Prayers Timings | islamic prayer times | fajr time | maghrib time | namaz time | نمازوں کے اوقات | fajr time karachi & lahore

نمازوں کے اوقات:

نمازوں کے اوقات کی تین قسمیں ہیں:

1۔ اوقات الصحۃ الاداء:
یہ ان وقتوں کو کہتے ہیں جن میں اگر نماز پڑھی جائے تو نماز صحیح بھی ہو جائے اور ادا میں شمار ہو لیکن قضاء میں شمارنہ ہو یعنی وقت کا کچھ حصہ ایسا بھی ہو جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو اور اس میں ایسا حصہ بھی ہوسکتا ہے جس میں نماز پڑھنا اولی اور افضل اور مستحب ہو۔

نمازوں کے اوقات_2۔ اوقات استج
یہ نماز ادا کرنے کے وقت کا وہ حصہ ہے جس میں نماز پڑھنا مستحب ہے یعنی اس وقت سے آگے پیچھے نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔

3۔ اوقات کراہت:
وہ اوقات کہ جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
اب ذیل میں ہر نماز کے تینوں اوقات کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے۔

نمازوں کے اوقات_ظہر: 

نمازوں کے اوقات_ظہر: 

نمازِظہر کے وقت کی ابتداء بالاتفاق زوال شمس سے شروع ہوتی ہے شروع شروع میں صحابہ کا کچھ اختلاف ہوا تھا۔ بعض زوال سے پہلے بھی ظہر کو جائز سمجھتے تھے لیکن پھر بعد میں اتفاق ہو گیا کہ وقت ظہر زوال سے شروع ہوتا ہے۔ البتہ جمعہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل اور اسحاق کا قول ملتا ہے کہ زوال سے پہلے بھی جائز ہے۔
وقت ظہر کی انتہا میں اور وقت عصر کے ابتداء میں ائمہ کا اختلاف ہوا ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد، صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) اور جمہور کا مسلک یہ ہے کہ جب سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ اس کی ایک مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور امام ابو حنیفہ کی اس مسئلہ میں کئی روایتیں ہیں:
پہلی روایت یہ ہے کہ ظہر کا وقت مثلین تک ہے یعنی جب سایہ دو مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم اور عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ امام صاحب کا قول مشہور قول یہی ہے۔
2۔ امام صاحب کی دوسری روایت اس مسئلہ میں جمہور کے موافق ہے یعنی سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ اس کی ایک مثل ہو جائے ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور عصر کاوقت شروع ہو جاتا ہے۔
3۔ تیسری روایت امام صاحب سے یہ ہے کہ جب سایہ ایک مثل ہو جائے (سایہ اصلی کے علاوہ) تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور عصر کا وقت ابھی شروع نہیں ہو گا بلکہ نمازِعصر کا وقت مثل ثانی کے بعد شروع ہوگا۔ دونوں مثل کے درمیان میں وقت مہمل ہے یہ نہ ظہر کا وقت ہے اور نہ عصر کا۔
4۔ امام صاحب سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ عصر کا وقت تو مثل ثانی ہونے پر شروع ہوگا اور ظہر کا وقت مثل ثانی سے ذرا پہلے ختم ہو جاتا ہے۔
نماز ظہر کا مستحب وقت یہ ہے کہ موسم گرما میں اسے ٹھنڈا کرکے یعنی تھوڑا دیر سے پڑھنا مستحب ہے جب کہ موسم سرما میں کچھ جلدی کرکے پڑھنا مستحب ہے، اس کی دلیل آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ “ابردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم” اور دوسری دلیل حضرت انس کی یہ حدیث ہے کہ “کان رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا كان في الشتاء بكر بالظهر وإذا كان في الصيف ابرد بها” یعنی سردیوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر کو جلدی پڑھتے تھے اور گرمی میں اسے ٹھنڈا یعنی دیر کرکے پڑھتے تھے، اس مسئلے میں یہ حدیث نہایت واضح ہے اور سردی گرمی دونوں موسم سے متعلق حنفیہ کے نظریے اور ان کے مسلک کی تائید ہے۔ 

نمازوں کے اوقات_ عصر:
عصر کی نماز کا وقت جمہور کے نزدیک غروب آفتاب سے ختم ہوتا ہے بعض کے نزدیک عصر کا وقت صرف مثلین تک ہے۔ اور بعض کے نزدیک عصر کا وقت اصفرارِشمش تک ہے۔
عصر کی نماز کا مستحب وقت یہ ہے کہ عصر کی نماز گرمی اور سردی دونوں موسم میں تاخیر سے پڑھنا افضل اور مستحب ہے۔ اس استحباب کی وجہ یہ ہے کہ عصر کی نماز کے بعد نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہذا جتنی تاخیر سے نماز ہوگی اتنا ہی نماز سے پہلے نوافل پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے گا، لیکن اس تاخیر میں یہ خیال رہے کہ اتنی تاخیر بھی نہ ہو جس سے مکروہ وقت میں نماز ادا کرنی پڑے، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ سورج کی ٹکیہ میں تغیر و تبدل آنے سے پہلے پہلے عصر کی نماز پڑھ لینا مستحب ہے، اور بالکل اس وقت میں عصر پڑھنا کہ نگا میں سورج کی ٹکیہ پر جمنے لگیں مکروہ ہے۔ 

نمازوں کے اوقات _مغرب:
مغرب کا وقت سب اماموں کے نزدیک غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔ مغرب کے آخر وقت میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک مغرب کا وقت مضیق (تنگ) ہے یعنی صرف اتنا وقت ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعد طہارت کرکے تین رکعت پڑھ سکے۔ جمہور کہتے ہیں کہ مغرب کا وقت مضیق نہیں بلکہ موسع (کھلا) ہے پھر جو حضرات توسع کے قائل ہیں ان کا بھی اختلاف ہے۔ صاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک شفق احمر (سورج غروب ہونے کے بعد سرخ رنگ کی سرخی) کے غروب تک وقت ہے اور امام صاحب کا مشہور قول یہ ہے کہ غروب شفق ابیض تک وقت ہے۔
مغرب کی نماز کا مستحب وقت یہ ہے کہ مغرب کی نماز کو جلدی پڑھنا یعنی اذان کے بعد تاخیر کیے بغیر پڑھنا مستحب ہے اور اس کو مؤخر کرنا مکروہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہود اس نماز کو تاخیر سے پڑھتے تھے، لہذا اگر ہم بھی تاخیر سے پڑھنے لگیں تو ظاہر ہے کہ یہود کے ساتھ مشابہت لازم آئے گی اور ہمیں ان کی مشابہت سے ہر حال میں بچنا ہے اور بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ مغرب کی نماز کو جلدی پڑھا جائے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ جب تک میری امت کے لوگ مغرب کو جلدی اور عشاء کو تاخیر سے پڑھتے رہیں گے اس وقت تک وہ خیر پر قائم رہیں گے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی مغرب کو جلدی پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔ 

نمازوں کے اوقات_عشاء:
ایک قول کے مطابق مغرب کا وقت ختم ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوگا۔ دوسرے قول کے مطابق غروب شفق احمر کے بعد وقت شروع ہوتا ہے۔ 

عشاء کے آخری وقت میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک عشاء کا وقت رات کے تہائی حصہ تک ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کا ایک ایک قول بھی ایسا ہی ہے۔ بعض کے نزدیک نصف اللیل تک ہے۔ امام شافی اور امام مالک کا ایک ایک قول اس طرح بھی ہے۔ اور احناف کا مذہب یہ ہے کہ عشاء کا وقت طلوع الفجر تک ہے۔
عشاء کی نماز کا مستحب وقت یہ ہے کہ عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کرنا (دونوں موسم میں) مستحب ہے۔ اس کی دلیل آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے ہے کہ “لولا أن أشق على أمتي لأخرت العشاء إلى ثلث اللیل” یعنی اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھتا۔ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد فضول باتوں اور قصہ گوئیوں سے منع فرمایا ہے، اب ظاہر ہے جب عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھی جائے گی تو لوگوں کو اس کے بعد گھر جانے اور گھر جا کر آرام کرنے اور سونے کی فکر ہوگی، نہ کہ گپ شپ مارنے کی، اس لیے اس حوالے سے بھی عشاء کو تہائ رات تک مؤخر کرکے پڑھنا مستحب ہے۔ جبکہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عشاء کی نماز کو گرمیوں میں جلدی پڑھنا مستحب ہے، اس لیے کہ گرمیوں میں چونکہ رات چھوٹی ہوتی ہے اور لوگ جلدی سونے کی کوشش کرتے ہیں، اب اگر عشاء کو مؤخر کرکے پڑھا جائے گا تو بہت سے لوگ جماعت میں شریک نہیں ہوسکیں گے اور جماعت میں لوگوں کی تعداد کم ہو جائے گی، اس لیے گرمیوں میں عشاء کی نماز کو جلدی پڑھنا مستحب ہے۔ 

فجر:

Read more

طلاق سے رجوع کرنے کی صورتیں |Talaq Raji (Revocable Divorce) & Talaq Baín |طلاقِ رجعی میں رجوع کرنے کا بیان

مرض الموت میں طلاق دینے کا بیان:

یہاں پر بیمار سے مراد وہ شخص ہے جو ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ جس سے عام طور پر موت واقع ہو جاتی ہے۔
مسئلہ 01:
اگر کسی شخص نے بیماری کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر اس عورت کی ابھی عدت ختم نہیں ہوئی تھی کہ اسی بیماری میں وہ شخص مرگیا تو شوہر کے مال میں سے جتنا بیوی کا حصہ ہوتا ہے اتنا اس عورت کو ملے گا چاہے ایک طلاق دی ہو یا دو طلاقیں دیں ہوں یا تین اور چاہے طلاق طلاقِ رجعی دی ہو یا طلاقِ بائن سب کا ایک حکم ہے۔ لیکن اگر عدت ختم ہو چکی تھی تب وہ شخص مرا تو عورت کو کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر مرد اسی بیماری میں نہیں مرا بلکہ اس بیماری سے تندرست ہو گیا تھا اور پھر دوبارہ بیمار ہو گیا اور مرگیا تب بھی اس عورت کو کوئی حصہ نہیں ملے گا چاہے عدت ختم ہو چکی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
مسئلہ 02:
کسی عورت نے اپنے شوہر سے طلاق بائن مانگی تھی اور پھر مرد نے طلاق بائن دے دی تو عورت کو اس شخص کی میراث میں کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں ملے گا، چاہے شوہر عدت کے اندر مرے یا عدت کے بعد دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ البتہ اگر شوہر نے طلاق رجعی دی ہو خواہ عورت نے طلاق رجعی مانگی ہو یا طلاق بائن مانگی ہو اور عدت کے اندر شو ہر مر جائے تو پھر اس عورت کو میراث میں سے حصہ ملے گا۔

مسئلہ 03:
اگر کسی شخص نے بیماری کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو گھر سے باہر جائے گی تو تجھے طلاقِ ہائن ہے۔ پھر عورت باہر چلی گئی اور طلاق بائن واقع ہوگئی تو اس صورت میں عورت کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس عورت نے خود ایسا کام کیا جس سے طلاق واقع ہوئی اور اگر شوہر نے یوں کہا کہ اگر تو کھانا کھایا تو تجھے طلاقِ بائن ہے یا پھر یوں کہا اگر تو نے نماز پڑھی تو تجھ کو طلاق بائن ہے۔ اب اگر ایسی صورت میں شوہر عدت کے اندر مر جائے تو عورت کو حصہ ملے گا کیونکہ اب عورت کے اختیار سے طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ کھانا کھانا اور نماز پڑھنا تو ہر صورت میں ضر
مسئلہ 04:
اگر کسی تندرست آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ جب تو گھر سے باہر نکلے تو تجھ کو طلاقِ بائن ہے۔ پھر جس وقت وہ عورت گھر سے باہر نکلی تو اس وقت وہ شخص بیمار تھا اور پھر اسی بیماری میں وہ شخص اس عورت کی عدت کے دوران مر گیا تب بھی اس عورت کو کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
مسئلہ 05:
اگر کسی شخص نے تندرستی کے زمانہ میں اپنی بیوی سے کہا کہ جب تیرا باپ پردیس سے آئے تو تجھ کو طلاقِ بائن ہے۔ اور جب اسکی بیوی کا باپ پردیس سے آیا تو اس وقت شوہر بیمار تھا اور اسی بیماری میں مرگیا تو اس عورت کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ لیکن اگر شوہر نے یہ بیماری کی حالت میں کہا ہو اور پھر اسی بیماری میں عورت کی عدت کے اندر مر گیا تو پھر اس عورت کو حصہ ملے گا۔

Read more

Khula Lene Aur Dene Ka Sharai Tareeqa? | خلع کا بیان | What is Khula in Islam rules?

خلع کا بیان: اگر کسی خاوند اور بیوی میں کسی طرح ازدواجی زندگی میں نباہ نہ ہو سکے اور مرد طلاق بھی نہ دیتا ہوتو عورت کیلئے جائز ہے کہ کچھ مال دے کر یا خاوند نے جو مہر دیا تھا وہ مہر واپس دے کر اپنے شوہر سے کہے کہ اتنا مال لے کر … Read more

Talaq Ki Qismain | kin alfaz se talaq ho jati hai | طلاق کی تعریف اور اقسام | Talaq-e-Baain | Talaq Raji

طلاق کی تعریف: طلاق کا لغوی معنیٰ ہے چھوڑنا۔ اور شریعت کی اصطلاح میں طلاق یا طلاقن یا مطلقہ وغیرہ الفاظ کے ساتھ نکاح کے بندھن کے توڑنے کو طلاق دینا کہتے ہیں۔ طلاق کی اقسام: طلاق کی تین قسمیں ہیں: طلاق بائن (2) طلاق مغلظہ (3طلاق رجعی طلاقِ بائن: طلاق بائن وہ طلاق ہے … Read more

Divorce in Islam (اسلام میں طلاق) | 3 Talaq Ka Masla Kya Hai | طلاق کے مختلف مسائل | what are the kinds of talaq

طلاق کا لغوی معنیٰ ہے چھوڑنا۔ اور شریعت کی اصطلاح میں طلاق یا طلقن یا مطلقہ وغیرہ الفاظ کے ساتھ نکاح کے بندھن کے توڑنے کو طلاق دینا کہتے ہیں ** طلاق بائن کسے کہتے ہیں طلاق بائن وہ طلاق ہے جس میں نکاح بالکل ختم ہو جاتا ہے اور دوبارہ نکاح کیے بغیر شوہر … Read more

صدقہ فطر کی مقدار 2023 | Fitrana Amount 2023 | فطرانہ 2023 | Kaffara and Fidya 2023 | How much is Fidya for Ramadan 2023 in Pakistan

صدقہ فطر کا بیان
صدقہ فطر کس پر واجب ہوتا ہے؟
جومسلمان اتنامال دار ہو کہ اس پر زکوۃ واجب ہو یا اس پر زکوۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری
اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر زکوۃ واجب ہو تو اس پر عید کے دن
صدقہ دینا واجب ہے چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا نہ ہو اور چاہے سال پورا گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو اور اس صدقہ کو شرع میں صدقہ فطر کہتے ہیں ۔

1)مسئلہ کسی کے پاس رہنے کا بڑا قیمتی گھر ہے اور پہننے کے بڑے قیمتی قیمتی کپڑے ہیں اور
خدمت کے لیے دو چار خادم ہیں۔ گھر میں آٹھ دس ہزار کا ضروری سامان بھی ہے جو سب کام میں
آ تا ہے مگر ز یو نہیں ہے اور نہ ہی کچھ روپیہ ہے یا زائد کھ رو پیداور ضرورت سے زائد سامان ہے مگر
وہ ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت سے کم ہے تو ایسے شخص پر صدقہ فطر واجب نہیں ۔
2)مسئلہ بنسی کے دوگھر میں ایک میں خو در ہتا ہے اور ایک خال…
 جاتا ہے تو عیدالفطر کی صبح صادق ہوتے ہی اس پر صدقہ فطر واجب ہو جاتاہے۔

صدقہ فطر کے فائدے :
صدقہ فطر ادا کرنے سے ایک حکم شرعی کے انجام دینے کا ثواب تو ملتا ہی ہے ۔اِس کے ساتھ دو مزیدفائدے اور ہیں ۔اوّل یہ کہ صدقہ فطر روزوں کو پاک صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔ روزے کی حالت میں جو فضول باتیں کیں اورجو خراب اور گندی باتیں زبان سے نکلیں صدقہ فطر کے ذریعے روزے اُن چیزوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔ دُوسرا فائدہ یہ ہے کہ عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوارک کا انتظام ہو جاتا ہے اور اِسی لیے عید کی نماز کو جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دیکھو کتنا سستا سودا ہے کہ محض دوسیر گیہوں دینے سے تیس روزوں کی تطہیر ہو جاتی ہے۔ یعنی لایعنی اور گندی باتوں کی روزے میں ملاوٹ ہو گئی اِس کے اثرات سے روزے پاک ہو جاتے ہیں ۔

Read more

marez check karne ka tarika |بازو ناپ کر تشخیص کرنا |Rohani Ilaj- Online Istikhara

(بازو ناپ کر تشخیص کرنا ) مریض کے دائیں بازو پر بائیں بازو کی بالشت رکھوا کر نشان لگائیں پھر سات مرتبہ چہل کاف پڑھ کر دم کر دیں اور یہ دم تین مرتبہ کریں ۔اگر نشان پڑ جائیں تو یہ جنات کا اثر ہے ۔اگر کم ہو جائے تو یہ جادو کا اثر ہے … Read more

kaly jadu ka pta chalany ka amal |کپڑا ناپ کر تشخیص کرنا | Kalay Jadu Ka Ilaj

(کپڑا ناپ کر تشخیص کرنا ) کپڑا ناپ کر تشخیص کرنے کے بارے میں چند ضروری ہدایات 1)مریض کے جسم کے اوپر والے حصے کا کپڑا لے لیں یعنی مرد کا بنیان یا کرتہ وغیرہ اور عورت کی شمیز یا قمیض ۔ 2)معالج مریض کو ہدایت کرے کے رات کا پہنا ہوا کپڑا اگلے دن … Read more

جادو چیک کرنے کا طریقہ | Mareez Ke Bazo Se Jadu Maloom Kare

Mareez Ke Bazo Se Jadu Maloom Kare (مریض پر دم کرکے تشخیص کرنا ) مریض پر دم کرکے تشخیص کرنے کے بارے میں چند ضروری ہدایات درج ذیل ہیں ۔     1)دم کرتے وقت مریض پاک ہو 2)مریض کے کپڑے پاک ہوں 3)اگر مریض باوضو ہو تو بہتر 4)مریض نے کوئی تعویز نہ پہنا … Read more

گھر میں گوشت اور خون کے چھینٹے آنا اور علاج _Ghar Me Khoon Ke Chinte Aana Kaisa Hai-Blood in the house

گھروں میں خون کے چھینٹے پڑنا) Ghar Me Khoon Ke Chinte Aana Kaisa Hai بعض حاسدین دوست ایسے ہوتے ہیں کہ جو اپنی کسی بھائی کو کسی دوست کو خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے جب یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ ایسےحاسدین دوست دشمن کسی ایسے عامل سے رابطہ کرتے ہیں کہ وہ عامل … Read more