فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے کیا کیا عذاب مسلط کیے؟ |Firon Ki Qaum Par Azaab-E-Ilah

فرعون اور اس کی قوم پر اللہ کے مسلسل عزاب:

 

Firon Ki Qaum Par Azaab-E-Ilah

فرعون اور اس کی قوم کی جانب سے حضرت موسی علیہ السلام کی دعوت کے جواب میں مسلسل تکبر، سرکشی، انکار اور ظلم و ستم کاسلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے بھی انہیں یکے بعد دیگرے مختلف عذابوں اور آزمائشوں میں مبتلا کر دیا۔

فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے کیا کیا عذاب مسلط کیے؟ |Firon Ki Qaum Par Azaab-E-Ilah
فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے کیا کیا عذاب مسلط کیے؟ |Firon Ki Qaum Par Azaab-E-Ilah

پہلا عذاب :

اللہ نے ایسا طوفان بھیجا جس سے ان کی کھیتیاں تباہ ہوگئیں۔

دوسراعذاب:

ٹڈیوں کے دل کے دل آۓ جو درختوں کے پتے تک چٹ کر گئے۔

تیسرا عذاب:

اس قدر چیچڑیاں پیدا ہوگیئں کہ انھوں نے جمع شدہ غلے کو ناقابل استعمال کر دیا۔

چوتھا عزاب:

مینڈکوں کی کثرت ہوگئ بات کرنے کے لیے منہ کھولتے تو مینڈک منہ کی طرف چھلانگ لگاتے۔

پانچواں عذاب:

ان کی نہروں، کنوؤں اور مٹکوں کا پانی خون میں تبدیل ہو گیا۔

آہ و زاری اور عہد وقرار:

جب کوئی عذاب آتا توموسیٰ علیہ السلام کے سامنے آہ وزاری اور عہد وقرار کرتے کہ اگر اللہ نے اس عذاب سے نجات دے دی تو ہم ایمان لے آئیں گے لیکن جب عذاب ٹل جاتا تو وہی کچھ کرنے لگتے جو پہلے کر رہے ہوتے تھے۔

فرعونیوں کے عذاب سے نجات:

پھر یوں ہوا کہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فرعونیوں کے عذاب سے نجات دے دی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں رات کی تاریکی میں مصر سے لے کر نکل گئے۔

دستور زندگی (تورات)

آزادی نصیب ہوئی تو دستور زندگی کی ضرورت محسوس ہوئی ۔اللہ تعالی نے اپنے نبی کو کوہ طور پر بلایا۔ وہاں آپ نے چالیس سال روزے رکھے۔ پھر آپ کو باری تعالی سے ہم کلامی کا شرف بھی حاصل ہوا اور دستور زندگی کے طور پرتورات بھی عطا ہوئی۔

بچھڑے کی عبادت :

آپ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں سامری کے بہلانے پھسلانے پر اسرائیلیوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کر دی ۔ آپ واپس تشریف لائے تو آپ کو ان کی مشرکانہ حرکت سے بےپناہ دکھ ہوا۔

Muslim Names for Boys and Girls and Meaning | Pakistani Islamic Names with Urdu Meaning

یہود کی انوکھی عادت:

اسرائیلی عجیب قوم تھے :
۱۔ قدم قدم پر پھسل جاتے تھے۔
۲۔ وعدے کرتے تھے اور بھلا دیتے تھے۔
۳۔ احکام الہیہ کا مذاق اڑاتے تھے۔
۴۔ ان میں تاویل اور تحریف تک سے باز نہیں آتے تھے۔
۵۔ انہیں حکم دیا گیا کہ بیت المقدس میں سر جھکا کر داخل ہونا مگر وہ سر اٹھا کر اور گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے۔
۶۔ انہیں کہا گیا کہ ہفتے کے دن اللہ کی عبادت کے سوا کچھ نہ کرو مگر وہ حیلے بہانے سے مچھلی کا شکار کرنے لگے۔
۷۔ ان کے سروں پر کوہ طور اٹھاکر تورات پر عمل کا وعدہ لیا گیا۔ مگر وہ اپنے وعدے کو نبھانے میں ناکام رہے۔

عالم ارواح میں تمام انسانوں سے وعدہ:

یہ تمام واقعات سورہ اعراف میں تفصیل سے مذکور ہیں۔ جب بنی اسرائیل سے وعدہ لینے کا ذکر ہوا تو اسی مناسبت سے بارہویں ہورکوع میں بتایا گیا کہ عالم ارواح میں تمام انسانوں سے اللہ کے حکموں کی تعمیل کا وعدہ لیا گیا تھا۔ مگر اکثر انسانوں نے اس عہد کو فراموش کردیا۔

(اس سورت کے اختتام تک جو اہم مضامین ہیں وہ درج ذیل ہیں)

marez check karne ka tarika |بازو ناپ کر تشخیص کرنا |Rohani Ilaj- Online Istikhara

(1)بلعم بن باعوراء کا قصہ:

بلعم بن باعورا کا قصہ جسے علم و شرف عطا کیا گیا تھا۔ لیکن اس بدبخت نے اپنے علم کو دنیا کے چند سنگریزوں کے عوض فروخت کردیا۔

علم عمل اور اعلیٰ اخلاق کے بغیر بے کار ہے:

اس قصے سے ہمیں یہ عبرت حاصل ہوتی ہے کہ عمل اور اعلی اخلاق کے بغیر خالی خولی علم اللہ کے ہاں کسی کام کا نہیں۔ اسی لیے کسی عرب شاعر نے کہا ہے کہ: جس کا ترجمہ یہ ہے:
“اگر تقوی کے بغیر علم میں کوئی شرف و کمال ہوتا تو اللہ تعالی کی مخلوق میں سے ابلیس سب سے زیادہ معزز ہوتا”

(2)کفار چوپاؤں کی طرح ہیں:

کفار چوپاؤں کی طرح ہیں کیونکہ وہ اپنے دل و دماغ اور آنکھوں اور کانوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایمان سے محروم رہتے ہیں۔
۱۔ جو لوگ عقل اور دماغ کو دین کے لیے استعمال نہیں کرتے وہ دیوانے ہیں۔
۲۔ جو آیات الھیہ نہیں سنتے وہ بہرے ہیں۔
۳۔ اور جو انہیں نظر بصیرت سے نہیں دیکھتے وہ اندھے ہیں۔

(3)دنیا کی مہلت:

اللہ تعالی کفار کو اس دنیا میں مہلت دیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انہیں اچانک پکڑ لیتا ہے۔
مہلت کے وقفہ کی وجہ سے بسا اوقات انسان دھوکہ کھا جاتا ہے اور گناہوں پر جری ہو جاتا ہے۔

(4)قیامت کا علم:

قیامت کا معین علم کسی کو بھی نہیں ہے۔

(5) اخلاق کریمانہ:

اللہ تعالی نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اخلاق کریمانہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:
“آپ عفواختیار کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کر لیں”

سورت کی ابتداء اور اختتام:

سورہ اعراف کی ابتدا بھی قرآن کی عظمت کے بیان سے ہوئی تھی اور اس کا اختتام بھی قرآن کی تعظیم اور ادب و احترام کے بیان پر ہوا ہے فرمایا گیا :
“جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہوں تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قرآن کی عظمت کا نتیجہ:

جب کوئی شخص قرآن کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے توجہ سے سنتا ہے اور اس کی آیات میں غور و تدبرکرتا ہے تو اس کا دل متاثر ہوتا ہے۔ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔

فرعون کا واقعہ
عذاب الہی کے واقعات
حضرت موسی علیہ السلام کا قد

Leave a Reply

Your email address will not be published.