Surah Al-Ma’idah |سورۃ المائدہ اردو ترجمہ_Kholas e Quran_

Surah Al-Ma’idah

کفارکی دوستی کی قباحت:

یہودونصاریٰ کی دوستی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ سچے اہل ایمان سے دوستی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کفار کی دوستی کی قباحت کو واضح کرنے کے لیے مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہےکہ وہ اسلام کے شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ دوستی کسی طور پر بھی جائز نہیں ۔

surah Mediaidah meaning in urdu_سورۃ المائدۃ ۔ مع اردو ترجمہ _سورۃ المائدہ کی تفسیر_

اسلام اور قرآن کو جھٹلایا :

یہود و نصاری کی گمراہیوں میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے اسلام اور قرآن کوجھٹلایا۔

عیسیٰ علیہ السلام کو خداٹھرایا:

اور نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا ٹھہرایا ۔ جیسا کہ چھٹے پارے کے چودھویں رکوع میں فرمایا:
“بے شک وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ وہ تین میں سے تیسرا تھا ۔”
قرآن نے ان کے غلط نظریہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا
“مسیح بن مریم اور ان کی والدہ دونوں کھانا کھاتے ہیں”
ظاہر ہے کہ جو کھائے گا وہ فضلہ نکالنے کا بھی محتاج ہوگااور جو محتاج ہیں وہ خدا نہیں ہو سکتا ۔

(14) دین میں ناحق غلو:

یہود اور نصاریٰ دونوں کو دین میں ناحق غلو کرنے اور خواہشات کی اتباع کرنے سے منع کیا گیا ہے کیوں کہ یہ غلواکثر گمراہی کا سبب بنتا ہے۔

(15) یہود پر اللہ کی لعنت کا سبب :

چھٹے پارےکے آخری رکوع میں یہود پر اللہ کی لعنت کا سبب بتلایا ہے وہ یہ ہے کہ :
1۔ وہ اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔
2۔ اور حد سے تجاوز کر جاتے تھے ۔
3۔ اور ایک دوسرے کو برے کاموں سے منع کرتے تھے

یہود اور اوامر و نواہی :

یہ سب ذکر کرکے اصل میں امت اسلامیہ کو سمجھایا گیا کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے ورنہ ان پر بھی ویسے ہی اللہ کی لعنت ہو سکتی ہےجیسا کہ بنی اسرائیل پر لعنت ہوئی ۔

یہود کے علماء کا حال :

اور یہ بات خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت میں ارشاد فرمایا ہے۔ ترمذی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب بنی اسرائیل معاصی میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے انہیں منع کیامگر وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے بھی رہے چنانچہ اللہ نے ان سب کے دلوں کو ایک جیسا کر دیا ا۔

داؤد اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت :

اورداؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی یہ اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھےاور حد سے تجاوز کر جاتے تھے۔

نہ ایمان کامل’ نہ عذاب سے نجات:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے مگر یہ فرماتے ہوئے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے نہ تمہارا ایمان کامل ہو سکتا ہے اور نہ ہی تم اللہ کے عذاب سے نجات پا سکتے ہو۔ جب تک کہ تم لوگوں کو (حق کی دعوت نہ دو اور)حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہ کرو(اور انہیں ظلم اور معاصی سے منع نہ کرو)۔ (ترمذی)

(16) مسلمانوں کے سخت دشمن:

آخری آیت میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے سب سے سخت دشمن یہود اور مشرکین ہیں اور قرآن کے اس دعویٰ پر یہود کی پوری تاریخ گواہ ہے۔

مسخ شدہ عیسائیت :

البتہ جو واقعی اور حقیقی نصاریٰ ہیں۔ وہ مسلمانوں کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ آج ہمیں جن نصاریٰ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ حقیقت میں وہ نصاریٰ نہیں ہیں۔ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں ۔ ان کی اکثریت تو فکر و عمل کے اعتبار سے یہود کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے ۔ بے شمار ایسے ہیں جو ملحد اور بے دین ہیں۔ صرف نام کے عیسائی ہیں۔ باقی جو بچتے ہیں وہ مسخ شدہ عیسائیت پر عمل پیرا ہیں۔ “نصرانیت” کہیں بھی نہیں ہے ۔

🎆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🎆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🎆

پارہ 7

حقیقی نصاریٰ :

چھٹے پارے کی آخری آیات میں بتایا گیا تھا کہ جو حقیقی نصاریٰ ہیں وہ اپنے دلوں میں مسلمانوں کے لیےقدرے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

حبشیٰ کے نصاریٰ:

اب سادتویں پارہ کے شروع میں بھی بعض نصاریٰ ہی کا ذکر ہے جو قرآن سن کر آپ اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور بے اختیار ان کی آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں۔
(83-84)
یہ آیت حبشہ کے ان نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں۔ جن کے ملک میں مسلمان ہجرت کر گئے تھے۔ انہوں نے جب مسلمانوں کی زبان سے قرآن سنا تو روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اور ان کی داڑھیاں آنسو کی رم جھم سے تر ہو گیئں۔

اللہ کے کلام کی تاثیر :

اصل میں اللہ کے کلام میں تاثیر ہی ایسی ہے کہ اگر ایسے دل اسے سنے جوبغض اور کینہ سے خالی اور خوف و خشیت سے معمور ہوں توجسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے آنسو چھلک ہی پڑتے ہیں۔

شرعی مسائل :

حقیقی نصاریٰ کے کلام اللہ سے متاثر ہونے اور رونے دھونے کا حال بتانے کے بعد شرعی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ کیونکہ سورة مائدہ مدنی سورت ہے۔

(1) عقائد سے بحث :

جیسے مکی سورتوں میں عام طور پر عقائد سے بحث ہوتی ہے ۔

(2) شرعی امور سے بحث :

یونہی مدنی سورتوں میں کہیں تفصیل کے ساتھ اور کہیں اختصار کے ساتھ تشریعی امور سے بحث ہوتی ہے۔

یہاں جو مسائل و احکام ذکر کیے گئے ہیں ۔وہ درج ذیل ہیں :
حلال و حرام کا اختیار :

کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہے تم نہ تو انہیں حرام سمجھو اور نہ ہی ان کے استعمال سے احترازکرو۔ (87’88)

اعتدال کا دین :

اصل میں اسلام کےاعتدال کا دین ہے جس میں نہ افراط ہے نہ غلو اور نہ کمی کوتاہی۔ اس لیے کہ اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ پاکیزہ چیزوں کے استعمال سے اجتناب کو تقوی اور کمال کا سبب سمجھا جائے اور نہ ہی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حرام اور حلال کے فرق ہی کو اٹھا دیا جائے اور بے دریغ ایسی چیزوں کا استعمال شروع کر دیا جائے جنہیں اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔

(2) لغو قسم:

لغو قسم پر کوئی دنیاوی مواخذہ نہیں۔(89)
لغوقسم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اپنے خیال کے مطابق سچی قسم کھاۓ ہیں حالانکہ وہ کام اس کے گمان کے خلاف تھا۔

قسم پر کفارہ اور مواخزہ:

البتہ ایسی قسم پر کفارہ کی صورت میں مواخزہ ہوگا جو مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کھائی جائیں اور پھر انہیں پورا نہ کیا جائے ۔

(3) شیطانی عمل :

شراب’ جوا’بت اور پانسے قطعی حرام اور شیطانی عمل ہیں۔ان کے ذریعے شیطان مومنوں کے دلوں میں بغض و عداوت کے بیج بوتا ہے اور انہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دیتا ہے۔(90-92)

(4) احرام کے حالت میں شکار:

 

 Surah Al-Ma'idah |سورۃ المائدہ اردو ترجمہ_Kholas e Quran_
Surah Al-Ma’idah |سورۃ المائدہ اردو ترجمہ_Kholas e Quran_

1۔ احرام کی حالت میں خشکی کا شکار جائز نہیں۔
2۔ البتہ سمندر اور دریا میں رہنے والے جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے ۔(94-96)

(5) بیت الحرم’شہر حرام:

احرام کی مناسبت سے اللہ تعالی نے بیت الحرام یعنی کعبہ اورشہر حرام کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ یہ کعبہ کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالی نے اسے اور اس کے گرد و بیش کے علاقوں کو حرام قرار دیا ہے۔

حرمت اورامن:

اس کی حرمت اور امن کا اندازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول سے ہوتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ:
“اگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم میں دیکھ لوں تو اس وقت تک اس وقت تک اس پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا جب تک کہ وہ حرم کی حدود سے باہر نہ نکل جائے۔”

(6) مشرکین کے حرام کردہ جانور :

زمانے جاہلیت میں مشرکین نےبہت سارے جانو بزعم حرام قرار دے رکھے تھے اور ان کے لیے مخصوص نام بھی تجویز کر رکھے تھے خویش۔ مثال کے طور پر :
سا ئبہ ‘ بحیرہ ‘ وصیلہ ‘ اور حام۔
آیت نمبر 103 میں واضح طور پر بتایا گیا کہ مشرکین کا جھوٹ اور افتراء ہے ورنہ اللہ تعالی نے ان میں سے کسی بھی جانور کو حرام قرار نہیں دیا ۔

(7) وصیت اور گواہ :

جب کسی انسان کو موت کی آہٹ محسوس ہونے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ قابل وصیت امور کے بارے میں وصیت کر جائے ۔ اس وصیت پر دو قابل اعتماد شخصوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ کل کلاں اگر اختلاف ہو جائے تو ان کی گواہی کی روشنی میں فیصلہ کیا جا سکے۔

(8)قیامت کے دن کا منظر:

حلال و حرام کے ان مسائل کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کی ہے ۔ جب تمام رسولوں کو جمع کرکے ان سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے میرا پیغام میرے بندوں تک پہنچایا تو تمہیں کیا جواب دیا گیا۔

حضرت مسیح پر اللہ کے احسانات :

انبیاء علیہ السلام کے ساتھ سوال و جواب کے تناظر میں حضرت مسیح علیہ السلام کا خاص طور پر تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن سیدنا مسیح علیہ السلام کو اپنے احسانات یاد دلائے گا۔

“مائدہ” والا قصہ:

ان احسانات میں “مائدہ”والا قصہ مذکور ہے کہ جب حواریوں نےحضرت عیسی علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ آپ اللہ سے درخواست کریں کہ وہ ہمارے لئے آسمان سے “مائدہ” نازل فرمائے ۔ یعنی ایسا دسترخوان جس میں کھانے پینے کی مختلف آسمانی نعمتیں سجی ہوئی ہوں۔

سورۃ کا نام :

اسی قصہ کےحوالے سے اس سورت کا نام مائدہ رکھا گیا ہے۔

اللہ کا سوال :
اپنے چند احسانات گنوانے کے بعد اللہ تعالی سوال کرے گا: “اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کہ تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود ٹھراؤ۔

حضرت عیسیٰ علیہ سلام کا جواب :

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بارگاہ جلل میں عرض کریں گے : “تو پاک ہے میرے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق ہی نہیں تھا “
پھر عرض کریں گے کہ :
“میں نے تو انہیں ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا تھا ۔ اگر انہوں نے میرے حکم کی نافرمانی کی ہے تو آپ کو اختیار ہے چاہیں تو انہیں سزا داور چاہیں تو معاف کردیں۔” (117-118)
قیامت کے دن کی منظر کشی اور اللہ کی ہمہ گیر سلطنت کے تذکرہ پر سورۀ مائدہ اختتام پزیر ہو جاتی ہے۔

سورہ مائدہ آیت نمبر 5
2>سورہ مائدہ کی فضیلت
سورہ مائدہ آیت 35
سورہ مائدہ آیت نمبر 6
3>سورہ مائدہ کا شان نزول
سورہ مائدہ آیت نمبر 3
سورہ مائدہ آیت نمبر 114

Leave a Reply

Your email address will not be published.