Roti banane ka tarika | Chapati ka Trikah | روٹی کی تاریخ | Tibe Nabvi

Spread the love

خبز یعنی روٹی

Roti banane ka tarika

 

صحیح بخاری اور مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قیامت کے دن زمین ایک روٹی بن جائے گی جس کو اللہ تعالی اپنے ہاتھ سے جنتیوں کی مہمان نوازی کے لیے اوندھا کرے گا جیسا کہ کوئی سفر میں اپنا زادہ راہ اپنے ہاتھ سے نکال کر لیتا ہےابوداؤد نے اپنی سنن میں حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکو نقل کیا ہے انہوں نے بیان کیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پسندیدہ غذا روٹی سے بنی ہوئی ثرید اورگھی اور کھجور اور ستو سے تیارشدہ ثرید تھی ابوداؤد نے اپنی سنن میں حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس گندم کی روٹی ہو جس میں گھی ملا ہوا ہو اور دودھ میں بھیگی ہوئی ہو ایک شخص کھڑا ہوا اور جاکر ان چیزوں کو تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ گھی کس برتن میں تھا اس نے بتایا کہ گوہ کے ڈبے میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اٹھا کر لے جاؤ

 

علامہ بیہقی نے حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مرفوعاً بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
روٹی کا اعزاز کرو اس کا احترام یہ ہے کہ اس کے ساتھ شوربے کا انتظار نہ کیا جائے یعنی جب روٹی آ جائے تو فورا کھالی جائے

یہ حدیث موقوف ہونے کے زیادہ مشابہ ہے اس کا مرفوع ہونا کہیں سے بھی ثابت نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ماقبل کے مرفوع ہونے کے صحیح ہےاس طرح روٹی کو چھری سے کاٹنے کی ممانعت جس حدیث میں آئی ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ثبوت ملتا ہے بلکہ یہ روایت تو چھری سے گوشت کاٹنے کی ممانعت کے سلسلہ میں ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے

بیہقی نے مزید بیان کیا کہ جب میں نے ابو معشر کی اس حدیث کے بارے میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دریافت کیا
ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گوشت کو چھری سے کاٹ کر نہ کھاؤ اس لئے کہ یہ عجمیوں کاطریقہ ہے

امام احمد نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور نہ ہی یہ محدثین کے نزدیک معروف ہے بلکہ یہ حدیث عمرو بن امیہ اور حدیث مغیرہ کے بھی خلاف ہےحدیث عمرو بن امیہ یہ ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکری کا گوشت چھری سے کاٹتے تھے
اور حدیث مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ ہےکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ مہمان بنے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلو کو بھوننے کا حکم دیا پھر چھری لے کر آپ اس کو کاٹنے لگے

Qurani Wazaif


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.