سیاہ<مہندی>خضاب کی شرعی حیثیت | mehndi lagana kaisa hai

Spread the love

سیاہ  <مہندی>خضاب کی شرعی حیثیت

 

کتم (یعنی نیل)

امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں عثمان بن عبداللہ ابن موہب سے روایت کی انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے موئے مبارک میں سےایک بال دکھایا تو مہندی اور نیل سے رنگا ہوا تھاسنن اربعہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت مذکور ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے عمدہ چیز جس سے تم سفید بالوں کو رنگین بناؤ مہندی اور نیل ہے
صحیح بخاری میں اور صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حناءاور نیل کا خضاب لگایا

سنن ابو داؤد میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک شخص گذرا اس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا آپ نے فرمایا یہ کتناعمدہ ہےاور پھر دوسرا شخص گزرا جس نے مہندی اور نیل کا خضاب لگایا تھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ اس سے بھی عمدہ ہےپھر تیسرا شخص گزرا جس نے زرد رنگ کا خضاب لگا رکھا تھا تو آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ سب سے عمدہ ہےغافقی نے بیان کیا کہ نیل ایک پودا ہے جو میدانی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے اس کا پتہ زیتون کے پتے کی طرح ہوتا ہے اس کی لمبائی قدآدم کے برابر ہوتی ہیں پھل سیاہ مرچ کی طرح ہوتے ہیں جن کے بیچ میں گٹھلی ہوتی ہے اس کو توڑا جائے تو سیاہ ہوتا ہے

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیل کے بیج کو بطور سرمہ استعمال کریں تو آنکھ کے نزول الماء( آنکھ سے پانی بہنے کی بیماری) کو تحلیل کر دیتا ہے اور ہمیشہ کے لئے آنکھ سے پانی بہنا بند ہوجاتا ہےبعض لوگوں کا خیال ہے کہ کتم نیل کے پتے کو کہتے ہیں یہ ایک واہمہ ہے اس لئے کہ برگ نیل کتم کے علاوہ دوسری چیز ہے صاحب صحاح نے لکھا ہے کہ کتم بالتحریک ایک پودا ہوتا ہے اس کو نیل کے ساتھ ملا کر خضاب کے طور پر استعمال کرتے ہیں

اعتراض:

یہاں پر ایک اعتراض ہوتا ہے کہ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال نہیں کیا ۔۔۔؟؟

جواب:

اس کا جواب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے دیا ہے فرمایا کہ حضرت انس کے علاوہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خضاب استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے اور دیکھنے والے نہ دیکھنے والے کے برابر نہیں۔چناچہ امام احمد بن حنبل اور محدثین کرام کی ایک جماعت نے خضاب نبوی کو ثابت کیا ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا انکار کیا ہے

اور اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو قحافہ کے واقعہ میں سیاہ خضاب لگانے سے ممانعت موجود ہے کہ جب ابو قحافہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال بیلے کے پھول کی طرح سفید تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفید بالوں کو بدلو البتہ سیاہ کرنے سے اس کو بچانا اور کتم یہ بال کو سیاہ کرتا ہے لہذا اس سے بھی ممانعت حدیث کی روشنی میں ہونی چاہیے

اس کا جواب یہ ہے ‘:
حدیث میں خالص سیاہی سے ممانعت کی گئی ہے لیکن اگر مہندی میں کتم کو ملا کر استعمال کیا جائے تو کوئ مضائقہ نہیں اس لئے کہ کتم اور مہندی کے خضاب سے بال سرخ اور سیاہ کے مابین ہوتے ہیں نیل کے برخلاف اس لیے کہ نیل سے بال گہرے سیاہ ہو جاتے ہیں

اس کا دوسرا جواب یہ ہے

جس سیاہ خضاب سے ممانعت حدیث میں وارد ہےوہ خضاب فریب دینے والا ہے جیسے کوئی باندی اپنے آقا کو دھوکا دینے کے لیے خضاب کرےیا کوئی عمر رسیدہ عورت اپنے بالوں میں خضاب لگائے تاکہ اس کا شوہر اس کو دیکھ کر دھوکہ میں مبتلا ہو جائےاسی طرح کوئی بوڑھا مرد اپنی عورت کو دھوکا دینے کے لیے بالوں کو کالا کرےتو یہ سب کے سب دھوکا دینے والے اور فریب دینے والے ہیں لیکن جہاں فریب اور دھوکہ کا شبہ نہ ہو وہاں کوئی مضائقہ نہیں جیسے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہماکے بارے میں صحیح طور پر ثابت ہے کہ یہ دونوں سیاہ خضاب استعمال فرماتے تھے
اور اس کو ابن جریر نے اپنی کتاب تہذیب الآثار میں بیان کیا ہے اور اس میں سیاہ خضاب کے استعمال کا ذکر عثمان بن عفان، عبد اللہ ابن جعفر ،سعد بن ابی وقاص، عقبہ بن عامر، مغیرہ بن شعبہ ، جریر بن عبداللہ،عمروبن عاص کے بارے میں کیا ہے
اس کو تابعین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے جن میں عمر ابن عثمان، علی بن عبداللہ ابن عباس،ابوسلمہ بن عبدالرحمن ،عبدالرحمن بن اسودموسی بن طلحہ زہری، ایوب اسماعیل بن معدیکرب غیرہ ہیں


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.