رمضان المبارک کی فضیلت | Roze Ki Ahmiyat Quran ki Roshni Me | Ramzan 2022

Spread the love

رمضان المبارک کی فضیلت

رمضان المبارک قمری مہینوں میں سے نواں مہینہ ہے
اس کی وجہ تسمیہ حدیث میں یہ آئی ہے کہ (فانھا ترمض الذنوب) رمضان یہ مشتق ہے اور رٙمض سے اور رمض کے معنی عربی زبان میں جلادینے کے ہیں
کیونکہ اس مہینے میں یہ خصوصیت ہے کہ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے (بشرط یہ کہ رمضان المبارک کا پورااحترام اور اس کے اعمال کا اہتمام کیا جائے )اس لئے اس کا نام رمضان ہوا ۔
اللہ تعالی نے اس ماہ مبارک کی نسبت اپنی طرف سے فرمائی ہے حدیث مبارکہ میں آتا ہے
(رمضانُ شہر الله) کہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور ظاہر ہے کہ ہر چیز میں نسبت کی وجہ سے منسوب الیہ کی عظمت کے اثرات پیدا ہوتے ہیں
جب اس مہینے کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب فرمایا تو اس خصوصی نسبت سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس کو حق تعالٰی کے ساتھ کوئی ایسا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے سے ممتاز اور جدا ہے
یہی مطلب ہے اس ارشاد کا کے رمضان اللہ تعالی کا مہینہ ہے ورنہ تمام مہینے اللہ تعالی ہی کے ہیں
اور خصوصی تعلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی تجلیات خاص اس مبارک مہینے میں اس درجہ نازل ہوتی ہیں کہ جو دوسرے مہینوں میں نہیں ہوتیں۔
گویا موسلادھار بارش کی طرح اللہ تعالی کی خصوصی تجلیات اس مبارک مہینے میں برستی ہیں
جنہیں اللہ تعالی نے بصیرت کی آنکھیں دی ہیں وہ ان تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں
البتہ جو لوگ دل کی آنکھ سے محروم ہیں وہ اپنی کور باطنی کے سبب ان تجلیات کے دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں

حدیث مبارکہ میں ہے کہ رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس کے پہلے حصے میں اللہ تعالی کی رحمت برستی ہے جس کی وجہ سے انوارو اسرارکے ظاہر ہونے کی قابلیت اور استعداد پیدا ہوکر گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی کثافتوں سے نکلنا آسان ہو جاتا ہے
اور اس ماہ مقدس کا درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے
اور رمضان المبارک کے آخری حصے میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے (بیہقی)

جب اطاعت اور عبادات کے ذریعے انوار و برکات حاصل کرنے کی توفیق بسبب افاضہ رحمت خاصہ خداوندی اس ماہ مبارک میں میسر ہو جاتی ہے
اور اطاعت و فرمانبرداری سے اللہ تعالی خوش ہو کر اپنے بندوں کے گناہوں کی معافی اور مغفرت فرما دیتے ہیں تو دوزخ کی آگ سے آزادی مل جاتی ہے اور جنت میں داخلہ آسان ہو جاتا ہے

یہاں تک کہ اگر رمضان المبارک کے اعمال پر ہمیشگی اور اعمال صالحہ کی پابندی میں تمام ماہ صیام گزار دیا جائے اور آخرتک یہ سلسلہ قائم اور جاری رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق رمضان المبارک کی آخری شب میں سب کو بخش دیا جاتا ہے (احمد)

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے آپ نے فرمایا کہ اے لوگو یقینا تم پر ایک بڑی عظمت والے مہینے نے سایہ کیا ہے
یہ برکت والا مہینہ ہے اس میں ایک رات ایسی ہے کہ اس کے اندر عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے
اللہ تعالی نے اس ماہ کے روزے فرض فرما دیے ہیں اور اس کی راتوں میں نماز ادا کرنا نفل اور سنت قرار دیا ہے جو شخص اس مبارک مہینے میں کسی نفلی نیکی کے ذریعے اللہ تعالی کی نزدیکی چاہے گا وہ اس شخص جیسا ثواب حاصل کر لے گا جس نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے میں فریضہ کو ادا کیا ہو
اور جو شخص اس مہینے میں کوئی فرض ادا کرے گا تو وہ ثواب میں اس شخص کے برابر ہوگا جس نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں ستر فرض ادا کیے ہوں
اور رمضان المبارک وہ مہینہ ہے کہ اس میں صبر کرنا پڑتا ہے نفس کو اسکی خواہشات سے روکا جاتا ہے اور صبر کرنے کا ثواب جنت ہے جنت ملتی ہے
وہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں محتاجوں اور بھوکوں کی جان اور مال کے ساتھ غمخواری کرنی چاہیے اور ایسا مہینہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے اور اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے (بیہقی)
چوںکہ اس ماہ مبارک میں غم خواری اور مواسات کا حکم کیا گیا ہے یہ بھی فقیر اور محتاجوں کے رزق میں وسعت اور زیادتی کا سبب ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی ہے کہ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے اور سرکش جنوں کو بھی بند کر دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بھی کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا
اور ایک آواز دینے والا آواز دیتاہے کہ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کا وقت ہو چکا ہے
اور اے معصیت کے چاہنے والے معصیت سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کو چھوڑنے کا ہے
اور اللہ تعالی کے لیے ہے دوزخ کی آگ سے آزاد کیے ہوئے
یعنی اللہ تعالی آزاد کرتا ہے بہت سے بندوں کو دوزخ کی آگ سے اس ماہ مبارک کی عزت کی وجہ سے اور یہ آزاد کرنا رمضان شریف کی ہر رات میں شب قدر کے ساتھ مخصوص نہیں (ترمذی)

فائدہ
اس مہینے کے اندر شیاطین اور سرکش جنوں کے قید کر دینے میں حکمت یہ ہے کہ وہ روزہ داروں کے دلوں میں گناہوں کا وسوسہ نہ ڈال سکیں اور ان کو معصیت کی طرف نہ بلائیں
یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ لوگ جو گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اس مبارک مہینے میں گناہوں سے بچنے لگ جاتے ہیں اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے لگ جاتے ہیں
اور وہ بعض لوگ جو اس مبارک مہینے میں بھی گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اس میں شیاطین کی پہلی وسوسہ اندازی اور پرانی عادت کا دخل ہوتا ہے
کیونکہ گناہ گاروں کو گناہوں کے کرنے کی عادت پڑی ہوتی ہے اس عادت کی وجہ سے اس مبارک مہینے میں بھی ان سے گناہ ہو جاتے ہیں یا یہ اثر ہے نفس کی قوت داعیہ الی الشر کا کہ نفس گناہوں کی طرف رغبت دلاتا ہے اس لیے گنا ہو جاتے ہیں

شیاطین کے اثر سے گناہ نہیں ہوتے تو جو گناہ اس مبارک مہینے میں ہوتے ہیں وہ نفس کے تقاضا اور اس کی قوت داعیہ الی الشرکے سبب ہوتے ہیں
اور شیاطین کے وساوس کی وجہ سے جو گناہ رمضان المبارک سے پہلے ہوا کرتے تھے ان سے اس زمانے میں لوگوں کو محفوظ کردیا جاتا ہے

اور اس کا ایک جواب استاذالکل حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب دہلوی نور اللہ مرقدہ نے دیا ہے
جس کو صاحب مظاہر حق نے پسند فرمایا ہے
جواب کا حاصل یہ ہے کہ فاسقوں کے بہکانے سے صرف سرکش شیاطین روک دیےجاتے ہیں اور کم درجہ کے شیطان ان کو بہکاتے رہتے ہیں کہ وہ بنسبت اور دنوں کے رمضان المبارک کے دنوں میں گناہ کم کرتے ہیں لیکن کچھ گناہ ان سے ہوتے رہتے ہیں


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.