Types of Talaq in Islam | talaq in islam in urdu | halala in islam in urdu | طلاق دینے کا صحیح طریقہ| حلالہ شرعی کا طریقہ

Spread the love

الحمدللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاوالمرسلین محمدو علی اٰلہٖ واصحا بہ اجمعین الی یوم الدین اما بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آج کا ہمارا موضوع ہے

طلاق دینے کا صحیح طریقہ

talaq in islam in urdu

نمبر ایک شوہر بیوی کو حالت طہر میں ایک طلاق رجعی دے اور پھر صحبت نہ کرے ہمبستری نہ کرے جمع نہ کرے ملاپ نہ کرے یہاں تک کہ عدت مکمل ہو جائے اگر رجوع کر لے گا تو نکاح نہین ٹوٹے گا ورنہ عدت کے پورا ہونے پر طلاق بینا پڑ جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا اور نکاح دوبارہ کرنا پڑے گااگر شوہر دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو گواہوں کے ساتھ نکاح کرےگا یہ طلاق کا طریقہ جو ذکر ہوا یہ سب سے بہتر اور احسن ہے یہ سب سے احسن اور بہتر طریقہ ہے

نمبر دو شوہر بیوی کو علیحدہ علیحدہ تین طہر میں تین پاکی میں ایک ایک طلاق کرکے دے اس صورت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جائے گی رجوع کی کوئی گنجائش نہیں اور بغیر حلالہ شرعی کے پہلے شوہر کے پاس نہیں آسکتی اس صورت میں اگر اس کے بغیر بھی وہ آپس میں رہنا چاہیے تو جائز نہیں ہوگا جو اولاد ہوگی وہ ثبوت النسب نہیں ہوگی حلال کی نہیں ہوگی

طلاق دینے کی تیسری صورت اس کو طلاق بدعت کہتے ہیں اور اس کی کئی صورتیں ہیں

نمبر ایک حالت طہر میں طلاق دے اور اسی پاکی میں ہمبستری کر لے ملاپ کرلے ہم جمع کر لے
تین طلاق اکٹھی دے دے اس صورت میں بیوی اس پر حرام ہوجائے گی بغیر حلالہ
شرعی کہ اس سے نکاح درست نہیں ہوگا

حلالہ شرعی کا طریقہ

 

یہ ہے کہ عورت کسی اور آدمی سے شادی کریں اور وہ اس سے ہمبستری کرےاور ملاپ کرےوہ شوہر اسے مر جائے یا اس کو طلاق دے دے تو اس صورت میں عورت اپنی عدت پوری کر کے اگر پہلے شوہر کے پاس آنا چاہے تو پھر آ سکتی ہے ورنہ نہیں اگر حمل ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہو گی اگر نہیں اگر عورت ایام والی ہے توتو عادت ایاموالی ہوگی ورنہ تین مہینے اس کی عدت ہوگئی اس کے بعد نکاح کر سکتی ہے

رخصتی سے پہلے طلاق دینا کیسا ہے

 

اگر رخصتی سے پہلے ایک طلاق دی طلاق بینا پڑ جائے گی اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہیے تو نکاح گواہوں کے ساتھ اور نے حق مہر کے ساتھ کر سکتا ہے
اگر تین طلاقیں دی رخصتی سے پہلے ہی تو تین ہی پڑ جائیں گی طلاق مغلظہ پڑ جائے گی یہ عورت اس کے لئے حرام ہو جائے گی یہ اس سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ یہ عورت کسی اور سے نکاح
نہ کرے اور وہ شوہر اس کو طلاق دے دے اور یہ اپنی عدت پوری کرے یا وہ شوہر مر جائے اور یہ اپنی عدت پوری کر کے اگر پہلے کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے

 

کیا رخصتی کے بعد طلاق دے سکتا ہے کہ نہیں

 

 

اگر شوہر نے خلوت صحیحہ ہونے کے بعد بغیر کسی شرعی رکاوٹ کے خلوت صحیحہ ہوئی مگر صحبت نہیں ہوئی

شوہر نے بیوی کو ایک طلاق دے دی تو طلاق رجعی پڑ جائے گی عدت کے اندر اندر اس کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگااگر دو طلاق دے دے گا دو طلاقیں رجعی پڑ جائیں گے عدت کے اندر اس کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا اگر جو نہیں کرے گا تو یہ بینا ہو جائیں گی اگر دوبارہ کرنا چاہے نکاح گواہوں کے ساتھ اور حق مہر کے ساتھ دوبارہ کرے گا باقی ایک طلاق کا اس کو حق حاصل ہو گا

مسئلہ نمبر 1 اگر کوئی بندہ بیوی کو کہے میں نے تجھے طلاق طلاق طلاق رجعی دی تو تین طلاق واقع ہوجائے گی لفظ رجعی لگانے کا کوئی اعتبار نہ ہوگا  بلکہ لگانا فضول ہوگا طلاق مغلظہ پڑجائے گی

مسئلہ نمبر 2 اگر شوہر نے بیوی کو کہا کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی

مسئلہ نمبر 3 اگر شوہر بیوی کو کہے میں نے تجھے طلاق دی انشاءاللہ تو طلاق واقع نہ ہوگی جب کہ انشاء اللہ کا لفظ فورن ساتھ کہہ دے ہاں اگر انشاءاللہ کا لفظ کچھ دیر بعد کہا تو طلاق واقع ہو جائے گی

مسئلہ نمبر 4 اگر شوہر نے بیوی کو کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی طلاق دی طلاق دی اگر چہ اس کی نیت کوئی نہ ہو تو تین طلاقیں پڑ جائیں گی چاہے وہ مذاق میں کہے یا سنجیدگی سے کیوں کہ حدیث پاک میں آتا ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کا حقیقت تو حقیقت ہے بھی اور مذاق بھی حقیقت ہے طلاق نمبر دو نکاح نمبر تین آزاد کرنا

مسئلہ نمبر 5 اگر شوہر نے بیوی کو کہا کہ تو اگر شہر جائے گی یا تم ماں باپ کے گھر جاؤں گی تو تمہیں

طلاق اگر وہ جائے گی تو اس کو طلاق پڑ جائے گی ورنہ نہیں

مسئلہ نمبر 6 اگر کسی نے بیوی کو ایک طلاق دی پھر اس نے عدت کے اندر رجوع کرلیا کچھ سال بعد اس نے

دوسری طلاق دے دی ابھی اس کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے لیکن اگر رجوع نہ کیا اور عدت مکمل ہو گئی تو طلاق بینا پڑ جائے گی نکاح کرنا چاہتا ہے تو نئے سرے سے نکاح کرے گا گواہ بھی ہوں گے اور حق مہر بھی اور باقی اس کو ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا وہ بھی اگر دے دی تو طلاق مغلظہ پڑ جائے گی اب اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسری شادی نہ کرے اور شوہر ثانی اس عورت کو طلاق نہ دے اور اس کی عدت نہ گزر جائےa


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.