musht zani ka nuqsan | musht zani ka ilaj in urdu | muth marne ke baad kamjori | مشت زنی | molanamasoodnqb

مشت زنی کی تعریف

 

 

مشت زنی (عربی: استمناء، اردو میں عام طور پر جلق، مٹھ مارنا یا ہتھ لس وغیرہ) ایک ایسا شہوانی عمل ہے جس میں انسان بغیر کسی دوسرے فرد کے، اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنی شرمگاہ کو ہاتھ، انگلیوں یا کسی آلے کے ذریعے حرکت دیتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں جنسی لذت حاصل ہوتی ہے اور اکثر اوقات انزال (منی کا اخراج) بھی واقع ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ عمل اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان اپنی جنسی خواہش پر قابو نہ رکھ سکے یا ازدواجی تعلق میسر نہ ہو۔

👭خواتین میں مشت زنی کے طریقے
خواتین میں مشت زنی کے مختلف طریقے پائے جاتے ہیں:

1️⃣ ۔ زیادہ تر صرف باہر سے رگڑ (clitoris پر stimulation) کے ذریعے ہوتا ہے۔

2️⃣. کچھ خواتین اس دوران انگلی یا کوئی اور چیز اندام نہانی (شرمگاہ کے اندر) میں داخل بھی کرتی ہیں تاکہ زیادہ لذت محسوس ہو۔
👬مردوں میں مشت زنی کے طریقے

.مردوں میں مشت زنی کا طریقہ

1️⃣ عام طور پر مرد اپنے ہاتھ کے ذریعے عضوِ تناسل(penis) کو پکڑ کر رگڑتے ہیں، یہاں تک کہ انزال (ڈسچارج)ہوجاے ۔

2️⃣ بعض مرد کسی نرم تکیہ یا نرم چیز کا سہارا لیتے ہیں تاکہ زیادہ لذت محسوس ہو ۔لیکن طریقہ صرف رگڑ ہوتا ہے ۔
𝑮𝒆𝒏𝒆𝒓𝒂𝒍𝒍𝒚 𝒎𝒆𝒏 𝒓𝒖𝒃 𝒕𝒉𝒆𝒊𝒓 𝒑𝒆𝒏𝒊𝒔 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒕𝒉𝒆𝒊𝒓 𝒉𝒂𝒏𝒅

* 👬مردوں میں مشت زنی کے نقصانات

1۔قوۃ باہ (جماع ) کی کمی
2۔آنکھوں اور یاداشت پر منفی اثرات
3۔قبل از وقت انزال
4۔تھکن /درد وغیرہ
5۔شادی میں دلچسپی کم ہونا
6۔چڑچڑاپن/ذہنی تناو
7 ۔خود اعتمادی میں کمی
8۔ناجائز خیالات اور فحش مواد کی عادت

👭خواتین میں مشت زنی کے نقصانات

1.بعض دفعہ پردہ بکارت کا زائل ہوجا

2.رحم اور جنسی اعضاء کی کمزوری

.3بے وقت حیض (ماہواری میں خرابی)

4.ہارمونی نظام میں بگاڑ

5.جسمانی تھکن اور کمزوری

6.احساسِ جرم اور ذہنی دباؤ

7.بار بار فحش خیالات کا آنا

8.ازدواجی زندگی میں مشکلات

.9نیند کی کمی اور اعصابی کمزوری

.10.نکاح میں دلچسپی کی کمی

11.شوہر کے ساتھ تعلقات میں لگاؤ نہ ہونا

12.تنہائی اور غیر فaطری رویے

📌 👱🧕مشترکہ نقصانات (مرد و عورت دونوں میں)

1.دین میں گناہ اور روحانی کمزوری

2.عبادت میں سستی

3.صحت مند ازدواجی تعلقات میں رکاوٹ

4.وقت کا ضیاع اور منفی عادات کی لت

اسلام میں مشت زنی کا حکم
مشت زنی کرنا ناجائز اور گناہ ہے، اس کی حرمت قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔

📖*دلیل اول*

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} ( سورۃ المومنون ، آیت ، ۵ تا ۸)

ترجمہ: اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔ (ترجمہ از شیخ الھند)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ، اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ} ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے‘‘۔ (از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ) (معارف القرآن)

نیز کئی احادیث میں اس فعلِ بد پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں،
*ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے ) ۔
*
دلیل دوم

’’عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره”. ” تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر

 

هذا “. قال البخاري في التاريخ”.(شعب الإيمان 7/ 329)

 

 

muth marne ke baad kamjor
muth marne ke baad kamjor

ترجمہ حدیث
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ نظر رحمت فرمائے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور نہ ہی ان کو عام لوگوں کے ساتھ جمع کرے گا۔ وہ سب سے پہلے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، مگر یہ کہ وہ توبہ کر لیں، مگر یہ کہ وہ توبہ کر لیں، مگر یہ کہ وہ توبہ کر لیں۔ پس جو توبہ کر لے، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

1. جو اپنی ہی ہاتھ سے بدفعلی کرے (مشت زنی کرنے والا)،

2. جو عملِ قومِ لوط کرے (مرد کے ساتھ بدفعلی کرنے والا) اور جس کے ساتھ کیا جائے،

3. جو شراب کا عادی ہو،

4. جو اپنے والدین کو اس قدر مارے کہ وہ اس سے فریاد کریں،

5. جو اپنے پڑوسیوں کو ایذا دے یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کریں،

6. اور جو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔”

لہذا ثابت ہوا کہ مشت زنی کرنا حرام ہے گناہ ہے ۔

⚖️*مشت زنی کے جواز کی صورت*

مشت زنی کب جائز ہے مشت زنی کا حلال طریقہ

عام احوال میں بیوی سے مشت زنی کرانا مکروہ تنزیہی ہے، لیکن اگر بیوی حیض یا نفاس کی حالت میں ہو یا مرض وغیرہ کی وجہ سے ہم بستری ممکن نہ ہو اور شوہر پر شہوت کا غلبہ ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ نیز اس صورت میں دونوں مشت زنی کی وعید میں شامل نہیں ہوں گے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (2 / 399):

💊مشت زنی کا علاج
مشت زنی سے بچنے کے لئے کچھ روحانی ،جسمانی ،عملی تدبیریں اختیار کریں ۔

معالج سے رجوع
کسی معالج/ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اور انرجی کنٹرول کرنے والی ادویات استعمال کریں ۔

اللہ کا خوف اور آخرت کی یاد

،بار بار نفس کو یاد دلائیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے اس عمل سے منع کیا ہے اور تم نے آخرت میں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔

نکاح میں جلدی

جلد نکاح کریں اگر نکاح جلد ممکن نہیں تو روزے رکھیں ۔
حدیث میں آتا ہے جو تم میں نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے ۔

مصروفیات بڑھا دیں ۔

تنہائی میں رہنے سے گریز کریں
۔
فحش مواد سے گریز کریں
۔
روز دو رکعت صلات توبہ پڑھتے رہے اور اللہ سے مسلسل اس گناہ سے پناہ مانگتے رہے ۔

زیادہ گرم مصالحہ دار چیزیں کھانے سے گریز کریں ۔

نیک اور اچھے دوستوں کے ساتھ رہیں ۔

ورزش کریں ۔۔۔۔

📢 میرا پیغام نوجوانوں کے نام

musht zani ka nuqsan | musht zani ka ilaj in urdu | muth marne ke baad kamjori

⚠️ خدارا اپنی جوانیوں کو برباد نہ کریں ۔مشت زنی جیسی لعنت میں مبتلاء ہوکر اپنی جوانیوں نالیوں میں نہ بہائیں ۔بروقت نکاح کریں حلال کی کوشش کریں حرام میں مبتلاء نہ ہو ۔

Leave a Comment