Masoor Ki Daal Recipe In Urdu | مسور کی دال کے فائدے | مسور کی دال حدیث

Spread the love

مسور کی دال کے فائدے

 

masoor ki daal recipe in urdu

اس کے بارے میں جتنی بھی احادیث وارد ہیں ان میں سے کسی کی نسبت پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں ہےاس لیے کہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی مروی نہیں ہےجیسا کہ حدیث ہے کہ مسور کی پاکیزگی ستر انبیاء کی زبان مبارک سے بیان کی گئیاسی طرح ایک حدیث یہ ہے جس میں مذکور ہے کہ مسور دل میں نرمی پیدا کرتی ہے اشک آور ہےاور یہ بزرگوں کی غذا ہے
بہر حال جو کچھ بھی اس کے بارے میں مذکور ہے اس میں سب سے اہم اور صحیح بات ہے وہ یہ ہے

masoor ki daal ke fayde in urdu

کہ یہود کی خواہش مسور کی تھی جس کو انہوں نے من و سلویٰ پر ترجیح دیا اس کا ذکر لہسن اور پیاز کے ساتھ قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے بیان کیا ہےاب مسور کی جو طبیعت ہے وہ زنانہ ہےیہ سرد خشک ہے اور دو متضاد قوتیں اس میں پائی جاتی ہیں ایک یہ کہ یہ خانہ کو بستہ کرتا ہےاور دوسری یہ کہ مسہل ہوتا ہےاس کا چھلکا تیسرے درجہ میں گرم خشک ہے یہ چرچراہٹ لانے والی اور مسہل ہےاور اس کا چھلکا ہی اس کا تریاق ہوتا ہے

مسور کی دال حدیث

اسی لیے پسی ہوئی مسور سب سے عمدہ ہوتی ہے معدہ کے لیے ہلکی پھلکی چیز ہوتی ہے زود ہضم ہے نقصان بھی کم کرتی ہےاس لیے کہ اس کا مغز خشک اور تر ہونے کی وجہ سے دیر ہضم ہوتا ہےاس کے کھانے سے سوداء بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے مالیخولیا میں تو بہت زیادہ نقصان دہ ہے اعصاب اور بصارت کے لیے بھی نقصان دہ ہے
خون گاڑھا کرتی ہے سوداوی مزاج والے کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے اس کا کثرت استعمال ان کو بہت سی مہلک بیماریوں میں مثلا وساوس جذام اور میعادی بخار میں مبتلا کرتا ہےاس کے نقصان سے بچنے کے لیے چقندر پالک اور ساگ کا استعمال کیا جائے
تیل کے زیادہ کھانا بھی اس کے نقصان سے واقع ہے

masoor ki daal gosht recipe in urdu

اسی طرح نمک سود (وہ گوشت جس کو نمک اور مصالحہ لگا کر رکھ دیا گیا )مسور سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہےمسور میں میٹھا ملاکر اس کو استعمال کرنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے اس لیے کہ یہ جگر میں سدے پیدا کرتی ہےاس میں شدید خشکی ہوتی ہے اس لیے اس کو ہمیشہ استعمال کرنے سے دھندلاپن ہوتا ہے اور پیشاب کرنے میں پریشانی ہوتی ہے

اور ٹھنڈے ورم بنتے ہیں اسی طرح ریاح غلیظہ بھی پیدا کرتی ہےسب سے عمدہ مسور عمدہ دانے والی سفید رنگ کی ہوتی ہے جو جلد ہی پک جاتی ہےلیکن بعض جاہلوں کا یہ خیال ہے کہ مسور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے دسترخوان کا خاصہ ہےجس کو اپنےمہمانوں کے سامنے خاص طور پر پیش کرتے تھے کھلا ہوا جھوٹ ہےاس لیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ضیافت کے بارے میں اللہ تعالی نے بھنے ہوئے بچھڑے کے گوشت سے ذکر قرآن میں کیا ہے


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.