Walima in Islam Hadith Urdu | importance of walima in islam in urdu | ولیمہ کا مسنون طریقہ | Why is Walima important in Islam?

Spread the love

ولیمہ کا مسنون طریقہ ۔

Walima in Islam Hadith Urdu

رخصتی کے بعد جب ایک رات شب خلوت کے ساتھ گزر گئی تو ولیمہ کی دعوت کرنا سنت ہے ۔ولیمہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ بلا تخلف خیریت کے ساتھ جو چیز میسر ہوجائے اپنے عزیز دوستوں کو رشتہ داروں کو بلا کر کھانا کھلائے ۔ولیمہ کرنا سنت ہے ۔ اگر خاوند اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ ولیمہ خود کر دے تو اس کے پڑوسیوں کو اس کے رشتہ داروں کو چاہیے کہ اپنے گھر سے کھانا بنا کر اس کے گھر لا کر اس ولیمہ کی سنت کو پورا کردیا جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ولیمہ ایسا بھی کیا ہے کہ دستر خوان بچھا دیا اور تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے کہا کہ اپنے اپنے گھر سے کھانا لے آؤں تو صحابہ لے آئے تو پھر تمام صحابہ نے مل کر کھانا کھایا ۔ اس سے بڑھ کر اسلام میں اور کیا سادگی ہو سکتی ہے ۔ البتہ اس کا پورا لحاظ رکھا جائے کہ اس ولیمہ کے اندر امیر لوگوں کو ہی دعوت نہیں دینی چاہیے بلکہ غریب غربا اور دیندار لوگوں کا زیادہ حق ہے
لہذا دعوت کے اندر سب کو جمع کیا جائے اور سب کی حیثیت امیر غریب کی ایک ہی رکھی جائے ۔
مسئلہ ۔
اگر ولیمہ سنت رسول کے علاوہ اور کسی دکھلاو ے ریاکاری کے لئے ہو تو یہ جائز نہیں ہے ۔

میاں بیوی کے حقوق ۔

میاں اور بیوی میں تعلق زیادہ ہونے کی اصل بنیاد ایک دوسرے کے حقوق پورا کرنا ہے ۔ اسی سے جھگڑے ہوتے ہیں اسی سے اشتعال پیدا ہوتا ہے ۔ اسی لئے دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق پورے پورے ادا کریں اور ایک دوسرے کے حقوق کوادا کر نے کی پوری پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر دونوں میں سے کسی کے پاس کوتاہی ہو رہی ہو تو وہ کوشش کرے کہ اسے جلد ہی ختم کر دے ۔

خاوند پر بیوی کے یہ حقوق ہیں ۔

نمبر1 ۔ بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ۔
نمبر 2 ۔ اگر بیوی سے کسی کام میں غلطی ہو جائے تو اس پر نرمی سے کام لینا اپنے آپ کو غصے سے کنٹرول کرنا چھوٹے چھوٹی باتوں سے بچنا اور اس کو پیار سے سمجھا دینا کہ آئندہ اس بات کا خیال رکھیں گے جو آپ کو ناگوار گزرے ۔
نمبر 3 ۔ غیرت میں اعتدال کرنا یعنی کہ نہ تو خوامخواہ بیوی سے لڑے اور نہ اس سے بالکل غافل ہو ۔
نمبر۔ 4 خرچ میں اعتدال کرنا نا تو زیادہ تنگ کرے اور نہ زیادہ فضول خرچی کرے بلکہ خرچ میں میانہ روی رکھے۔
نمبر 5 ۔ حیض اور نفاس کے احکام سیکھ کر بیوی کو سکھانا اور نماز پڑھنے کی دعوت دینا اور بدعات اور رسومات سے منع کرنا ۔
نمبر6 ۔ بقدر ضرورت اس سے جماع کرنا یعنی ہمبستری کرنا ۔
نمبر۔7۔ بقدر ضرورت اس کو رہنے کے لئے مکان دینا ۔
نمبر 8 ۔ کبھی کبھی بیوی کے بہن بھائی اس کے ماں باپ یعنی محرم رشتہ داروں سے ملنے دینا ۔
نمبر 9۔ اس کے ساتھ ہم بستری کی باتیں دوسروں کے ساتھ ظاہر نہ کرنا ۔
نمبر 10 ۔غیر محرم یعنی کزن وغیرہ سے احتیاط رکھنا ۔


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.