Quran Para 3 (Tilka Rasool) 3rd Para | quran para 3 with urdu translation |Para 3 – تلک الرسل

Spread the love

سورۃ البقرہ (پارہ نمبر 3 )

quran para 3 with urdu translation

اللہ رب العزت کی رسالت کی گواہی :

سورۃ البقرہ میں تشریعی احکام کے ساتھ نبوت اور رسالت کا موضوع بھی بیان ہوا ہے
دوسرے پارے کے آخر میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ خود رب کریم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی

خصائص الانبیاء

اور تیسرے پارے کے آغاز میں ان کا خصائص کا ذکر ہے جو بعض انبیاء علیہم السلام کو رب کریم نے عطا کیےوہ اس طرح کہ کسی کو سیادت اور قیادت عطا ہوئی
تو کسی کو بلا واسطہ همکلامی کا شرف عطا کیا گیاکسی کی تائید واضح معجزات سے کی گئی لیکن ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء پر فضیلت ہےکہ تمام انبیاء علیہم السلام بلند مرتبہ کے باوجود فضل اور شرف میں ایک جیسے نہ تھے بلکہ بعض کو بعض پر فضیلت حاصل تھی

اسی طرح جیسے بعض انبیاء کو دوسرے بعض پر فضیلت حاصل ہےاسی طرح ان کی امتوں کو ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہےاور چونکہ بہت ساری خصوصیات اور امتیازات کی بنا پر ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء پر فضیلت حاصل ہےاس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بھی دوسری تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے

کلام اللہ کی افضل ترین آیت :

انبیاء علیہم السلام کے فضائل اور فرق مراتب کو بیان کرتے ہوئے
یہ سورت ہمارے سامنے اس آیت کو پیش کرتی ہے جو کلام اللہ کے افضل ترین آیت ہے

یعنی آیت الکرسی
جو کہ پچاس کلمات اور دس جملوں پر مشتمل ہے اس میں سترہ بار اللہ تعالی کا ذکر آیا ہے کہیں صراحةًاور کہیں اشارةً

نمرود بن کنعان سے مباحثہ :

تیسرے پارے میں حضرت ابراہیم اور حضرت عزیر علیہما السلام کے قصے بھی بیان کئے گئےابراہیم علیہ السلام کا وہ قصہ جب انہوں نے نمرود بن کنعان جیسے سرکش اور متکبر بادشاہ کے ساتھ بحث کی مردوں کو زندہ کرنے کا منظر :اور اس بارے اندروں قصہ بھی بیان کیا گیاجب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے درخواست کی تھی کہ مجھے مردوں کو زندہ کرنے کا منظر دکھایا جائے

سو سال کے لئے موت :

اسی طرح حضرت عزیر علیہ السلام کے دل میں ایک تباہ شدہ بستی کو دیکھ کر خیال پیدا ہوا تھا کہ نامعلوم اس بستی کو دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا
چنانچہ اسی لیے خود ان پر سو سال کے لئے موت مسلط کر دی گئی پھر انہیں دوبارہ زندہ کیا گیا

مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا :

سورہ بقرہ کے مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہےکہ اس سورت میں پانچ جگہ مردوں کو زندہ کرنے کا موضوع ذکر کیا گیا ہےنمبر ایک اس مقتول کے واقعہ میں جو گائے کا گوشت جسم کے ساتھ لگنے کے بعد اندازہ ہوا

نمبر 2 |بنی اسرائیل کے ان معاندین کے قصّہ میں جنہوں نے رویت باری کا مطالبہ کیا تھااور نمبر 3 اس قوم کے بارے میں جو طاعون سے بچنے کے لئے گھروں سے بھاگ کھڑی ہوئی تھی

نمبر4 حضرت عزیر علیه السلام کے قصے میں

نمبرپانچ ابراھیم علیہ السلام کے قصے میں

ان کے علاوہ سورۃ البقرہ میں جو اہم مضامین بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں

انفاق فی سبیل اللہ :

دین اسلام انسانیت، اللہ کے راستے میں خرچ کرنے ،اخوت، محبت اور فضل ٢ احسان کا دین ہےانسانی فلاح کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی قرآن میں دعوت نہ دی ہواور نیکی کا کوئی ایسا کام نہیں جس کی اسلام نے ترغیب نہ دی ہواسی لیے سورۃ البقرہ میں انداز بدل بدل کر اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس کے آداب بھی بتائے گئے

اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے آداب :

نمبر1 اخلاص کی بنا پر صدقہ

سب سے پہلے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے والوں اور اخلاص کی بنا پر ان کوحاصل ہونے والے ثواب کو اس کاشتکار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو زمین میں ایک دانا بوتا ہے اور اس سے سات بالیاں اگ آتی ہیں اور ہر ایک بالی میں سو سو دانے ہوتے ہیں یوں کاشتکار زمین کو ایک دانہ دے کر اس سے سینکڑوں دانے واپس لے لیتا ہے
یہی حال اس شخص کا ہے جو اللہ کی رضا کے لئے ایک روپیہ خرچ کرکے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں نیکیاں حاصل کر لیتا ہے

نمبر2 دکھاوے کاصدقہ:

اسی طرح وہ شخص جو محض دکھاوے کے لئے صدقہ کرتا ہے اسے اس کسان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہےجو اپنی فصل ایسی چٹان پر بوتا ہے جس پر مٹی کی ہلکی سی تہہ بچھی ہوتی ہےاگر تیز بارش ہو جائے تو مٹی اور بیج دونوں بہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی ساری محنت ضائع چلی جاتی ہے

نمبر تین صدقہ کے بعد دل آزاری :

صدقہ و خیرات کے شرائط اور آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہےکہ مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا ایسے صدقہ خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد دل آزاری کی جائے

نمبر 4 ردی چیز رد ہے :

دوسرا حکم یہ دیا گیا ہےکہ اے ایمان والو اپنی کمائی میں سے اور جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہےاس میں سے بھی عمدہ چیز ہی خرچ کرو اور ایسی ردی چیز اللہ کی راہ میں دینے کا ارادہ بھی نہ کرو جو اگر تمہیں دی جائے تو تم کبھی نہ لوسوائے اس کے کہ تم چشم پوشی کر جاؤ

نمبر 5 اعلانیہ صدقہ اور مخفی صدقہ:

اسی طرح ایک حکم یہ دیا گیا ہےکی اگر تم اعلانیہ صدقہ دو یہ بھی اچھی بات ہےلیکن اگر تم چھپا کر ضرورت مندوں کو دوتو یہ سب سے بہتر ہے تمہارے لیے

سود کی حرمت :

سورہ بقرہ میں جو شرعی مسائل بیان کیے گئے ہیں ان میں ہمارے دور کا ایک اہم مسئلہ سود کا حرام ہونا بھی ہے

سود خور :

اللہ رب العزت نے سور کو اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو جنات اور شیاطین کے اثرات کی وجہ سے خبطی ہوں دیوانہ ہو جاتا ہےدنیا کے اندر بھی سود خور کا حال خبطیوں اور پاگلوں جیسا ہوتا ہےاور کل قیامت کے دن قبر سے بھی ایسے ہی کھڑا ہوگا

سود پر وعید :

اس کے بعد سود پر ایسی وعید سنائی گئی ہے کہ اس جیسی وعید کسی بڑے سے بڑے گناہ پر بھی قرآن پاک میں نہیں آئ چنانچہ ارشاد ہوتا ہےکہ ایمان والواللہ سے ڈرو اور لوگوں پر تمہارا جو سود باقی رہ گیا ہے اگر تم واقعی ایمان والے ہو تو اسے چھوڑ دولیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر تمہارے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے

دو متضاد نظام :

یہاں یہ بات قابل غور ہےکہ قرآن نے صدقہ کے فضائل اور آداب بیان کرنے کے بعدسود کے نقصانات اور تباہ کاریاں بیان کی ہیں اصل میں یہ بتانا مقصود ہے کہ صدقہ اور سود دو متضاد نظام ہیں

صدقہ میں احسان، پاکیزگی اور تعاون کا جذبہ ہوتا ہےجب کہ سود کے اندر بخل، گندگی اور خود غرضی پوشیدہ ہوتی ہے
اسی طرح صدقہ میں دیا ہوا مال واپس لینے کی نیت نہیں ہوتیجب کہ سود کے اندر اصل مال سے بھی زیادہ لینے کی شرط ہوتی ہےاسی طرح صدقہ سے آپس کی محبت بڑھتی ہےجبکہ سود سے باہمی نفرت میں اضافہ ہوتا ہے

صدقہ کرنے والے کے لیے اللہ کی محبت کا اعلان اور مغفرت کا بھی وعدہ ہےجبکہ سود خور پر الله کی لعنت کی وعید کے ساتھ الله سے اعلان جنگ بھی ہےسودکےنفسیاتی،اخلاقی، معاشی اور معاشرتی نقصانات اتنے واضح ہیںکہ اب سود کے حامی دبی دبی زبان سے ان کا اعتراف کرنے لگے ہیں

مالی معاملات :

سود کے حرام ہونے کے بیان کے بعد
قرض ،تجارت ،باہمی لین دین اور رہن کے احکام بیان کئے گئے
اور یہ احکام جس آیت کریمہ میں بیان کیے گئے ہیں وہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ لمبی آیت ہےجس سے ثابت ہوتا ہےکہ قرآن مالی معاملات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہ کہ اسلام دین اور دنیا، عبادت اور تجارت جسم اور روح سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے

اس آیت کریمہ میں جو احکام دیے گئے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں

نمبر1 ادھار :

ادھار کے تمام معاملات میں تحریری دستاویز تیار کر لینی چاہیے

نمبر2 ادهار کی مدت :

جب ادھار کا معاملہ کیا جائے تو اس کی مدت ضرور مقرر کر لی جائے
اور مدت بھی ایسی مقرر کی جائے جس میں کوئی ابہام نہ ہو

نمبر تین رہن :

کہ اگر کسی سفر کی وجہ سے دستاویز کی تیاری ممکن نہ ہو تو رہن رکھ کر بھی قرض دیا اور لیاجاسکتا ہے

نمبر4 تجارت

ہاتھوں ہاتھ تجارت کی صورت میں تحریر ضروری نہیںکیونکہ سورہ بقرہ میں نماز ،زکاة، حج، روزہ، جہاد ،صدقہ، سود، نکاح ،طلاق اور عدت جیسے متعدد شرعی احکام بیان ہوئے ہیں
اس لیے اس سورت کے اختتام پر یہ وضاحت کر دی گئی ہے
کہ اللہ تعالی کسی بھی انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا

ایک جامع دعا :

اسی طرح سورۃ کا اختتام ایکجامع ترین دعا پر کیا گیا ہے
اس میں مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں یوں درخواست کیا کریں

یہ اے اللہ

اگر احکام کی تعمیل میں ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر تک۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1>Al Quran Para 3 – تلک الرسل

2>Holy Quran Para 3 Page 1

3>03 Quran-Wordbyword-Para-3-Urdu-Translation

4>quran para 3 with urdu translation


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.