surah al imran with urdu translation | Surah Al Imran Ka Khulasa | Tafseer Surah Aal-Imran | سورہ آل عمران

Spread the love

سورہ آل عمران

ترتیبی نمبر 3 نزولی نمبر 89

تیسے پارے کے آٹھ رکوع توسورہ بقرہ پر مشتمل تھےاب نویں رکوع سے سورہ آل عمران کا آغاز ہوتا ہے

سورہ آل عمران بالاتفاق مدنی سورت ہےاس میں 20 رکوع اور 200 آیات ہیںسورہ آل عمران کی وجہ تسمیہ :

اس سورت کے اندر چونکہ حضرت عمران کے خاندان کا قصہ بیان کیا گیا ہے اس لیے اس کا نام آل عمران رکھ دیا گیا

اس سورۃ کی فضیلت :

اس سورت کی فضیلت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےجو کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےفرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو روشن سورتیں یعنی سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھا کرو

دونوں سورتوں میں مناسبت :

ان دونوں سورتوں میں بہت قریب قریب مناسبت پائی جاتی ہے

نمبر1 شمس و قمر :

خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں سورتوں کو زهراوین( یعنی دو روشن چیزیں یا شمس وقمر )قرار دینا بھی ان کے درمیان مناسبت کو ظاہر کرتا ہے

مناسبت نمبر دو :

کہ ان دونوں صورتوں میں اہل کتاب سے خطاب ہے

مناسبت نمبر 3

کسی مناسبت یہ ہے کہ سورہ بقرہ میں زیادہ تر یہود کا تذکرہ تھا
جبکہ سورہ آل عمران میں اصل خطاب عیسائیوں سے ہے

اور اسی طرح یہ بھی ان کے درمیان مناسبت ہے کہ دونوں سورتوں کا آغاز حروف مقطعات میں سے “الم” کے ساتھ ہوا ہے

اسی طرح ان کے درمیان ایک مناسب یہ ہے کہ دونوں سورتوں کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت کو بیان کیا گیا ہے

اور ایک مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کے اختتام پر جامع قسم کی دعائیں منقول ہیں

نجران کا عیسائی وفد :

اس سورت کی تقریبا اسی آیات اس وقت نازل ہوئی
جب نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا
اس وفد میں نصاریٰ کے 60 افراد شامل تھے
وفد کے شرکاء نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مباحثہ کیا

اللہ کا بیٹا :
اور انہیں معاذالله!
اللہ کے بیٹا ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں ان آیات سے استدلال کیا ہے
جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کو کلمة اللہ یاروح اللہ قرار دیا گیا ہے

آیات محکمات :

ان کے اس غلط استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیاکہ اللہ کے کلام میں دو قسم کی آیات ہیں

بعض وہ آیات ہیں جو اپنی مراد پر دلالت کرنے میں بالکل واضح ہیں ان آیات کو محکمات کہا جاتا ہے
قرآن کریم کا زیادہ تر حصہ محکمات پر ہی مشتمل ہے

آیات متشابہات :

دوسری قسم کی وہ آیات ہیں
جن کی حقیقی اور یقینی مراد اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیںیا ان میں سے کسی بھی وجہ سے اشتباہ  پایا جاتا ہےایسی آیات کو متشابہات کہا جاتا ہے

جو لوگ حق کے متلاشی ہوتے ہیں وہ ہمیشہ محکمات کی پیروی کرتے ہیں اور جن کے دل میں کجی اور دماغ میں فتور ہوتا ہے وہ متشابہات کی غلط تاویل کرنے اور ان کی مراد تک پہنچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں

کلمتہ اللہ اور روح اللہ :

کلمتہ اللہ اور روح اللہ جیسے الفاظ متشابہات کی قسم میں سے ہیں ان متشابہات کی بنیاد پر شرکیہ عقائد کی عمارت کھڑی کرنا پانی پر نقش بنانے کے سوا کچھ نہیں

بصیرت سے کورا:

توحید اور ایمان کے دلائل بالکل واضح ہیں انکا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو بصیرت سے عاری ہواس کائنات کی ہر چیزیہاں تک کہ خود اللہ تعالی اس کے پاک فرشتےاور نیک علماء توحید کی گواہی دیتے ہیں

اللہ کا پسندیدہ دین :جیسے اللہ تعالی توحید کی گواہی دیتا ہےاس طرح وہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ اس کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام ہےیہود و نصاریٰ کا اس کی حقانیت کے بارے میں جھگڑا کرنا سوائے کفر و عناد کے اور کچھ نہیں

اہل کتاب کے جرائم :

اگلی آیات میں مسلسل اہل کتاب کی مذمت کی گئی ہے اور ان کے جرائم بیان کئے گئے ہیں

ان کے جرائم میں سے ایک یہ ہےکہ انہوں نے انبیاء علیہم السلام کو قتل کیادوسرا جرم یہ ہے کہ خونریزی کیاور تیسرا جرم یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر مظالم ڈھائے ہیں

کافروں کو دوست نہ بناؤ
اسی طرح ان آیات کے اندر مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیںکیونکہ اسلام اور کفر کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے اور کافر کبھی بھی مسلمان کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتا

تین عبرت آموز واقعے:

اگلی آیات میں سورۃ آل عمران تین عبرت ناک قصے بیان کرتی ہے
اور یہ تینوں قصے خوارق عادت کے قبیل سے ہیں اور تینوں اللہ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں

بدترین گمراہی :
پہلا قصہ حضرت مریم علیہاالسلام کی ولادت کا ہے جنہیں عیسائیوں نے اللہ تعالی کی زوجہ اور ان کے بیٹے کو اللہ تعالی کا بیٹا قرار دیا اور یوں بدترین گمراہی کا شکار ہوگیےحضرت مریم علیہاالسلام کے والد:جناب مریم کے والد کا نام عمران تھااور وہ اللہ کے نیک بندے تھےاور آپ کی والدہ کا نام حنابنت فاقوذ تھا
اور آپ صاحب کردار پاک باز خاتون تھیں
ایک لمبے عرصے تک ان کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا
ایک دن ایک پرندے کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہا تھا دیکھ کر دل مچل گیا اولاد کی آرزو پیدا ہوگی
تو حضرت مریم کی والدہ نے نذر مانی اور اللہ کے حضور دامن پھیلاکر درخواست کی
کہ اگر تو مجھے اولاد عطا فرما دے تو میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی
اللہ جل شانہٗ نے دعا قبول فرمائی اور ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوگئی
لیکن اس وقت کا دستور یہ تھا کہ بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکوں کو قبول کیا جاتا تھا لڑکیوں کو قبول نہیں کیا جاتا تھا
اور سب سے بڑا جو سانحہ ہوا وہ یہ کہ نومولود بچی کے والد انتقال کر گئے تھے
لیکن اللہ رب العزت کے یہاں کوئ دستور نہیں
اس لیے اللہ تعالی نےدستور کے خلاف عمران کی زوجہ کی نذر کو قبول فرمالی
اور اپنے زمانے کے بہترین انسان حضرت زکریا علیہ السلام کو بچی کی کفالت اور تربیت کے لیے منتخب فرما لیا
حضرت زکریا علیہ سلام نے بچی کی کرامتیں اور بے موسم کا پھل دیکھا تو ایک دن پوچھا

کہ مریم یہ رات تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے۔۔۔۔؟

مریم علیہا السلام نے جواب دیا کہ
اللہ کے ہاں سے آتا ہے بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے

حضرت زکریا علیہ السلام کی آرزو :

جب زکریا علیہ السلام نے ایک معصوم بچی کا ایمانی جواب سنا
تو ان کے دل میں بھی اولاد کی آرزو جاگ اٹھی
حالانکہ ان کی عمر سو سال سے تجاوز کر چکی تھی اور بیوی بھی بوڑھی ہوچکی تھی
بانجھ تو تھی ہی
لیکن ظاہری اسباب کی مخالفت کے باوجود انتہائی عجز و انکسار کے ساتھ
اپنے رب سے دعا کی کہ
اے میرے رب !
مجھے اپنی خصوصی عنایت سے نیک اولاد عطا فرما بے شک تو ہی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے

بیٹے کی خوشخبری :
اللہ رب العزت نے شکستہ دلی سے کی گئی دعا قبول فرما لی اور ایسے بیٹے کی بشارت سنائی جو چار صفات کا حامل ہو گا

نمبر ایک
کہ پیدا ہونے والا بچہ کلمة اللہ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی تصدیق کرے گا اور آپ پر ایمان لائے گا

دوسری صفت اس کے اندر یہ ہوگی
کہ وہ بچہ علم و تقوی زہد و عبادت میں سیادت کے مقام پر فائز ہوگا

تیسری صفت اس کے اندر یہ ہوگی
کہ وہ انتہائی عفیف ہوگا
قدرت اور قوت کے باوجود عورتوں کے قریب نہیں جائے گا
اور چوتھی صفت یہ ہوگی کہ
وہ انبیاء اور صلحاء کی جماعت کا ایک فرد ہوگا

قدرت الہی کا نمونہ :

تیسرا عبرت آموز قصہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کا ہے

اگر حضرت مریم اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قصہ اس اعتبار سے عجیب اور قدرت الہیہ کا نمونہ تھا کہ ان کے والدین بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے
تو حضرت عیسی علیہ السلام کا واقعہ عجیب ترین ہے کیونکہ آپ کی ولادت والد کے بغیر سراسر معجزانہ طریقے پر ہوئی

مریم علیہا السلام کو بیٹے کی خوشخبری :

جب فرشتوں نے حضرت مریم کو بیٹے کی ولادت کی خبر دی
تو انہوں نے بڑے تعجب سے کہا
میرے ہاں بچہ کیسے پیدا ہوگا۔۔۔؟؟
حالانکہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا

تو اللہ کی طرف سے ان کو یہ جواب دیا گیا کہ
اسی طرح ہو جائے گا کیونکہ اللہ تعالی جو چاہتا ہے پیدا کر دیتا ہے
جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہوجا بس وہ ہو جاتا ہے

یہود کا ایمان قبول کرنے سے انکار :

سیدنا عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے مختلف معجزات عطا فرمائے
لیکن ان معجزات کو دیکھ لینے کے باوجود یہود کو ایمان قبول کرنے کی سعادت حاصل نہ ہوئی

یہودیوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ :

اور انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا عزم کر لیا
دوسری طرف اللہ تعالی نے آپ کو بچانے کی تدبیر کر لی
پھر سب نے دیکھ لیا کہ اللہ کی تدبیر ہی غالب رہی

ارشاد باری تعالی ہے
انہوں نے بھی تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے

یہودیوں کا دعوی ہے کہ ہم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو معاذاللہ سولی دے کر قتل کر دیا

اسی طرح عیسائی کہتے ہیں کہ
انہیں سولی دے کر قبر میں دفن کر دیا گیا تھا تین دن تک وہیں رہے
پھر قبر پھٹی اور آسمانوں پر چلے گئے اور وہ رب کے عرش پر تشریف فرما ہوگئے

ہندوستان کے ایک جعلی نبی کا دعوی :

متحدہ ہندوستان میں ایک مدعی نبوت کی اقتدا کرنے والے فرقے کا دعوی ہے
کہ حضرت عیسی علیہ السلام سولی پر زخمی ہوگئے تھے آپ کو مردہ سمجھ کر قبر میں دفن کر دیا گیا
شاگردوں نے آپ کا علاج کیا جس سے آپ تندرست ہوگئے
پھر آپ ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے
وہیں آپ کا انتقال ہوا

قران کا دعوی :

ان تمام دعووں کے برعکس قرآن کا دعوی اور اہلسنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ
کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا
آپ قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے اور پھر اپنی زندگی پوری فرماکر طبعی موت مریں گے

سورہ آل عمران کے اندر ہے

کہ جس وقت اللہ نے فرمایا میں تجھے اسی وقت موت دوں گا جو وقت موت کے لیے مقرر ہے
اور فالحال میں آپ کو اپنی طرف اٹھا لیتا ہوں
اور میں تجھے کافروں کے الزامات سے پاک کیےدیتا ہوں
اور تیری اتباع کرنے والوں کو قیامت کے دن تک کافروں پر غالب کر دوں گا

مباہلہ کی دعوت :

نجران کے وہ عیسائ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بحث ومناظرہ کے لیے مدینہ منورہ آئے تھے
جب وہ تمام دلائل سننے کے باوجود حق کا اعتراف کرنے پر تیار نہ ہوئے
تو اللہ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی
یعنی یہ کہ تم اپنے اہل و عیال کو لے کر آؤ
میں اپنے اہل و عیال کو لے آتا ہوں
پھر ہم مل کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں
کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو

مباہلہ سے فرار :

عیسائیوں کا یہ وفدجو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا اور اس میں ان کے چودہ انتہائی سربرآوردہ مذہبی رہنماء بھی شامل تھے
ان میں سے کوئی بھی مباہلہ کے لیے تیار نہ ہوا
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیہ دینے پر راضی ہوگئے

ایک کلمہ پر متفق ہونے کی دعوت :

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد سورۃ آل عمران تمام اہل کتاب کو خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی ہوں
سب کو ایک ایسے کلمے پرمتفق ہو جانے کی دعوت دیتی ہے
جس کی تلقین تمام انبیاء علیہم السلام نے کی ہے اور اس کی تعلیم چاروں کتابوں سمیت تمام آسمانی صحیفوں میں دی گئی ہےاور وہ ہے

کلمہ توحید
یعنی لا الہ الا اللہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریںانبیاء علیہم السلام سے عہد :

یہودیوں اور عیسائیوں کی بدعملی و بد دیانتیوں، اور ان کے جھوٹ اور  افتراء کو بیان کرنے کے بعد سورہ آل عمران بتاتی ہےکہ اللہ تعالی نے تمام نبیوں سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر ان کی موجودگی میں خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو تم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ گے
اور اگر تمہاری موجودگی میں وہ نہ آئے تو پھر تمہارے امتی اور متبعین ان پر ایمان لانے کے پابند ہوں گے

تمام امتوں سے عہد :

انبیاء سے جو عہدتھا وہ حقیقت میں ان کی امتوں سے عہد تھامگر افسوس کہ انبیاء کی امتوں نے اس عہد کی پاسداری نہ کی اور تصدیق اور مدد کے بجائے وہ تکذیب اور مخالفت پر تل گئےاور اس آیت کے اندر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدالانبیاء ثابت کیا گیا ہے

ایمان اور کفر دو ضدیں:

تیسرے پارے کے اختتام پر اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہےکہ ایمان اور کفر دو ایسی ضدیں ہیں جو جمع نہیں ہوسکتیںاسی لئے ان لوگوں کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے جو ایمان سے مرتد ہو جاتے ہیں
ضلالت کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیںاور جن کا حالت کفر میں انتقال ہو جاتا ہے

پارہ نمبر 4

نیکی کا کمال؛ محبوب کی قربانی :

سورہ آل عمران میں جن مضامین کو خاص اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہےان میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا مضمون بھی ہےچوتھے پارے کے آغاز میں اس مضمون کی مناسبت سے ایک اہم ہدایت دی گئی ہےوہ یہ کہنیکی کا کمال درجہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ تعالی کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیزوں کو نہ لگایا جائےمطلوب تک پہنچنے کے لئے محبوب کی قربانی اور ایثار ضروری ہےاس کے علاوہ جو اہم مضامین چوتھے بارے میں بیان کئے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں

نمبر1 تحویل قبلہ :

جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو اپنا قبلہ بنالیاتو اس پر اہل کتاب نے بڑا شور وغل کیاوہ کہنے لگے کہ بیت المقدس کعبہ سے افضل ہے اور اسے زمین پر اللہ تعالی کا پہلا گھر ہونے کا شرف حاصل ہے

بیت الحرام کے خصوصیات :

اللہ تعالی ان کی تردید فرماتے ہوئے بیت الحرام کی تین خصوصیات بیان فرماتے ہیں پہلی یہ کہ اس روئے زمین پر کعبہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہےدوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایسی واضح نشانیاں پائی جاتی ہیںجو اس کے شرف اور فضیلت پر دلالت کرتی ہیں جن میں مقام ابراہیم، زمزم، اور حطیم شامل ہیں تیسری خصوصیت یہ ہے کہ جو شخص حرم میں داخل ہو جائے اسے امن حاصل ہو جاتا ہے

شرف والی عمارت :

بعض اللہ والوں کا قول ہے کہ پورے عالم میں کعبہ سے زیادہ معزز و محترم کوئی عمارت نہیں اور اسی طرح اس کی تعمیر کا حکم اللہ رب العزت نے خود دیا تھاکعبہ کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس کا نقشہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بنایااور اسی طرح اس کو تعمیر کرنے والے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تھےاور ان کے ماما اور مزدور کے طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کام کیااسی طرح دنیا بھر میں یہی وہ عبادت گاہ ہے جس کی زیارت کے لئے سفر کرنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے

حج کی فرضیت :

جو شخص سفر وغیرہ کے اخراجات برداشت کر سکتا ہواور وجوب حج کی دوسری شرائط بھی پائی جائیں تو اس پر فورا حج کرنا فرض ہو جاتا ہےبلاعذر تاخیر کرنے سے وہ گناہ گار ہوگا

سب سے پہلی عبادت گاہ :

کعبہ سے پہلے دنیا میں کوئی عبادت گاہ نہیں تھیصحیحین میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا :یارسول اللہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کون سی تعمیر کی گئی
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامسجد حرام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہاللہ سے ڈرتے رہے جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہےاسی طرح اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں
اور آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جائیں ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ سے ڈرنے کا حق یہ ہےکہ اللہ تعالی کی اطاعت کی جائےاس کی نافرمانی نہ کی جائےاسے یاد رکھا جائے
اسے بھلایا نہ جائےاس کا شکریہ ادا کیا جائےکفران نعمت نہ کیا جائے

امت مسلمہ کی فضیلت :

امت مسلمہ ساری کی ساری امتوں سے افضل اور بہترین امت ہےاور اس کے افضل ہونے کی تین وجوہات ہیں

پہلی وجہ ایمان لانا :

دوسری امتوں کے برعکس یہ ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتی ہے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہےامر بالمعروف اور نہی عن المنکر

دوسری اور تیسری جو خصوصیت ہے اس امت کی وہ یہ ہے کہ یہ امت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتی ہےدعوت و تبلیغ اس امت کی فضیلت کا سبب ہی نہیںبلکہ اس امت کی دینی ذمہ داری اور مذہبی فریضہ ہے

امت میں شمار :

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ جس کا دل چاہتا ہے کہ اس کا شمار امت مسلمہ میں سے ہواسے چاہیے کہ وہ اس بارے میں اللہ تعالی کی شرائط کو پورا کرےآپ رضی اللہ تعالی عنہ کا اشارہ اسی آیت کریمہ کی طرف تھا جس میں ملت اسلامیہ کی مذکورہ بالا تین صفات بیان کی گئی ہیں

فضیلت کے حقدار :

جب تک امت میں یہ تینوں خصوصیات موجود رہیں گی وہ فضیلت اور اللہ کی خصوصی عنایت کے حقدار رہے گیاور اگر خدانخواستہ امت کا کوئی گروہ یا فرد ان تین سے محروم ہو گیا تو وہ فضیلت کا حقدار بھی نہیں رہے گا

منافقین اور کفار سے دوستی  منافقین اور کفار سے قلبی دوستی لگانے سے منع کیا گیا ہے
اور اس کے چار اسباب بتائے گئے ہیں پہلا یہ کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتےدوسرا سبب یہ ہے کہ وہ دل سے چاہتے ہیں کہ تمہیں دین اور دنیا کے اعتبار سے مصیبت اور پریشانی لاحق ہواور تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کے چہرے اور ان کی باتوں سے تمہارے لئے بغض اور عداوت ظاہر ہوتا ہےچوتھا سبب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو بغض اور حسد پوشیدہ ہے وہ ان کی اعلانیہ باتوں سے کہیں زیادہ سخت ہے

Para No. 2 – Complete Quran e Pak with Urdu Translation | khulasa e quran para by para (2) |سورۃ البقرہ ( پارہ نمبر 2 )

غزوہ بدر :

منافقوں کو رازدار اور دلی دوست بنانے سے منع کرنے کے بعد غزوہ بدر کا ذکر ہےجسے تمام اسلامی غزوات کا تاج ہونے کا شرف حاصل ہےاس غزوہ کے شرکاء نے جہاں خود جراءت اور بہادری کی انوکھی مثالیں قائم کیںوہیں انہوں نے اللہ تعالی کی قدرت ، اور غیبی مدد کے مظاہر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھےمسلمانوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی تھی اسلحہ نہ ہونے کے برابر تھااس غزوہ سے مسلمانوں کو دو سبق حاصل ہوئے

پہلا سبق یہ کہ جنگ میں فتح صرف اسلحے کی کثرت اور افرادی قوت کی بناء پر حاصل نہیں ہو سکتی
بلکہ اس کی بنیادی شرط ایمان و یقین ،اتباع اور استقامت ہےاور دوسرا سبق یہ ہے کہ جب تک مسلمان حق پر ثابت قدم رہیں گے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہیں گے اللہ کی مدد حاصل رہے گی اور وہ غالب رہیں گے

Janwaron Ke Halal Hone Ke Bare Mein Fatwa | حلال اور حرام پرندوں گوشت

غزوہ احد :

غزوہ بدر کا ذکر سورہ آل عمران میں صرف حوالے کے طور پر آیا ہےورنہ اصل میں یہاں غزوہ احد کا ذکر مقصود ہے جو کہ 55 آیات میں مکمل ہواان آیات میں شکست کے اسباب اور حکمتیں بیان کی گئی ہیںتنبیہ بھی ہے فہمائش بھی ہے تنقید بھی ہے تعریف بھی ہے

شکست کا بدلہ :

تاریخ اسلام سے تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص جانتا ہےکہ غزوہ بدر میں قریش ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئے تھےانہوں نے اس شکست کا انتقام لینے کے لیے بھرپور تیاری کے بعد شوال 3 ہجری میں ابو سفیان کی قیادت میں مدینہ منورہ پر چڑھائی کر دی

قریش کا لشکر :
قریش کا لشکر تین ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھا 200 گھڑ سوار
سات سو زرہ پوش
تین ہزار اونٹ
اور500 عورتیں بھی ساتھ تھیں

اسلامی لشکر 
قریش کے تین ہزار کے لشکر کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف سات سو تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ ابن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کاایک دستہ اپنے عقب کی پہاڑی پر متعین فرما دیااس پہاڑی کو جبل الرماة کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستے کو تاکید فرمائی تھی کہ فتح ہو یا شکست کسی صورت بھی یہاں سے نہ ہٹیں یہاں تک کہ اگر تم دیکھو کے پرندے ہماری لاش نوچ رہی ہیں تب بھی یہاں سے نہ ہٹنا

جنگ کا آغاز :

سپہ سالار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی مجاہدین کو میدان میں اس طرح پھیلا دیا تھا
کہ قریشی لشکر دوبدو مقابلہ کرنے پر مجبور ہوگیا اور اس کے لیے اپنے سواروں کو استعمال کرنا ممکن نہ رہا

انفرادی مقابلوں میں قریش کے آٹھ علمبردار قتل ہوگئےجس سے قریشی لشکر کی ہمتیں پست ہوگئیںحضرت علی حضرت حمزہ اور حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالی عنہ جیسے اسلامی شیروں کے حملے اس قدر شدید تھے کہ مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے

پانسہ پلٹ جانا:

قریشی لشکر کی شکست دیکھ کر جبل الرماة کے تیر اندازوں نے بھی اپنی جگہ چھوڑ دی اور دس مجاہدین کے سوا سب مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئےخالد بن ولید جو کہ اب تک پیچھے سے حملہ کرنے میں ناکام رہا تھااسے سنہری موقع ہاتھ آگیااور اس نے جبل رماة پر موجود تیراندازوں کو روندتے ہوئے زوردار حملہ کردیااسلامی لشکر اس شدید حملے سے غافل تھاادھر جب بھاگتے ہوئے قریشی پیدل چلنے والوں کو اس حملے کی خبر ملی تو وہ بھی پلٹ پڑےاب اسلامی لشکر دوطرفہ حملے کا شکار ہو گیا
یوں بظاہر ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی

جانی نقصان :

اس جنگ کے اندر 22 مشرک قتل ہوئےجبکہ دوسری طرف ستر صحابہ کرام شہید ہوئے سید الشہداء حضرت حمزہ بھی ان میں شامل تھے

ادھوری فتح پر ہی خوشی :

قریشی لشکر اس پوزیشن میں تھا کہ اگر اللہ اس کے دلوں کو پھیر نہ دیتا تو اسلامی لشکر کا مکمل خاتمہ کر سکتا تھالیکن موقع ملنے کے باوجود ادھوری فتح پر ہی اکتفا کرتے ہوئے مکہ لوٹتا ہوا نظر آیا

منافقین کے شر انگیزی :

منافقین نے اپنی فطرت کے مطابق وسوسہ اندازی شروع کی کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو انہیں ہرگز شکست نہ ہوتیاسی لیے پچپن آیات میں غزوہ احد پر تبصرہ کرنے کے بعد 25 آیات میں منافقین کا تذکرہ ہےجو فتنہ و فساد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے

قریش کو غلطی کا احساس :

احد کے شہدا کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی
کہ ابوسفیان روحاء کے مقام پر پہنچ کر اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے کہ
میں جنگ کے اہداف پوری طرح حاصل کیے بغیر لوٹ آیا ہوں
اور اپنے ساتھیوں کی ملامت کی وجہ سے وہ دوبارہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کر رہا ہے

پختہ ارادے اور وفا کے پیکر :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سنتے ہی خود ہی قریشی لشکر کے پیچھے چل پڑے
اور ساتھ یہ شرط بھی لگا دی کہ تعاقب میں صرف انہیں مجاہدین کو اجازت ہے جو کل کی جنگ میں شریک تھےاب اندازہ کیجئے ! صحابہ کرام کے ایمان و یقین اور عزم اور وفا کا کہابھی ابھی 70 شہداء کو دفن کرکے فارغ ہوئے ہیں زخموں اور تھکاوٹ سے نڈھال ہیں لیکن انہوں نے اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہااور انتہائی تیزی سے سفر کرتے ہوئے مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد کے مقام تک جا پہنچے

قریش کی مکہ روانگی :

اللہ تعالی نے مشرکین کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ تیزی سے مکہ کی جانب دفع ہو گئے

غزوہ حمراء الاسد :

اس غزوہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے جنگ میں زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہاان میں سے جو نیک اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے اجر عظیم ہے

اہل ایمان کا تذکرہ :

سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں ان اہل ایمان کا ذکر ہےجو ہر حال میں اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں
زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتےاور اپنے پروردگار سے دعائیں مانگتے ہیں

کامیابی کے اصول :

سورۃ کے اختتام پر کامیابی کے چار اصول بیان کئے ہیں

نمبر ایک صبر :

دین پر جمے رہنا، مشکلات اور مصائب کی وجہ سے دل چھوٹا نہ کرنا

مصابرہ:

دشمن کے مقابلے میں دشمن سے زیادہ استقامت اور شجاعت کا مظاہرہ کرنا

مرابطہ:

دین کے دشمنوں سے مقابلے کے لئے اپنے آپ کو ہمیشہ تیار رکھنا

تقویٰ :

ہر حال اور ہر جگہ اللہ سے ڈرتے رہنا

1>surah al imran with urdu translation

2>Read Surah Al-Imran Online with Urdu Translation

3>Arabic Text with Urdu and English Translation – Surah Al-i’Imran

4>surah al imran ka khulasa

Para No. 2 – Complete Quran e Pak with Urdu Translation | khulasa e quran para by para (2) |سورۃ البقرہ ( پارہ نمبر 2 )


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.