Shadi Se Pehly Larki ko Dekhna jaiz hai kia | shadi se pehle kya khana chahiye | شادی سے پہلے لڑکے کا لڑکی کو ایک نظر دیکھنا

Shadi Se Pehly Larki ko Dekhna jaiz hai kia | shadi se pehle kya khana chahiye | شادی سے پہلے لڑکے کا لڑکی کو ایک نظر دیکھنا
Spread the love

شادی سے پہلے لڑکے کا لڑکی کو ایک نظر دیکھنا

shadi se pehle kya khana chahiye

 

میرے بھائیو آج کا ہمارا عنوان ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے کا لڑکی کو ایک نظر دیکھنا کیسا ہے ۔ نسبت طے کرنے سے پہلے دونوں ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھ لیں ۔ چناچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ شادی سے پہلے منکوحہ کو دیکھ لو ۔ یعنی جس سے تم شادی کرنے والے ہو اسے ایک مرتبہ دیکھ لو ایک نظر دیکھ لو۔ اس صورت میں امید ہے کہ دونوں کے اندر محبت اور انسیت پیدہ ہو جائے۔ اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات ایسے موقعوں پر لوگ سنی سنائی باتوں پر زیادہ اطمینان یقین کر لیتے ہیں ۔ کوئی بہت اچھا نقشہ ذہن میں قائم کر لیتا ہے پھر بعد میں سامنے آنے پر وہ خوبیاں نظر نہیں آتی تو اس سے پھر لڑائی جھگڑے تک نوبت پہہنچ سکتی ہے ۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہر آدمی کی اپنی اپنی الگ الگ پسند ہوتی ہے بعض اوقات جو باتیں آپ اسے بتا رہے ہیں وہ اس کی پسند ہو یا نہیں ہو۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ ایک نظر دیکھ لیا جائے ۔ اور آج کے دور میں ایسے دیکھنا بہت لوگ بہت برا سمجھتے ہیں ویسے جو مرضی کرتے پھر رہے ہیں لیکن جب دیکھنے کی باری آئی تو اس سے برا سمجھتے ہیں آپ نے فرمایا ایک نظر دیکھ لیا کریں ۔یہ بات درست ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ ایک مرتبہ لڑکی پر نظر مار لیا کرو۔
بقاعدا آپ علیہ السلام نے ایک صحابی سے کہا کہ آپ نے اس لڑکی کو دیکھا جس سے رشتہ کر رہے ہیں تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ نہیں دیکھا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اسے دیکھ لو ۔وہ انصاری لڑکی ہے ( فان فی اعین الاانصاری شئ ).

 


انصار کی لڑکیوں کی آنکھ میں کچھ ہوتا ہے لہذا شرعی آداب کے ساتھ انہیں ایک مرتبہ دیکھ لیں ۔ایک مرتبہ دیکھ لینا جائز ہے ۔لہذا ایک مرتبہ دیکھنا کوئی گناہ کا کام نہیں ہے اور لوگ اس بات پر ایشو بھی نہ بنائیں کہ مسئلہ مسائل عولاما سے پوچھ لیا کریں اور ان سے پوچھ کر اپنی زندگی گزارے تو انشاءاللہ دین کے اندر بھی آسانی ملے گی دنیا کے اندر بھی آسانی ملے گی لیکن لوگ پوچھتے ہیں نہیں ہے تو پھر ایسے ہی ہونا ہے ویسے تو لوگ آج کے معاشرے کے اندر اپنی بہن بیٹیوں کو کالجوں کے اندر سکولوں کے اندر ایسے بھیج دے تے ہیں کہ نہ ان کے سر پر کوئی چادر نہیں ہوتی ہے نہ کوئی صکاف وغیرہ کچھ نہیں ہوتا انہیں ی تو نظر نہیں آتا لیکن جب مسئلہ کی بات آتی ہے تو انہیں شرم اور بے شرمی کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں وہ بے شرمی نظر نہیں آتے جب ہماری بہن بیٹیاں بغیر دوپٹے کے بغیر ۔ محرم کے بغیر گھر سے باہر غیر محرموں کے ساتھ رہتی ہیں وہ نظر نہیں آتا لیکن آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ شادی کے موقع پر ایک نظر دیکھ لیا کریں تو لوگ اسے بہت برا سمجھتے ہیں ۔ تو خدارا جو غلط ہے اسے غلط سمجھیں صحیح کو غلط نہ سمجھے خدا کے لئے اللہ پاک ہم سب کو ان احادیث کے اوپر اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

۔


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.