر تاوء نہیں کرسکتا تو عورت کو طلاق دے دے مرد عورت کے حقوق تو بلاشبہ برابر ہیں اگرچہ حقوق کی نوعیت اور درجے کا فرق ہے لیکن طلاق ایک خاص مصلحت اور حکمت کی بنا پر مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے عورت کے سپرد اس کو نہیں کیا گیا البتہ شریعت مطہرہ نےعورت کو خلع لینے کا حق دیا ہے

مسئلہ نمبر 4 اگر شوہر ظلم کرتا ہواور تنگ بھی بہت زیادہ کرتا ہوں طلاق بھی نہ دیتا ہوں عورت کیا کرے

جواب نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ بار بار حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کا حکم دیا ہے تاکید فرمائی ہے اور جو انسان ایسا نہ کرے وہ بہت بڑا ظالم ہے جابر ہے ایسے انسان سے عورت کو چاہئے کہ عدالت کے ذریعے خلع لے لے جو طلاق بھی نہ دیتا ہودین اسلام نے عورت کو خلع لینے کا حق دیا ہے حقوق میں برابری توازن برقرار رکھنے کے لئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عورت پر ظلم ہوتا رہے اور عورت آدمی کے پاس ہی رہے کہیں ایسا نہ ہو کہ عورت پر ظلم ہوتا ر ہے اورعورت ایسی پستی رہےیہی توازن ہے جو شریعت مطہرہ نے ایسے نازک رشتے میں ملحوظ رکھا ہے


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.