Amil banne Ka tarika in Urdu & Hindi | Amliyat ka Mahar | Rohani Amliyat Course in Urdu and Hindi |

Spread the love

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
نمبر 1۔
بستر اور برتن اور اشیاء کا استعمال ۔

عامل کے لئے یہ لازم ہے کہ چلہ کشی کے دوران وہ اپنے بستر پر کسی اور کو نہ سونے دے اور نہ ہی کسی اور کے بستر پر سوئے ۔ اپنے استعمال کے برتن وغیرہ کو کسی اور کا ہاتھ نہ لگنے دے اور نہ ہی کسی اور کے برتن کو استعمال کرے ۔ اور جب بھی کوئی شخص کسی چیز کو ہاتھ لگاتا ہے تو صرف اس کے چھو لینے سے اس شخصیت کی خوشبو اس چھوئ ہوئی چیز میں پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس لیے اس بات کی سخت تاکید ہے کے دوران عمل عامل نہ اپنا سامان کسی کو استعمال کرنے دے اور نہ کسی کا سامان استعمال کرے ۔


نمبر 2۔
طہارت کا خیال ۔

چلے کے دوران عامل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی طہارتوں کا خیال رکھے جھوٹ غیبت بد نظری وغیرہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے تاکہ باطنی طہارت سے مالا مال رہے اور ظاہری طہارت کا بھی ہر لمحہ خیال رکھے اہتمام کرے ۔ مثلا ہر وقت باوضو رہے اور بلاناغہ غسل کرے ۔ اور اگر ممکن ہو تو چلے کے دوران روزے سے رہیے ورنہ ہر تیسرے دن روزہ رکھے ۔ یہ بھی اگر کمزوری کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو پیر اور جمعرات کا روزہ رکھے اور عمل کے پہلے اور آخری دن غسل کرے ۔


نمبر 3۔

احرامی لباس اور خوشبو ۔

دوران عمل اگر روزانہ احرامی لباس پہنے تو اس سے عمل کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ لباس جو بھی ہو خوشبو سے معطر ہو اور کوشش کریں کہ دوران عمل سفید لباس پہنے ۔ کیونکہ سفید لباس ہر قسم کے عمل کے لیے بہتر ہے ۔

نمبر 4۔محنت لگن اور ریاضت ۔

عملیات کے میدان میں قدم اتارنے سے پہلے یہ بات ذہن میں اتار لینی چاہیے جس طرح ڈاکٹر اور طبیب بننے کے لئے ایک خاص مدت تک تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح عامل کامل بننے کے لیے محنت و مشقت اور علم و عمل کی کیئ منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں ۔ ورنہ کچھ ہاتھ نہیں لگتا ۔اور کبھی کبھی فائدے کے بجائے زبردست نقصان ہو جاتا ہے ۔ آج کل جو لوگ گلی گلی دھونی رچائے بیٹھے ہیں یہ عمل نہیں ہے بلکہ پیشہ کرنے والے ہیں ۔

اگر آپ فی الحقیقت عامل بننا چاہتے ہیں ۔ تو پھر آپ محنت شاقہ کے لیے تیار رہیں ۔ کیونکہ اس کے بغیر عملیات کا میدان فتح نہیں ہوتا ۔ جو ریاضت اور تقوے سے جان چھڑاتا ہوں اس کو اس میدان میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس کا حق ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو محنت اور عبادت کے عادی ہوں ۔
نمبر 5 ۔

وظائف کی زکات صرف عاملین کے لئے ۔

عملیات اور وظائف کو کتابوں سے جوں کا توں نقل کر دینا کار آمد نہیں ہو سکتا ۔ جب تک کے باقاعدہ ہر عمل اور وظیفہ کی زکوۃ ادا نہ کی گئی ہو ۔ اگر زکو ت کے بغیر کسی عمل میں تاثیر پیدا ہوگئی تو یہ اتفاقی بات ہے اور کسی اتفاقی بات کو اپنا کمال سمجھ لینا یہ نادانی بات ہے ۔

نمبر6 ۔ حلال روزی ۔

کوئی بھی وظیفہ پڑھنے یا عملیات کی زکوۃ ادا کرنے کی شروعات کرنے سے پہلے ان تمام شرائط کو پیش نظر رکھنا ہے جو ہر عا مل کے لئے ضروری ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔ مثلا طہارت کا اہتمام عبادت کا التزام خدمت خلق سچ کسب حلال تزکیہ نفس اور خدا کی مخلوق سے محبت کرنے کا جذبہ ان اوصاف کے بغیر عا مل بنا خطاءً ممکن نہیں ۔

نمبر 7 ۔
معالج کی زندگی کے لئے ۔

کسی بھی عا مل کو کوئی عمل کسی کے نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ روحانی طور پر فائدے کے بجائے نقصان ہوگا ۔ معالج صرف زندگی بچانے کا کام کرتا ہے۔ کسی کی زندگی چھیننے کی کوشش کرنا بلکہ یہ ممکن بھی نہیں یہ معالج کا کام نہیں ہے ۔ منفی عمل کرنے والے عاملین کی دنیا اور آخرت کی زندگی برباد ہو جاتی ہے ۔ اور ان کاکیا ہوا ان کی اولاد کے سامنے بھی آتا ہے ۔

نمبر 8 ۔
قرآنی تعلیمات ۔

افضل تو یہ ہے کہ عامل بننے کا شوق رکھنے والے حضرات حافظ قرآن ہو ۔ لیکن اگر حافظ قرآن نہ ہو تو انہیں چاہیے ۔سورۃ یاسین سورۃ صافات سورۃ مزمل سورۃ جن سورۃ فتح حفظ ہونی چاہیے اور قرآن پاک کو دیکھ کر پڑھنا تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی استعداد رکھتا ہوں یہ لازم ہے ۔

نمبر 9 ۔

حصار لگانا ۔

آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی عادت مبارکہ یہ تھی سونے سے پہلے تعویذات پڑھتے اور اپنے اوپر دم کرتے اور حصار کرتے ۔ لہذا ہمیں بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے عملیات کرنے والا ہمیشہ اپنے دشمنوں کے نرغے میں رہتا ہے رات دن اسے اور اس کے گھر والوں کو خطرہ رہتا ہے ۔ اس لئے حصار لگانا عمل کے لئے ضروری ہے ۔
نمبر10 ۔
جنات کے علاج سے بچنا ۔

جنات کے علاج سے عموما بچنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ بغض اور عداوت میں اور دشمنی رکھنے میں کسر نہیں چھوڑتے ۔ کیونکہ ان کی عمریں بھی لمبی ہوتی ہیں اگر یہ عا مل کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تو ان کی نسلوں کو پہنچاتے ہیں ۔ اور اگر علاج کرنا ہو تو پہلے ان سے بچاؤ کے لئے حفاظتی وظیفہ کرنی چاہیے ۔
نمبر 11 ۔
تکبر اور غرور سے بچیں ۔

تکبر اور غرور سے بچیں کیوں کے تکبر کرنے والا اللہ تعالی کی نگاہ سے گر جاتا ہے ۔ خدا کی مددواعانت ان کو حاصل نہیں ہوتی ۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے ۔ جادوگروں اور جنات سے بات چیت یا مقابلہ کرنے کے لیے نہ تو بڑائی کی جائےاور نہ اپنے اوپر بھروسہ رکھے ۔ بلکہ اجزر ہے اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
نمبر 12 ۔

اپنے دل میں مہمانوں یا مریضوں کا احترام رکھے۔

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اللہ کے کنبے کےساتھ اچھا سلوک کرے ۔ لہذا خدا کی مخلوق کا اپنے دل میں احترام رکھے اور اس بات کا شکر ادا کرےکہ اللہ نے اسے اپنی مخلوق کی خدمت کے لیے چن لیا ۔
نمبر 13۔

جھوٹ سے بچنا ۔

جھوٹ بولنے اور غلط کام کرنے سے اعمال میں بے برکتی پیدا ہوجاتی ہے ۔مریضوں سے ہمیشہ صاف اور سچی بات کہی ہے چاہے بری ہی کیوں نہ ہو ۔ الحق مر یعنی حق کڑوا ہوتا ہے ۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ سچی بات کو کڑوا بنا کر پیش نہ کریں بلکہ اس کا اظہار عاجزی کے ساتھ کے ساتھ کرے جو سننے والے کو برا نہ لگے ۔
نمبر 14 ۔
حرص اور لالچ سے پرہیز ۔

حرص اور لالچ سے اپنے آپ کو روکے رکھے حرص اور لالچ ناپسندیدہ اعمال میں سے ہیں ۔ اور قناعت ایک عظیم دولت ہے ۔ جو عا مل کی عزت کو دونوں جہانوں میں قائم دأم رکھتی ہے ۔لوگوں کے مال پر نظر رکھنا ایک عامل کو ہرگز زیب نہیں دیتا ۔ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہم کو ان شرائط واجبات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے بندے کی خدمت کے لیے قبول فرمائے آمین


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.